You are here
Home > کالمز > مکتوب امریکہ > حج بھی مہنگائی کی نذر …. طیبہ ضیاء چیمہ (بشکریہ نوائے وقت)

حج بھی مہنگائی کی نذر …. طیبہ ضیاء چیمہ (بشکریہ نوائے وقت)

حج جیسی فرض عبادت بھی مہنگائی کی سونامی کی زدمیں آ گئی سینما گھروں کی بحالی کے لئے تو اربوں روپے ہیں لیکن حج کے لیے کوئی سبسڈی نہیں ہے۔2019 ملکی تاریخ کا مہنگا ترین حج ہوگا۔ 45 ہزار فی حاجی سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں حج اخراجات میں پچھلے سال کے مقابلے


میں 1 لاکھ سے زائد اضافہ ہوگا۔ رواں سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی عازمین حج پر جائیں گے، ایک لاکھ 7 ہزار پاکستانی سرکاری سکیم جبکہ 76 ہزار سے زائد عازمین پرائیویٹ سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔حج درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے حکومت حج اپنے خرچے پر کراتی تھی اور اس مرتبہ عازمین کو خود خرچہ کرنا پڑے گا۔ قرآن کی وہ آیات اور احادیث سامنے لائی جارہی ہیں کہ جن میں حج کی فرضیت صرف صاحب استطاعت لوگوں کے لئے ہے نہ تو حکومت حج مفت کراتی تھی اور نہ ہی کبھی عازمین پر بڑا احسان کیا گیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حج بہت سے حکومتی محکموں کے لیے آمدن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ حج سیزن شروع ہوتے ہیں آپ ہر بینک کے باہر ایک فلیکس ضرور دیکھیں گے کہ حج درخواستیں یہاں جمع کروائیں دراصل حج درخواستیں جمع کرنے کی صورت میں ایک بڑی رقم عازمین سے وصول کی جاتی ہے جو کہ کئی ماہ تک ان بنکوں میں موجود رہتی ہے۔ حکومت عوام کا یہ پیسہ استعمال کرتی ہے اور جن کی درخواست نہیں نکلتی پھر ان کو کافی بڑے پراسیس کے بعد واپس کیا جاتا ہے۔اس کی مثال یوں بھی لے لیں کہ آجکل عمرہ کے اشتہارات دیکھے جاسکتے ہیں جن میں 21 دن کے لیے عمرے کا خرچہ ایک لاکھ کے قریب بتایا جاتا


ہے۔اگر چالیس دن کے لیے حج ہونا ہو تو آپ اس خرچے کو ڈبل کر سکتے ہیں یعنی کہ دو لاکھ اگر حکومت تین لاکھ کے قریب بھی وصول کرتی ہے تو یہ کوئی احسان نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی خاص رعایت کی جاتی ہے۔ بلکہ ان اخراجات میں بھی حکومت کو کچھ بچت ہی ہوتی ہے کیونکہ ماضی کے چند سال حکومت نے پیسے واپس بھی کیے تھے اور کبھی سوچا پی آئی اے حج آپریشن سے کتنے کروڑ روپے کماتی ہے اور حج کی ٹکٹ عام دنوں سے کس قدر مہنگا ہوتا ہے۔کیا حج کے لئے جانے والی فلائٹ میں کوئی خاص فیول استعمال ہوتا ہے کہ جو یہ ٹکٹ ایک لاکھ روپے سے زیادہ تک پہنچ جاتا ہے۔دوسری بات یہ کہ حج کے حوالے سے صاحب استطاعت کی بحث وہ لوگ کر رہے ہیں کہ جو حکومتی عیاشی کے لئے بھی دلائل دیتے ہیں کیا حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کے لیے بھی کوشش کی ہے۔30 گاڑیوں کے پروٹوکول اور پرائیویٹ جہازوں میں بیرون ملک سفر پر اخراجات کا بھی کوئی حساب لے گا۔ حج حکومت کے لئے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ بنتا ہے۔ دیہات اور دور دراز علاقوں کے لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں جس سے حکومت کے کئی محکمے بھاری آمدن کماتے ہیں۔ عازمین حج کے لیے عمارتوں کے حصول اور ٹرانسپورٹ کے ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کی بدعنوانیاں ہوتی ہیں اور یہ


سب بڑے آفیسر اور سیاستدان مل کر اپنے رشتہ داروں کی مدد سے پیسہ کماتے ہیں۔ ریاست بہت سے دوسرے شعبوں کو سہارا دینے کے لئے اور عوامی مفاد میں کئی منصوبوں کو سبسڈی فراہم کرتی ہے تو ایک اسلامی ملک میں ایک اہم ترین رکن کی ادائیگی کیلئے سہولیات کی مد میں اگر کچھ اخراجات کرنا بھی پڑ جائیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ سرکاری حج سکیم میں زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ دلچسپی لیتے ہیں جن کے پاس پرائیویٹ حج کے اخراجات نہیں ہوتے۔ کیا حکومت نے فنکاروں کے لئے ہیلتھ کارڈ اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کیں کیا صحافیوں وکلاء واپڈا۔ ایف بی آر۔ یونیورسٹیوں۔ اور بہت سے دیگر محکموں کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور دیگر سہولیات کی مد میں اخراجات نہیں کئے جاتے۔ اس وقت کیوں نہیں دلائل دئیے جاتے کہ یہ سب لوگ اپنے خرچے سے ترقیاتی کام کروائیں اپنے خرچے سے پلاٹ خریدیں۔ حکومت ان کو کسی بھی قسم کی سہولت سرکاری خرچے پر فراہم نہیں کرے گی۔ حج اخراجات اور سبسڈی کی بحث وہی لوگ کر رہے ہیں کہ جنہیں عید قربان کے موقع پر جانوروں کی خریداری سے تکلیف ہوتی ہے اس وقت انہیں غریب یاد آ جاتے ہیں لیکن جب ان کے کچھ تہوار آتے ہیں ویلنٹائن


ڈے ہو نیوایئر نائٹ ہو یا کوئی بھی ایسا ایونٹ تو اس وقت کروڑوں کے اخراجات اور بڑی بڑی پارٹیاں سب کچھ قبول ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج سبسڈی کی بحث ہی فضول ہے کیونکہ کوئی سبسڈی یا کوئی رعایت دراصل دی ہی نہیں جاتی بلکہ بہت سے سرکاری محکمے اس حج آپریشن سے کروڑوں روپے کماتے ہیں شاید اس بار آمدن میں کچھ کمی ہونے کا خطرہ تھا جس کے لیے اخراجات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔اللہ اور دیارِ حبیب نے دلوں میں وہ محبتیں ، الفتیں اور چاہتیں بھر دی ہیں کہ مسلمان اپنا پیٹ کاٹ کر اور برسوں روپیہ روپیہ جوڑ کے بھی اس سفر کے لیے زادِ راہ اکٹھا کرتے ہیں۔ ان کی زندگی بھر کی آرزؤں اور سانسوں میں یہ سفر جاری رہتا ہے۔برسوں وہ اس نگری کے خواب دیکھ کے جیا کرتے ہیں۔ ان کی محبتوں پر وار کرنا مناسب بات نہیں۔کیا حکومت نے اپنی تمام فضولیات ترک کر دی ہیں کہ اب اسے حج سے بھی سبسڈی واپس لینا ضروری ہو گیا ہے؟ ایک طرف قوم کا کروڑوں روپیہ حکومتی پروٹوکولز پر وزرا کی فوج ظفر موج پر خرچ ہو رہا ہے، اربوں روپے سینماؤں پر خرچ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ تو ایسے میں مسلمانوں کی عبادت کے بنیادی رکن کو ان کے لیے مشکل بنا دینا


کیسے روا ہو سکتا ہے؟پاکستان اسلامی ریاست ہے۔حج سبسڈی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ حج کے سفر کے حقیقی اخراجات میں اضافہ کئی وجوہات کی بنیاد پر ہوتا ہے جن میں سے بعض وجوہات کا عازمین حج سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کو اگر براہ راست عازمین حج پر بم کی مانند گرا دیا جائے تو یہ سراسر نالائق مینجمنٹ کی سزا حجاج کو دینے کے مترادف ہے۔ جن لوگوں نے سال بھر یا زندگی بھر رقم بچا کر رکھی تھی وہ یکایک حکومتی فیصلوں کے تحت کم ہو کر رہ گئی ہے اور اس کی تلافی کے مطالبے کو سبسڈی کا نام دیا جانا ہی غلط ہے۔ یہ تو کرنسی کی قیمت کی چوری کے تدارک کا مطالبہ ہے اور اس کو حکومت کا یہ کہہ کر رد کردینا کہ سبسڈی نہیں دے سکتے کسی طور پر مناسب نہیں۔ یہ بھی مدنظر رہے کہ سفر و قیام و طعام کے اصل اخراجات اگر عازمین ہی اٹھائیں مگر کئی طرح کے بالواسطہ یا بلاواسطہ کرایوں اور ٹیکسوں کی مد میں اگر اسلامی ریاست کچھ وسائل فراہم کرتی ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ کیا لازمی ہے کہ پی آئی اے اور دیگر حکومتی ادارے حج ہی کو بزنس کا ذریعہ بنائیں؟ کئی پراجیکٹس میں حکومت ڈالر کی بڑھتی ہوئی ممکنہ قیمت کو پہلے سے ایک مخصوص سطح پر لاک کر لیتی ہے۔یہ سب کچھ حکومتیں فری مارکیٹ پر نہیں چھوڑتیں تو حج ہی کے ساتھ یہ سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟ سب کاموں کے لئے حکومتی وسائل حاضر ہیں ماسوائے حج انتظامات کے لئے اور اس معاملے میں ریاست اپنی معاشی نا اہلی چھپا نا چاہتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ رواں سال مہنگا حج اس ریاست میں ہونے جا رہا ہے جس کے حاکم وقت نے مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ ریاست مدینہ میں غریب کے لئے مدینہ طیبہ کا سفر مشکل بنا دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Top