You are here
Home > خبریں > پاکستان > وزیر اعظم اور ایک وزیر کی تنخوا ہ میں کتنا فرق ہے ؟ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بعد کون کون سی مراعات ملتی ہیں ؟ ایسی تفصیلات جن سے آپ یقیناً لاعلم ہوں گے

وزیر اعظم اور ایک وزیر کی تنخوا ہ میں کتنا فرق ہے ؟ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بعد کون کون سی مراعات ملتی ہیں ؟ ایسی تفصیلات جن سے آپ یقیناً لاعلم ہوں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میں وزیراعظم بننا نہیں چاہتا تھا، میرے اہل خانہ کی بھی یہی رائے تھی۔عارف علوی میرے بہت اچھے دوست ہیں، میرے ڈینٹسٹ بھی تھے اور بہت اچھے صدر بھی ثابت ہوں گے۔


جو شخص جماعت بدلتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا ہے، ایسے لوگ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دنیا بدل گئی، پی آئی اے نہیں بدلی، حکومت یہ کام نہیں کرسکتی، ایئرلائن دنیا کا مشکل ترین کام ہے ،نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نےکہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وزیراعظم بنوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اجلاس میں ہی مجھے وزیراعظم بنائے جانے سے متعلق بتایا گیا تھا جبکہ میری، میری اہلیہ اور میری ہمشیرہ جو سیاست میں بھی ہیں ہم سب کی مشترکہ رائے تھی کہ یہ عہدہ نہیں لینا چاہیے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خواہش نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم کیوں بنا یہ کہانی کبھی کتابوں میں آئے گی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہر سیاست دان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائے لیکن اس وقت حالات ایسے تھے کہ میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتا تھا۔دوبارہ وزیراعظم بننے کا موقع ملنے سے متعلق سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کل جو ماحول ہے اس میں وزیراعظم بننا کوئی معقول بات نہیں۔وزیراعظم ہاؤس سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی سادگی کا دعویٰ نہیں کیا، آپ موجودہ حکومت سے کہیں کہ آپ کو وزیراعظم ہاؤس دکھائیں

جس میں 4 بیڈروم ہیں جو بہت معمولی ہیں،حکومت پاکستان کے پاس اس سے کئی گنا بہتر جگہیں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس ایک دفتر ہے لیکن اس کی رہائش کی جگہ عمارت کا 10 فیصد بھی نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم کی تنخواہ قومی اسمبلی کے وزیر سے آدھی ہے اور وزیراعظم بن کر آپ کی زندگی نہیں رہتی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کی کوئی پینشن نہیں ہے، وزیراعظم کو عہدے پر رہتے ہوئے صرف گاڑیاں اور سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جبکہ صدر کو مدت مکمل ہونے پر حکومت کی جانب سے گھر دیا جاتا ہے۔سابق صدر ممنون حسین کی خاموشی سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، انہیں خاموش رہنا چاہیے، اب عارف علوی صاحب صدر ہیں وہ بھی خاموش ہیں یہ عہدے کا تقاضا ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عارف علوی میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ میرے ڈینٹسٹ بھی تھے اور بہت اچھے صدر بھی ثابت ہوں گے۔سیاسی زندگی کے یادگار وقت سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے موقع آئے لیکن جب 1999 میں گرفتار ہوا تو تب میں نے بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے کہا کہ ایک غلطی جو میں نے نہیں کی وہ جماعت بدلنا ہے کیونکہ جو شخص جماعت بدلتا ہے


وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا ہے، ایسے لوگ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔موجودہ حکومت کی کارکردگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت میں پیٹرولیم، پاور اور فنانس ایسی وزارتیں ہیں جو کام کریں تو ادارے کام کرتے ہیں اور ان وزارتوں میں کارکردگی دکھائی نہیں دے رہی۔ پاناما نہ ہوتا تو وزیراعظم نہیں بنتے اس سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ قدرت کے فیصلے ہیں۔ شیروانی سے متعلق سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 25 برس قبل شیروانی سلوائی تھی کیونکہ بیرون ملک دورے کے لیے شیروانی لازمی تھی جب میں نے وزیراعظم کا حلف لیا تو میں نے شیروانی نہیں پہنی تھی۔سیاسی سفرسے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرا تعلق سیاسی خاندان سے نہیں ہے، میرے والد پاکستان فضائیہ سے وابستہ تھے جس کے بعد کاروبار کا آغاز کیا۔ سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تھا، بعدازاں وہ اوجڑی کیمپ کے حادثے میں شہید ہوگئے، اس میں میرے بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں 13 سال بیرون ملک مقیم رہا جب پاکستان واپس آیا تو حلقے کے عوام نے انتخاب لڑنے کا کہا، انہوں نے مزید کہا کہ مجھے سیاست میں رہتے ہوئے 32 سال ہونے والے ہیں لیکن میں نے کبھی ایسا سوچا نہیں تھا۔سیاست دان نہ ہوتے تو کیا کرتے اس سوال سے متعلق شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں انجینئر تھا، بطور انجینئر امریکا، سعودی عرب پاکستان میں کام کر چکا ہوں، سیاست میں نہ ہوتا تو کسی کمپنی میں کام کررہا ہوتا۔قومی ایئر لائن (پی آئی اے )کی ناکامی سے متعلق سابق وزیراعظم نے کہا کی پی آئی اے اس لیے پیچھے ہے کیونکہ دنیا بدل گئی، پی آئی اے نہیں بدلی، حکومت یہ کام نہیں کرسکتی، ایئرلائن دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы