You are here
Home > منتخب کالم نگار > صحافت و سیاست کے روگ….روزنامہ نئی بات

صحافت و سیاست کے روگ….روزنامہ نئی بات

سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے ماذاخسر العالم با نحطاط المسلمین ( مسلمانوں کے زوال سے دنیا کو کیا نقصان ہوا؟) میں لکھا ہے : ’’ غیر ذمہ دار اخبار نویس اور فحش نگار ادیب اور افسانہ نگار اپنے حقیر مادی فوائد کے لیے قوم میں اخلاقی طاعون پھیلاتے ہیں۔‘‘


علی میاں کے زمانے میں ابھی چینل عام نہیں ہوئے تھے، لہٰذا اخبار نویسوں کے ذیل میں اب اینکروں کو بھی شامل سمجھئے۔ جن میں پیش پیش حسین و جمیل نو خیز لڑکیاں ہیں کہ ان کے بے حجاب چہروں کی بہت قیمت پڑتی ہے۔ دسمبر 1971 ء میں پاکستان دولخت ہو گیا ۔ بعض دانشور اس کی ذمہ دار نہرو کی پستری اندر گاندھی کو ٹھہراتے ہیں، کوئی شیخ مجیب کو غدار قرار دیتا ہے تو کوئی اس کو جنرل یحییٰ اور بھٹو کے گٹھ جوڑ کا شا خسانہ قرار دیتا ہے۔ لیکن شاید ہی کسی نے اس پہلو پر غور کیا ہو کہ اس سانحہ فاجعہ کا ذمہ دار اخبار نویسوں کا ایک ٹولہ بھی تھا ۔ ہاں یہ منّ و بھائی، نذیر ناجی ، صفدر میر ، عباس اطہر ، محمود شام، اسلم سکھیرا، اے ٹی چوہدری ’’ زینو ‘‘، عبد اللہ ملک ، نثار عثمانی، حسین نقی اور دیگر بہت سے صحافی حضرات تھے جو اقتدار مطلق کے شدید حریص ذوالفقار علی بھٹو کی آتش بیانیوں اور الزام تراشیوں کو جلی سُرخیوں اور جھوٹ میں لپٹے تبصروں کے ساتھ شائع کرتے تھے۔ بھٹو کے اسلامی سوشلزم پر فدا ہونے والے یہ صحافی ان کی طبقاتی نفرت اور افترا پردازی پر مبنی منفی سیاست کو بڑھاوا دیتے رہے۔ کوئی بھٹو کی بے لگام خواہشات پر قد غن لگانے کی بات نہیں کرتا تھا ، کوئی اس راز سے پردہ نہیں اٹھاتا تھا کہ دن کے وقت عوامی جلسوں میں غریبوں کے غم میں گھلنے والا بھٹو رات کی تنہایوں میں بلا نوش جرنیلی ٹولے ’’ یحییٰ ، حمید اور پیر زادہ ‘‘ سے ملاقاتین کیوں کرتا ہے۔ بھٹو اور مجیب دونوں منفی اور علاقائی سیاست پر عمل پیرا تھے۔ بھٹو کا مغربی پاکستان میں صحافتی ڈنکا بجتا تھا مگر مشرقی پاکستان میں ان کی پی پی پی آٹے میں نمک بھی نہیں تھی۔ اس کے بر عکس مجیب نے بنگالیوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا مغربی پاکستان میں ان کی عوامی لیگ کوئی وزن نہیں رکھتی تھی۔


اس لیے ترجمان حقیقت سید ابو الا علیٰ مودودی نے اکتوبر 1970 ء میں نہرو پارک ( سنّت نگر لاہور) کے جلسے میں بر ملا انتباہ کیا تھا کہ ’’ اگر دو علاقائی جماعتیں عوامی لیگ اور پی پی پی نے انتخابات میں ملک کے دونوں بازوؤں میں الگ الگ اکثریت حاصل کرلی تو پاکستان کے متحد رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی ۔ ‘‘ لیکن مذکوری بالا صحافتی ٹولے نے بھٹو کے حق میں ایسی فضا باندھ رکھی تھی کہ کوئی عقل و دانش کی بات سُننے کو تیار نہیں تھا ۔ لیکن ایک حقیقت مولانا مودودی کی نگاہ سے بھی اوجھل رہی کہ میڈیا میں دو علاقائی جماعتوں کے اٹھائے ہوئے طوفانِ کذب و افتراء کا راستہ دائیں بازو کی جماعتوں ( مسلم لیگوں، جمیعت العلمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کے انتخابی اتحاد ہی سے روکا جا سکتا ہے جبکہ الگ الگ پرواز سے ملک کے پہلے عام انتخابات کا میلہ دو علاقائی جماعتیں لوٹ لیں گی۔ پھر وہی ہوا مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی جماعت نے 162 میں سے 160 نشستیں جیت لیں ، جبکہ بھٹو مغربی پاکستان کی 138 قومی نشستوں میں سے 81 نشستیں جیت کر اس صوبے کی نمائندگی کے دعویدار بن بیٹھے اور پھر دونوں کی باہمی ٹکراؤ کی سیاست نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ مغربی پاکستان میں مجموعی ووٹروں کی 37 فیصد حمایت سے زیڈابے بھٹو نے عوامی نمائندگی کا پرچم لہرا دیا تھا جبکہ مقابلے میں 63 فیصد ووٹ مسلم لیگوں اور دینی جماعتوں میں بٹ کر ضائع ہو گئے۔


الیکشن کے بعد بھی ملک کو ٹوٹنے سے روکا جا سکتا تھا بشر طیہ صحافتی کھڑ پیچ حق شناسی اور حقیقت بیانی سے کام لیتے اور بھٹو صاحب قومی اسمبلی کے ایوان سے بالا بالا حکومت میں حصہ وصول کرنے کی ضد نہ کرتے۔ انہوں نے ڈھاکہ جا کر مجیب کے ساڑھے پانچ نکات تو مان ہی لیے تھے، پھر وہ لاڑ کانہ پلان کے تحت قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس(ڈھاکہ، 3 مارچ 1971 ء ) کے بائی کاٹ کی روش پر یہ کہتے ہوئے کیوں چل نکلے کہ ’’ جوڈھا کہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے ۔ ‘‘ بجائے اس کے کہ عباس اطہر بھٹو کے اس غیر جمہوری اعلان پر نقد کرتے، انہوں نے ’’ آزاد ‘‘ اخبار میں اس پر یہ سرخی جما کر اسے دو آئشہ کر دیا کہ ’’ اُدھر تم ، ادھر ہم ! ‘‘ بھٹو کے اس اعلان ( 28 فروری 1971 ء ) نے بالفعل ملک کے دو لخت ہونے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ 26 مارچ 1971 ء کا ٹکاخانی فوجی آپریشن اور 13 روزہ جنگ دسمبر کے بعد سقوط ڈھاکہ کا المیہ تو بھٹوی اعلان کا لا بدی تکملہ تھے۔ مارچ 1971 ء میں بھٹو نے بھی کہہ دیا تھا کہ ’’ملک میں دو وزیر اعظم ہوں گے ‘‘ اور پھر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے آغاز پر بھٹو نے ڈھاکہ سے کراچی آ کر بیان داغا تھا: ’’ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا ۔ ‘‘ پاکستان ٹوٹ رہا تھا مگر صحافتی ٹولہ بھٹو کے منفی بیانات پر ودھائیاں دے رہا تھا ۔ بھٹو کے ’’

دمادم مست قلندر ‘‘ جیسے بوگس نعروں نے مطلع سیاست کو کثیف اور دھواں دھار کر دیا تھا ۔اب عمران خان کو جس طرح بر سر اقتدار لایا گیا ہے، اس سے بھٹو کو اقتدار میں لانے اور ان کے سویلین چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بنائے جانے کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ جس طرح بھٹو کو انتخابات 1970 ء میں اپوزیشن لیڈر کا جمہوری رول ملا تھا مگر انہوں نے یہ رول ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا ، اسی طرح عمران خان کو انتخابات 2013 ء میں جیتی ہوئی 27 مرکزی نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کا رول ادا کرنا تھا مگر وہ نادیدہ طاقتوں کے اشارے پر انتخابی دھاندلی کا جھوٹا راگ الاپنے لگے اور اسلام آباد میں 126 دن کا دھرنا دے کر حکومتی مشینری کو مفلوج اور ملکی معیشت کو جام کرنے پر تل گئے اور جھوٹے دعوے کرتے رہے۔ ان کے ’’ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے ‘‘ کے اعلان اور جاوید ہاشمی کے انکشافات نے ان کی سازشی سیاست کا پول کھول دیا تھا ۔ جس کی تصدیق اب ان کے وزیر خارجہ نے کر دی ہے۔وہ پانچ سال وزیر اعظم نواز شریف پر نت نئے الزام عائد کرتے رہے مگر اب اپنی باری آئی اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے انہیں بلاول بھٹو کے الفاظ میں ’’ سلیکٹڈ وزیر اعظم ‘‘ کہہ دیا تو ان کی انا کا انار چٹخ گیا اور انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہی ملتوی کرا دیا ۔


جس طرح صحافتی ٹولے نے بھٹو کو بانس پر چڑھائے رکھا تھا، اب کے صحافتی کھڑپینچوں نے عمران خان کو نئے مسیحا کے طور پر پیش کر کے قوم کے ایک بڑے حصے کو دھوکے میں ڈالے رکھا۔ الیکشن 2018ء سے پہلے جب ’’بھٹو کا سوہنا منڈا‘‘ اور بیسویں صدی کا بڈھا جی ایم کھر پی ٹی آئی میں شامل ہوا تو اس کا بیان تھا کہ ’’مجھے عمران خان کی شکل میں نیا بھٹو مل گیا ہے‘‘۔ ہاں ، بھٹو نے ملک توڑنے میں حصہ لیا تھا تو ہوس اقتدار میں مبتلا عمران نے پے بہ پے دھرنوں سے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرنے اور غریب عوام کی زندگی تنگ تر کرنے کا مذموم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اور اس میں وہ تمام صحافی حضرات شامل ہیں جو ایک اناڑی کھلاڑی کو قوم کے دکھوں کا واحد چارہ گر بنا کر پیش کرتے رہے۔ اب اُن کی کھوکھلی قیادت کا سحر ٹوٹا ہے تو میڈیا میں عمران کی سیاست کا سیاپا ہونے لگا ہے۔ حسن نثار علانیہ تائب ہو رہے ہیں۔ ناصر جمال نواز شریف سے معافی مانگتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’مجھ سے تو میرے بچے عقل مند نکلے جنہوں نے دو ماہ پہلے ہی پی ٹی آئی کے جھنڈے یہ کہہ کر اُتار پھینکے تھے کہ عمران کو ووٹ دے کر غلطی کی‘‘۔ ارشاد بھٹی اب بھی نواز شریف کو معاف کرنے کو تیار نہیں مگر وہ تبدیلی حکومت کو نا اہل ٹھہراتے ہوئے ’’مزے کی بات‘‘ یوں بیان کرتے ہیں کہ 29 اگست 2018ء کی ملاقات میں عمران خان چیئرمین نیب کی تعریف کرتے ہیں مگر ان کے بقول نیب کے 75 کروڑ روپے مانگنے پر 17 جنوری کو عمران خان برہم ہوئے اور وزراء بھڑک اٹھے کہ ’’نیب نے کیا کیا جو اسے پیسے دیں؟‘‘ کیونکہ ’’نیب زلفی بخاری سے، علیم خان، محمود خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، اور بابر اعوان جیسے پیاروں کو بلانے اور سوال کرنے کی جرأت کر بیٹھا‘‘۔ کئی عمرانی صحافی مع ڈاکٹر صفدر محمود ان کے وزیروں، مشیروں، خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب کی نا اہلی کارونا روتے ہیں۔ بھٹی صاحب کا انکشاف ہے کہ ’’چھ ماہ ضائع کرنے کے بعد سوچا جا رہا ہے کہ کیوں نہ عثمان بزادار اور محمود خان کی جگہ نئے وزراء اعلیٰ لائے جائیں‘‘۔ مرتضیٰ برلاس اور کئی اور نابغے حکومتی نا اہلی کا ذمہ دار بیورو کریٹس کو ٹھہراتے ہیں۔ عرفان اطہر قاضی اپنے ممدوح خان صاحب سے اب یوں مخاطب ہیں: ’’یاد رکھیے غریب کا پیٹ آپ کے تھری ڈی پیغامات سے بھرنے والا نہیں‘‘۔ ایک منصور آفاق نامی ’’دانشور‘‘ ہیں جو اب بھی عوام کو بیوقوف سمجھتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ ’’انصاف کے مشکی گھوڑوں کی ایڑیوں سے اڑتی ہوئی دھول ذرا بیٹھنے دو دوستو، پھر تمہیں اشہب دوراں (کالم میں ’’شب دوراں‘‘ چھپا) کی رفتار کا اندازہ ہو گا‘‘۔ ادھر یوٹرن ہنوز یہ کہہ کر عوام کو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں کہ عوام کو زندگی میں واضح تبدیلی حکومت کا منشور ہے‘‘۔

Leave a Reply

Top