You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > مسلم لیگ (ن) کی صدارت کی شہباز شریف کو منتقلی کا برطانیہ کے اہم ترین لیگی رہنما کی سینیٹ الیکشن میں ناکامی سے کیا تعلق ہے ؟ امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی کا انکشاف

مسلم لیگ (ن) کی صدارت کی شہباز شریف کو منتقلی کا برطانیہ کے اہم ترین لیگی رہنما کی سینیٹ الیکشن میں ناکامی سے کیا تعلق ہے ؟ امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) سابق امریکی صدر باراک اوباما کی اہلیہ اور مقبول سابق خاتون اوّل مشعل اوباما نے صدارتی انتخاب لڑنے سے انکارکردیا ہے۔ مشعل اوباما نے کہا کہ وہ نوجوانوں کیلئے کام کر رہی ہیں، نوجوانوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے کر امریکی صدر بننے کی کوئی خواہش نہیں رکھتیں،

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ اوباما فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے سماجی خدمت اور عوامی میل جول کی مصروفیات جاری رکھیں گی۔۔۔ لیکن پاکستان میں سکھا شاہی کی پیداواروں کی نسلوں میں بھی رعونت کا سرطان گردش کر رہا ہے۔کرپٹ نظام بنانے والے اپنے ہی نظام کے خلاف بات کرتے ہوئے مجرم لگتے ہیں۔ سینٹ الیکشن کی صورتحال کچھ ایسی پائی گئی کہ ایم کیو ایم کی سندھ اسمبلی میں قابل قدر نمائندگی ہے مگر پارٹی ڈسپلن کمزور پڑنے کا فائدہ پیپلزپارٹی نے اٹھایا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے سیاسی سٹرکچر میں ایسی باتیں غیر اخلاقی نہیں سمجھی جاتیں، امریکہ میں بھی ارکان پارلیمنٹ ووٹ دیتے وقت کئی امور مد نظر رکھتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، سیاسی پارٹیاں فنڈز اسی طرح جمع کرتی ہیں کہ چند ٹکٹیں امیر کبیر امیدواروں کو دیدی جائیں تاکہ پارٹی کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ رہنماؤں کو بھی سیاست چلانے کیلئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر پارٹی کو مادی وسائل حاصل کرنے کیلئے ایسے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے جوکہ پارٹی چلانے کیلئے چندہ دے سکیں، چندہ کروڑوں میں ہو سکتا ہے۔

پارٹی اگر کچھ افراد کو اصولوں کی بنیاد پر ٹکٹ دیتی ہے تو کچھ ایسے لوگوں کو بھی برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ جوکہ پارٹی کے مادی وسائل میں حصہ ڈال سکیں جب تک جرمنی جیسا نظام نہیں بنتا جہاں ریاست سیاسی پارٹیوں کو فنڈنگ کرتی ہے اور پارٹیوں کو اپنے اخراجات کیلئے چند افراد پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ جب تک ہم ایسا نہیں کرتے تو نا پسندیدہ ہونے کے باوجود کئی باتیں ہمیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں 61 ارکان ہیں، لیکن سینیٹ الیکشن میں ناراض اراکین واضح طور پر سامنے آئے ، پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جتنے ووٹ پڑے اس میں عددی تعداد 49دکھائی دیتی ہے ، لگتا ہے باقی 12 ووٹ پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو پڑے۔ تحریک انصاف کے لیڈر نے ووٹ نہ ڈال کر ووٹ کی توہین کی ہے۔ اب کس منہ سے سینٹ الیکشن میں سازش و دھاندلی کا الزام عائد کرسکتے ہیں؟ عددی اعتبار سے تحریک انصاف کے پاس 12 نشستیں ہیں جس کے بعد وہ تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور دونوں بڑی جماعتوں سے شدید اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کس طرف جائے گی،

یہ بہت دلچسپ مرحلہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی حمایت کیلئے انہیں 8 آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔واضح رہے کہ پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سینیٹ میں اپنا چیئرمین بنانے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں اور پارٹی رہنماؤں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، پی پی رہنماؤں قیوم سومرو اور فیصل کنڈی نے کوئٹہ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کی حمایت کیلئے ملک بھرمیں سینیٹرزسے رابطے تیزکردیئے ہیں، پیپلزپارٹی نے کم ووٹ رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے بھی رابطوں کافیصلہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قیوم سومرو نے کہا ہے کہ اس باربھی چیئرمین سینیٹ پیپلزپارٹی کاہوگا،انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 آزاد سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کی حمایت کریں گے۔۔ن لیگ بر طانیہ کے رہنما اورنواز شریف سے قر بتیں رکھنے والے زبیر گل کیو ں ہارے ؟ کیا ن لیگ کی صدارت نوازشریف سے شہبازشریف کو منتقل ہو نے کے بعد پارٹی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔۔۔۔؟(ش س م)

Leave a Reply

Top