You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔۔۔ نامور پاکستانی خاتون کالم نگار کی ایک شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔۔۔ نامور پاکستانی خاتون کالم نگار کی ایک شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) بہت تکلیف ہوتی ہے جب بندہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ماضی کو بچھڑتے ہوئے دیکھتا ہے۔ پرانے رشتے پرانے بزرگ پرانی محبتیں شفقتیں آسانیاں الفتیں قربانیاں پرانا زمانہ اور بچپن سے جڑی یادوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ شباب کو ڈھلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ محبوب رشتوں سے جدائی کا درد زندگی کو بے لذت بنا دیتا ہے۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے تو موت کو نعمت گردانتی ہوں۔ موت ہی تو ہے جو بندے کو جدائی و تنہائی سے نجات دلا سکتی ہے۔ معرفت حقیقت کا باب ہے۔ حقیقت بعد از موت کا نام ہے۔ دنیا دھوکہ ہے سراب ہے۔ ابن عربی صوفی بزرگ اور شاعر گزرے ہیں۔ جب علامہ اقبال نے امام ابن تیمیہ کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو وہ ابن عربی سے بدظن ہو گئے۔ انہوں نے 1915ءمیں ابن عربی کےلئے نادانستہ طور پر سخت الفاظ استعمال کئے لیکن جب 1928ءمیں علامہ اقبال نے بطور خود ”فصوص الحکم“ کا مطالعہ کیا تو وہ ابن عربی کی جلالت شان کے معترف ہو گئے۔ پھر اس کے بعد اپنی بقیہ عمر میں اسی عقیدے پر جمے رہے۔ چنانچہ انہوں نے لندن میں مجلس افکار ارسطو پر جو خطبہ 1933ءمیں پڑھا تھا۔ اس میں جب وہ کانٹ کے نظریے پر تنقید کرتے ہیں تو وہاں اس خطبہ میں فصوص الحکم کو بطور حوالہ پیش کرتے ہیں۔ شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ کو شیخ اکبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ تصوف اسلامی میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انہوں نے ہی پیش کیا۔

ان کا قول تھا کہ باطنی نور خود رہبری کرتا ہے۔ ابن عربی کو سمجھنے کے لئے عربی لغت پر عبور چاہئے ورنہ تراجم پر گزارا کیا جا سکتا ہے۔ معرفت کی کتب کے مطالعہ سے بندہ سکالر تو کہلا سکتا ہے لیکن عارف نہیں بن سکتا۔ خالق کے نزدیک عارف کا مقام عجز فقیری اور دنیا سے بے رغبتی ہے۔ جس کو یہ مقام مل جائے خالق اسے واپس بلا لیتا ہے یا اسے دنیا میں ظاہر ہونے سے بچا لیتا ہے۔ باقی کمرشل مال ہے۔ قرآن کی ایک آیت سمجھ آ جائے تو بندے کو ڈپریشن ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن کی اس قسم کا تعلق اس تنہائی سے ہے جو بندے کو حقیقتِ زندگی سے آگاہ کر دیتی ہے۔ دنیا سے دل اچاٹ ہونے لگتا ہے۔ ماضی کو تلاش کرتا ہے جہاں خود سے ملاقات ہو جائے وہیں روحانی مسکن بنا لیتا ہے۔ سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔۔ دیکھیں ہنس ہنس ناری۔۔ اب کے بہار چادر میری رنگ دے ۔۔ پیا رکھ لے لاج ہماری…. کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے ۔۔۔ بھائیوں کو دیے محل دو محلے‘ ہم کو دیا پردیس ۔۔ ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں ۔۔ جد ہانکے، ہنک جائیں ۔۔ ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں ۔۔ گھر گھر مانگی جائیں ۔۔ ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چڑیاں ۔۔ بھور بھئے اڑ جائیں ۔(ش س م)

Leave a Reply

Top