You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > میاں صاحب نے لندن کیا کرنے جانا ہے۔۔۔؟

میاں صاحب نے لندن کیا کرنے جانا ہے۔۔۔؟

میاں صاحب نے لندن کیا کرنے جانا ہے۔۔۔؟ بیوی بائو جی کا انتظار کرتے کرتے دم توڑ گئیں۔ سیاست کی خاطر بیمار بیوی کو آئی سی یو میں چھوڑ کر چلے آئے۔ مشیران نے بھٹو بننے کے خواب دکھائے تھے۔ فوج مخالف بیانئے لکھ لکھ کر دینے والے خوشامدی اب کس غار میں روپوش ہیں ؟باپ کو بھٹو اور بیٹی کو بے


نظیر بھٹو بننے کا یقین دلایا۔ خوشامد چاپلوسی اور خوش فہمی کی ایسی فضا بنا دی گئی کہ باپ بیٹی کینسر کی مریضہ ماں اور اہلیہ کو چھوڑ کو وطن لوٹ آئے۔اور نتیجہ میں میاں صاحب اور بیٹی کو جیل میں قید کر دیا گیا۔ باپ سے بیٹی کی قید برداشت نہ ہوسکی اور زبان بندی کی شرط پر باپ بیٹی کو جاتی امرا بھیج دیا گیا۔انہی دنوں سابق خاتون اوّل اور میاں صاحب کی اہلیہ وفات پا گئیں۔باپ بیٹی کا فوج مخالف نفرت آمیز بیانیہ بھی بند ہو گیا اور سیاست بھی ٹھنڈی پڑ گئی۔ الیکشن میں ناکامی کے زخم نے مزید ڈیپریشن میں مبتلا کر دیا۔ بیٹی کو زبان بندی کی ضمانت کے سبب جیل سے نجات مل چکی ہے لیکن میاں صاحب کو بھٹو بنانے کے لئے پھر جیل بھیج دیا گیا۔ ناسازی صحت کی بنیاد پر میاں صاحب کو چند روز سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہر طرف خبر گرم ہے کہ میاں صاحب لندن جانے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں مگر میاں صاحب کا بیان بھی آگیا کہ انہیں جیل واپس بھیجا جائے۔افواہ پھیلانے والوں سے کوئی پوچھے میاں صاحب نے اب لندن کیا لینے جانا ہے ؟ لندن جب اہلیہ کو شوہر کی اشد ضرورت تھی باپ بیٹی نے سیاست کو بیوی اور ماں پر فوقیت دی۔لندن میں بیوی تو اب انتظار نہیں کررہیں البتہ الطاف حسین والی طرز سیاست کی امید ضرور ہے۔میاں صاحب لندن سے اپنی مرضی سے نکلے تھے لیکن پاکستان کی شاہراہوں سے پوچھتے پھرتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا ؟ اب جب جیل سے نکال کر ہسپتال ڈالا تو جیل واپسی کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کی قسمت میں بھٹو کی سیاست نہیں لکھی۔


جلا وطنی کا دوسرا دور شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے سفارشی بڑے تگڑے ہیں۔ پہلے سعودی عرب کی سفارش چھڑا کر لے گئی ،اب ترکی کی سفارش آڑے آرہی ہے۔شریف خاندان کے پرانے سعودی دوست وفات پا چکے اور نیا بادشاہ عمران خان کی حکومت سے بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔البتہ شریف برادران کے ترکی کے ساتھ کاروباری ٹھیکے سانجھے ہونے کے سبب صدر طیب اردگان کی سفارش مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ویسے بھی ستر سالہ بیمار شخص کا رسک انصافی سرکار اپنے سر کیوں کر لے گی۔سیاست ایسی ظالم چیز ہے کہ سیاستدان کے ہر قول وفعل پر شبہ کیا جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے جس نے موت جیسی نعمت بنائی ورنہ انسان کی منفی سوچ اور عمل کا کوئی اینڈ نہ ہوتا۔اگر موت نہ ہوتی تو اس دنیا کا نقشہ کیا ہوتا۔موت کا ڈر درندہ صفت انسان کو بھی کسی نہ کسی روز بندہ بنا دیتا ہے لیکن خدا نے موت نہ بنائی ہوتی تو یہ دنیا یہ لوگ یہ خلق خدا کا رویہ کیسا ہوتا۔ موت کی کڑوی حقیقت کے باوجود کہ ایک دن مرنا ہے اور سب مال اولاد اثاثے ادھر ہی دھرے رہ جانے ہیں ، انسان خود غرض حریص لالچی ظالم بے خوف بے دیں‘ بے ضمیر ہو جاتا ہے اور اگر خدا نے موت نہ رکھی ہوتی تو سوچ لیں پھر انسان کیاہوتا۔ حضرت انسان کی ہوس کا عالم کیا ہوتا۔ اس کے ظلم کا نقشہ کیسا ہوتا۔ اس کا نفس کس قدر ہولناک ہوتا۔اس کی طمع و حرص کتنی وحشیانہ ہوتی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے موت جیسی نعمت عطا کی ورنہ یہ دنیا وہ ہوتی جس کی جھلکیاں ہم روز دیکھتے ہیں پھر توانسان کی فطرت بد کی پوری پوری فلم دیکھنے کو ملتی ۔ خوف خدا موت کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ مال اور اولاد کو چھوڑ جانے کا شعور موت کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔پاکستان کے حکمرانوں سے انصاف کی امید رکھنا خوش فہمی کے ساتھ مذاق ہے۔پاکستان میں حکمرانوں سے لے کر نچلے طبقات تک بے انصافی کی ایسی ایسی مثالیں قائم ہیں کہ بندہ بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے ” لگتا ہے تجھے مرنا نہیں “۔۔۔؟جس کا بس چلتا ہے دوسرے کی حق تلفی اور دو نمبری سے باز نہیں آتا۔ با اختیار طبقات کی بے انصافیاں قابل دید ہی نہیں قابل عبرت بھی ہیں۔ الا ما شا اللہ سیاستدان ڈھیٹ ہو چکے ہیں۔ خودداری اور عزت نفس نام کی شے اپنے ہاتھوں سے دفن کر چکے ہیں۔ ہر چیز یہاں بکتی ہے۔ ضمیر بک جائے تو پھر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے۔ اس معاشرہ کا کوئی ادارہ دیکھ لیں ، الا ما شا اللہ بے ضمیر بنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ بے انصاف معاشرہ کے ساتھ پروردگار انصاف کرنے پر آئے تو ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ خدا کا خوف اٹھ چکا۔ ہر چیز الٹ پلٹ ہو کر رہ گئی ہے۔ جن خوشامدیوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں انہیں بھی نواز دیا جاتا ہے اور


با صلاحیت نوجوان افراد پیروں پر کھڑے ہونے کو ترس رہے ہیں۔ میڈیا کا ہی حال دیکھا جائے تو اداکاراینکر بن گئے ہیں اور صحافی روزگار کی تلاش میں ہیں۔فلم ٹی وی کے فنکار صحافی بن جائیں تو صحافی کہاں جائیں؟ اس بے انصاف معاشرے میں سفارش اور گھٹیا کردار سے مفادات اور شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے‘ لیکن عزت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو ادارہ دیکھو بے انصافی اور کرپشن کی عبرت ناک مثال ہے۔ جس کا اختیار چلے وہ ناجائز کام بھی حیران کن طریقے سے کروا لیتا ہے اور جس کا کوئی سننے والا نہیں اس کا جائز کام بھی ہونا بھی ناممکن ہے۔اس بے انصاف معاشرے میں وہی کامیاب ہے جو اپنے ضمیر کی میت دفنا چکا ہو۔میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر ،گوا ہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا۔ہم ایک بے انصاف معاشرے میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں اس لئے ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ سیاست کی اصول پرستی کا یہ عالم ہے کہ جن لوگوں پر جھوٹ بولنے اور جعل سازی کرنے کے الزامات ثابت ہو چکے ، پارٹیاں انہیں ٹکٹ دیتی ہیں اور معاشرے کی بے ضمیری کا یہ عالم ہے کہ لوگ انہیں ووٹ دے کر اپنا مقدر ان کے سپرد کر دیتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ووٹر کو پوری طرح علم ہوتا ہے کہ وہ جس شخص کو قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کر رہا ہے وہ ہر شرعی عیب سے آلودہ ہے، اس نے دن دیہاڑے قوم کو لوٹ کر دولت بنائی ہے، وہ دن رات جھوٹ بولتا، غلط امیدیں دلاتا اور جھوٹے وعدے کرتا ہے، وہ علاقے کے تھانے دار کا ٹاؤٹ بھی ہے اور اس نے چند غنڈے بھی پال رکھے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ اسے ووٹ دیتے ہیں۔ کیا یہ ایک مردہ ضمیر معاشرے کی علامت نہیں؟ظلم کرنے والے اپنے لئے انصاف اور رحم کی توقع کیوں کر رکھ سکتے ہیں ؟ سیاست کے دلدل میں جو گیا اسی رنگ میں رنگا گیا۔ ظلم بے انصافی سیاست کی دنیا میں معمول سمجھا جاتا ہے۔ میاں صاحب نے طاقت کے نشے دیکھے ہیں ،ان کے بیان میں اب بھی طاقت کا زعم بولتا ہے۔ ہسپتال سے جیل واپس جانے کی بات اچھی ہے کہ اب لندن جا کر کریں گے بھی کیا ؟ اہلیہ تو بائو جی کی راہ تکتے تکتے اس دنیا سے جا چکیں۔

Leave a Reply

Top