You are here
Home > تصانیف > جھلی > طیبہ ضیاء چیمہ کی زندگی کی سچی کہانی ” جھلی” کی دوسری قسط

طیبہ ضیاء چیمہ کی زندگی کی سچی کہانی ” جھلی” کی دوسری قسط

قسط نمبر (2)

طاہرہ لاہور میں پیدا ہوئی ۔ داتا کی نگری میں لاہو ر کے خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔ حضرت علی ہجویری کے نواحی علاقے میں بڑی سی حویلی تھی ۔ طاہرہ بچپن سے ہی عام لڑکیوں سے مختلف تھی۔ گھر کا ماحول روایتی تھا۔ والدین کو طاہرہ کا

” ٹام بوائے” انداز پسند نہ تھا۔ بہن بھائی طاہرہ کو (مائی منڈا) کہہ کر چھیڑا کرتے تھے ۔ اور والدین طاہرہ کو گلی محلے میں کھیلنے سے منع کرتے مگر طاہرہ کے اندر لڑکی پن کا احساس پیدا نہ ہو سکا ۔ محلے کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھی۔طاہرہ بچپن سے ہی نڈر، ذہین اور ضدی تھی۔اس نے اپنا نام بھی خود تجویز کیا تھا۔ طاہرہ کا اصلی نام سکول میں داخلہ کے بعد رکھا جانا تھا ۔ پانچ سال کی عمر تھی جب اس کے والد اسے اسکول میں داخل کرانے گئے اور پرنسپل نے بچی کا نام پوچھا تو والد کی بجائے بچی بول اٹھی کہ” میرا نام طاہرہ “ہے ۔ اس کے والد نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پھر پرنسپل سے بولے” جو یہ بچی کہتی ہے وہی نام لکھ دیں” ۔ گھر جا کر والد نے طاہرہ کی امی نے پوچھا کہ آپ نے اس کے لئے کوئی اور نام سوچ رکھا تھا ، یہ طاہرہ لکھو اکر آگئی ہے ؟ طاہرہ نے والدہ سے کہا”وہ جو خوبصورت والی ڈاکٹر باجی طاہرہ ہیں ناں آپ کی، مجھے وہ بہت پیاری لگتی ہیں”۔امی نےطاہرہ سے کہا، اچھا اب تم کھیل کود کم کرو ،

سکول جانے لگی ہو، پڑھائی میں توجہ دینا تاکہ تم بھی بڑی ہو کر ڈاکٹر طاہرہ بن سکو ۔ طاہرہ نے جب سے ہوش سنبھالا تھا ہر جمعرات اپیڑ امی کے ساتھ داتا دربار جایا کرتی ۔گھر دربار سے زیادہ دور نہ تھا۔ طاہرہ کو دربار کا ماحول بہت پسند تھا ۔ طاہرہ کا بچپن دربار کے صحن میں کھیلتے کودتے ،تبرک کھاتے گزرا۔ خاص طور پر دربار میں بانٹے جانے والے مکھانے طاہرہ کو بہت پسند تھے ۔ طاہرہ کو دربار کے صحن میں دھمال ڈالنے والی ملنگنی سے بھی انس ہو گیا تھا۔ جب وہ دھمال ڈال ڈال کر تھک جاتی تو ایک گوشے میں جا کر بیٹھ جاتی ۔ طاہرہ اس کے پاس جا کر بیٹھ جاتی اور پوچھتی”تمہار ا گھر کہاں ہے”۔ ملنگنی آسمان کی جانب اشارہ کر دیتی اور طاہرہ بھی آسمان کی جانب تکنے لگتی لیکن وہاں تو کوئی گھر نہیں تھا۔ پھر پوچھتی” تمہیں بھوک لگی ہے “۔ ملنگنی طاہرہ کو گھور کر دیکھتی اور پھر اللہ ہُو کرتی ہوئی چلی جاتی ۔ کبھی ہو ملنگنی طاہرہ کو گھو ر کر دیکھتی اور پھر اللہ ہُو کرتی ہوئی چلی جاتی ۔ کبھی وہ ملنگنی دربار کے بازار میں گھومتی ہو ئی نظر آتی اور کبھی

دربار کے کسی گوشے میں بے خبر سوئی پڑی ہوتی ۔ طاہرہ کو لاہور کے امیر شاپنگ سینٹروں کی بجائے داتا صاحب کی گلیوں سے شاپنگ کرنا اچھا لگتا تھا ۔ خوشحال گھرانے کی اس لڑکی کی تمام خواہشات پوری ہوتی تھیں لیکن طاہرہ کو گاؤں کی زندگی متاثر کرتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں اپنی دادی کے پاس چلی جاتی ۔ امی سمجھاتیں کہ گاؤں میں سہولیات میسر نہیں اور تم ابھی چھوٹی ہو، گاؤں جا کر پریشان ہو گی مگر طاہرہ دادی کے پاس جانے کے لیے مچلتی ۔ شہر لاہور کی” مائی منڈا “والی زندگی ، داتا دربار کا ماحول اور دادی کے ساتھ گاؤں میں گزرا وقت طاہرہ کی زندگی کا قیمتی اثاثہ تھا ۔ طاہرہ بڑی ہو گئی مگر اس کے کھیل تبدیل نہ ہوئے ۔ پتنگ بازی، گلی ڈنڈا ،کینچے کھلینے کے علاوہ پٹھو گول گرم ،سٹاپو ،چھپن چھپائی ، ککلی جیسی کھیلیں بھی سہیلیوں کے ساتھ کھیلا کرتی ۔گاؤں جاتی تو اپنی بچپن کی سیہلی ثریا کے ساتھ مل کر مرغیوں کے پیچھے بھاگنا ، چوزوں کو گود میں لے کر پیار کرنا ،ڈیرے جا کر ٹیوب ویل پر نہانا ، باغ سے امرود توڑنا ، درخت پر جھولے جھولنا ، اس کے

محبوب مشغلے تھے۔ ڈیرے جاتے ہوئے گاؤں کے راسے میں قبر ستان پڑتا تھا ، وہاں طاہرہ کے دادا دفن تھے۔ دادی کے ساتھ اکثر قبرستان جاتی، وہاں گندے حلیہ میں بیٹھا ہوا مخبوط الحواس فقیر اسے اپنی جانب متوجہ کر لیتا۔ طاہرہ کم عمری کی وجہ سے فقیر کا گایا ہوا کلام سمجھ نہیں پاتی تھی مگر اس کے قریب جا کر بڑے انہماک سے کلام سنتی رہتی۔ وہ کلام طاہر کے ذہن میں نقتش ہو گیا تھا ۔ مزید بڑی ہوئی تو ایک دن گاؤں سے لاہور آتے ہوئے بس میں اس نے وہ ہی کلام سنا، اس کے بعد وہ کلام جیسے طاہرہ کی روح کی غذا بن گیا ۔

شالا مسافر کوئی نہ تھہوے لکھ جنہاں توں بھارے ہو

تاڑی مار اڈانہ باہو آپے اڈن ہارے ہو

کیتی جان حوالے رب دے ایسا عشق کمایا ہو

مرن تھیں اگے مر گئے باہو تاں مطلب نوں پایا ہو

طاہرہ کو اس کلام کی سمجھ بوجھ نہ تھی مگر ملنگنی کے دھمال کی طرح اسے اس کلام میں عجیب سا لطف محسوس ہونے لگا ۔وقت گزرتا گیا ،طاہرہ بڑی ہوتی گئی مگر اس کا ” ٹام بوائے ” انداز تبدیل نہ ہو سکا ۔ والدین اسے احسا س دلاتے کہ

وہ لڑکی ہے ، بڑی ہو رہی ہے ، گھر سے باہر اور چھتوں پر اچھل کو د معیوب لگتا ہے مگر طاہرہ صنف نازک کے احساسات سے لا تعلق ایک اور ہی جہان میں بستی تھی۔ اپنی بہنوں کی شادیوں پر لڈی ڈالتی، ڈھولک بجاتی، خوب رونق لگاتی۔طاہرہ کی کم عمر ی میں ہی اس کی بہنوں کی شادی ہو گئی تھی ۔ اب طاہرہ گھر میں اکیلی لاڈلی راج کر رہی تھی ۔ طاہرہ عارفانہ کلام اور قوالی کی دلدادہ تھی ۔ لڑکیوں کی طرح افسانے ، ناول ، کہانیا ں پڑھنے سے اسے کوئی شغف نہ تھا ۔ محبت اور رومانس طاہرہ کے روایتی ماحول میں جرم عظیم سمجھا جاتا تھا ۔ طاہرہ سکول سے فاغ ہو کر کا لج چلی گئی مگر بچو ں کا جریدہ پڑھنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔مہینہ بعد جب (ہاکر) اخبار والا اپنا معاوضہ لینے آتاامی اسے رقم ادا کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑاتیں کہ اس لڑکی کا قد ہی بڑا ہو ا ہے ابھی بھی بچوں جیسی ہے۔ اور طاہرہ کی شرارتوں پر اکثر بڑبڑاتیں کہ پتہ نہیں میں کیا کھا کر اس کو پیدا کیا کہ میرے گھر یہ مائی منڈا پیدا ہو گیا، کتنی بار سمجھایا ہے کہ تو لڑکی ہے،لڑکی بن کر رہ مگر اس پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا، نہ کوئی ڈر ہے نہ خوف ۔ (جاری ہے)

نوٹ: قارئین کے اصرار پر طیبہ ضیاء کی کتابوں کو قسط وار شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ فی الوقت ہفتے میں ایک قسط لگائی جائے گی

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы