You are here
Home > منتخب کالم نگار > شادی، آبادی اور کویت!۔۔۔روزنامہ نئی بات

شادی، آبادی اور کویت!۔۔۔روزنامہ نئی بات

سردیوں میں شادیوں کا رش ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے، ایک ایک دن میں کئی کئی شادیاں بھگتانی پڑتی ہیں، سردیوں کی شادیوں کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے جبکہ گرمیوں میں ہونے والی اکثر شادیاں پسینے میں بہہ جاتی ہیں، اِس بارسردیوں میں دوستوں، عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کی اتنی شادیاں تھیں یوں محسوس ہورہا تھا جیسے حکومت نے


یہ سال شادیوں کا آخری سال قرار دے دیا ہے۔ اِس کے بعد شادیوں پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی، ویسے جِس طرح تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے میں سوچ رہا تھا ہماری حکومت اگر حج کے اخراجات بڑھا سکتی ہے، شادیوں پر پابندی بھی شاید لگادے کہ آبادی کنٹرول کرنے کا اِس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نظر نہیں آتا، اُس کے بعد فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان بھی یہ بیان جاری کرنے کے قابل ہوجائیں گے ”حکومت نے لوگوں کو شادیاں کرنے کی اجازت دینے کا کوئی ٹھیکہ نہیں لے رکھا، وزیراعظم عمران خان صاحب نے تو صِرف اور صِرف قومی مفاد میں شادیاں کی تھیں۔ اور یہ کام ہوسکتا ہے مستقبل میں بھی وہ کرتے رہیں، ویسے بھی وہ صِرف شادیاں کرتے ہیں جبکہ لوگ شادیوں کے بعد کئی کئی بچے بھی کرتے ہیں جویقیناً ”فضول خرچی“ کے زمرے میں آتا ہے اور شدید ترین مالی مشکلات کا شکار حکومت ایسی ”عیاشیوں“ کی اجازت نہیں دے سکتی “….میں سوچ رہا تھا ہمارے پیارے اسلام نے جِس طرح چارشادیوں کی اجازت دی ہے اُسی طرح بچوں کی تعداد بھی فِکس کردی جاتی بے شمار مسائل یا کم ازکم آبادی کا مسئلہ ضرور حل ہوجاتا۔ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کو ہمارے ہاں ”عین عبادت“ یا کم ازکم ” کارثواب“ ضرور سمجھا جاتا ہے، اُوپر سے ہمارے اکثر مولوی صاحبان اِس”آیت“ کی آڑ میں ”تم رزق کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل مت کرو“لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے پر مائل بھی کرتے ہیں، ….اب اِن لوگوں خصوصاً ”عقلمندمولویوں“ کو کون سمجھائے کہ معاملہ صِرف رزق کا نہیں ہے، رزق کا وعدہ یقیناً اللہ نے فرمایا اور بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اولاد کے دیگر فرائض بھی ہوتے ہیں جو والدین کو ہی پورے کرنے ہوتے ہیں، والدین اگر دِل سے یہ محسوس کریں یہ فرائض مالی لحاظ سے یا کِسی اور لحاظ سے وہ پورے کرنے کے قابل نہیں یقیناً اُنہیں اپنی چادر کے مطابق پاﺅں پھیلانے چاہئیں، اور چادر کا غیرضروری استعمال کرکے بچوں کے ڈھیر نہیں لگادینے چاہئیں، اگر کوئی چادر مسلسل بچے پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہو اُس کا کوئی اور استعمال کرلینا چاہیے، ….


کل میں نے ایک دوست سے پوچھا ” آپ کے کتنے بچے ہیں؟“۔وہ بولا ”اُوپروالے کی مہربانی سے دس ہیں“ ،….میں نے پوچھا ”آپ کے اُوپر رہتا کون ہے جو مسلسل مہربانی کری جارہا ہے ؟“۔….بہرحال میں شادیوں کی بات کررہا تھا بیچ میں آبادی کی بات آگئی، اصل میں اِس بار سردیوں میں شادیوں نے مت ہی ماردی تھی۔ یہ ”سلسلہ شادیہ“ ہنوزجاری ہے، اِسی وجہ سے اِس سال دسمبر میں میرے محترم ومحسن بھائی ندیم اشرف نے حسبِ معمول کویت آنے کی دعوت دی، میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا بہت سے قریبی رشتہ داروں کی شادیاں ہیں جس میں میری شرکت اُتنی ہی ضروری ہے جتنی کِسی شادی میں دلہا، دلہن کی شرکت ہے، یہاں مجھے بڑا دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے۔ 1997ءمیں ،میں جب گورنمنٹ ایف سی کالج میں انتظامی امور کا انچارج پروفیسر تھا ہمارے ایک مالی کی چُھٹی کی درخواست میرے پاس آئی۔ اُس نے لِکھا تھا ”جناب عالیٰ…. مورخہ 25دسمبر کو میری اپنی شادی ہے جِس میں میری شرکت بہت ضروری ہے لہٰذا مجھے ایک ہفتے کی رخصت عنایت فرمائی جائے “ ….مجھے اُس کی معصومیت پر بڑی ہنسی آئی اور میں نے ایک ہفتے کی رخصت کی بجائے اُسے دس دِن کی رخصت دے دی وہ چُھٹی کاٹ کر آیا کہنے لگا ”سرجی، ویسے ایک ہفتے کی رخصت بھی زیادہ تھی، آپ نے ایسے ہی خوامخواہ تین دِن اپنی طرف سے شامل کردیئے“ ،….بہرحال برادرم ندیم اشرف سے میں نے کہا میں اگر شادیاں چھوڑ کر کویت چلے گیا بہت سے عزیز ورشتہ دار مجھ سے ناراض ہوجائیں گے، اِس لیے اِس سال مجھے معافی دے دیں۔ اُنہوں نے فرمایا ”ہم آپ کو سب کچھ دے سکتے ہیں معافی نہیں دے سکتے“ ۔….اُن کی اِس محبت یا آفر پر ظاہر ہے میں رشک ہی کرسکتا ہوں، اور تو کچھ کرنہیں سکتا۔ سب سے زیادہ اہم اور ضروری شادی میرے لاڈلے بھتیجے احمد جاوید کی تھی جو میرے محترم بھائی میاں عادل رشید کا اکلوتا صاحبزادہ ہے اور وہ مجھے اپنے اکلوتے صاحبزادے راحیل بٹ کی طرح عزیز ہے۔ اُس کی شادی کے کچھ انتظامات ذاتی طورپر مجھے کرنے تھے، میں ندیم اشرف سے مسلسل معذرت کررہا تھا میں کویت نہیں آسکتا۔ اُنہوں نے وزیراعظم کویت کی خصوصی منظوری سے میرا ویزہ بھی حاصل کرلیا ہوا تھا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کویت کے ویزے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔


میرے لیے یہ صورت حال بہت پریشان کن تھی ایک طرف بھتیجے کی شادی تھی دوسری طرف سگے بھائیوں سے بڑھ کر ندیم اشرف کا محبت بھرا اصرار تھا، …. خیر بہت سوچ بچار کے بعد طے یہ پایا میرے ویزے میں ایکسٹینشن حاصل کرلی جائے تاکہ میں ضروری مصروفیات نمٹانے کے بعد چلا جاﺅں۔ مگر پھر یہ ہوا میاں عادل رشید کے اکلوتے ماموں کا اچانک انتقال ہوگیا اور اُن کے صاحبزادے احمد جاوید کی شادی کی تاریخ آگے چلی گئی، گویا کویت جانے میں سب سے بڑی جو رکاوٹ تھی وہ دور ہوگئی۔ اُس کے بعد برادرم ندیم اشرف جو انتہائی مخلص ،رحم دِل اور دوست نواز انسان ہیں نے میرے لیے 8جنوری کی قطر ایئرلائن کی ٹکٹ کنفرم کرواکر مجھے واٹس ایپ پر سینڈ کردی۔ ٹکٹ پر صرف تاریخ (8جنوری) لکھا تھا، دِن نہیں لکھا تھا، میں نے اپنے طورپر حساب لگایا تو 8جنوری کو بدھ کا روز بنتا تھا۔ چنانچہ میرے ذہن میں بدھ پکی ہوگئی۔ منگل کی صبح میں اپنے بیٹے سعدبٹ کی یونیورسٹی کی فیس کا ووچر فِل کررہا تھا، میں نے اُس پر 7جنوری لکھا، وہ بولا ”بابا آج 8جنوری ہے “۔ میں نے کہا ”بیٹا 8جنوری کل ہے کیونکہ 8جنوری کو میری فلائیٹ ہے“ …. اُس نے قریب پڑا اخبار اُٹھا کر مجھے دکھایا تو میرے ہوش گم ہوگئے کیونکہ اُس روز واقعی 8جنوری تھی اور میری فلائیٹ مِس ہوچکی تھی۔ میں نے فوراً برادرم ندیم اشرف سے رابطہ کیا، وہ سمجھے میں شاید دوحہ ایئرپورٹ سے بات کررہا ہوں جہاں میرا 45منٹ کا ٹرانزٹ تھا۔ میری بات سُنے بغیر وہ کہنے لگے ”بس آپ جلدی سے آجائیں ہم بھی آپ کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کے لیے نکل رہے ہیں۔میں نے اُن سے گزارش کی ہرکام میں اللہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔ میں تو پہلے ہی اِس برس کویت آنے سے مسلسل معذرت کررہا تھا۔ ویسے بھی میرے کویت کے ویزے کی انٹری ڈیٹ ختم ہونے میں ایک دن باقی رہ گیا ہے“ ….وہ میری ساری گزارشات خاموشی سے سنتے رہے اور ”اچھا دیکھتے ہیں“ کہہ کر فون بند کردیا، آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا ہوگا اُنہوں نے مجھے واٹس ایپ پر اگلے روز 9جنوری کی ٹکٹ سینڈ کردی !!

Leave a Reply

Top