You are here
Home > منتخب کالم نگار > میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات کی تشہیر

میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات کی تشہیر

تحریک انصاف کی حکومت کے مثبت اور ٹھوس اقدامات کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ عمران خان کی حکومت میں شفافیت موجود ہے اور اچھے طرز حکمرانی کی وجہ سے ملک کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔


تحریک انصاف کی حکومت نے وسائل کے درست اور بہترین استعمال کو یقینی بنایا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قومی وسائل ہمارے پاس امانت ہیں، ہم کسی کو ان کا غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے بلکہ وسائل کا شفاف اور دیانت داری کے ساتھ استعمال یقینی بنا کر تحریک انصاف نے تاریخ رقم کی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے بھی وفاقی حکومت کا ہر سطح پر بھرپور ساتھ دیا ہے۔ چونکہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے اور یہاں کی سیاست مرکز پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کے احسن اقدامات کے اثرات بھی مرتب ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ رواں ہفتے عمران خان کی قیادت میں پنجاب حکومت نے بڑے اچھے منصوبوں اور اقدامات کی منظوری دی۔وزیراعظم نے پنجاب سپیشل اسٹرٹیجی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح کے لیے انتظامی ڈھانچے کی تنظیم نو کی اشد ضرورت ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اس کیلئے طے کیا گیا کہ پنجاب میں سینئر بیوروکریٹس کو اہم وزارتوں کی ذمہ داری دی جائے گی جن کے ذریعے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ مختلف وزارتوں کو رابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کیا جائیگا جن کی سربراہی بھی سرکاری افسران کریں گے۔ اسی سلسلے میں ابتداً نو محکموں میں سینئر بیوروکریٹس کو سیکرٹری اور دیگر اہم عہدے دیئے گئے۔


اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، نعیم الحق، افتخار درانی، فیاض الحسن چوہان، صمصام بخاری، عائشہ چودھری، یوسف بیگ مرزا، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور زلفی بخاری نے شرکت کی۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے شرکت کی۔انہی احکامات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حکومت پنجاب مومن آغاکو سیکرٹری اطلاعات پنجاب تعینات کیا ہے۔مومن آغااس سے قبل ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن بھی رہ چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے میڈیا اور دیگر اہم لوگوں سے بہت اچھے تعلقات بھی ہیں۔ وہ کمشنر فیصل آباد بھی رہے۔ اس کے بعد سیکرٹری مائنز تعینات ہوئے۔ حال ہی میں انہوں نے چاہ ماہ کا کورس کیا جس کے بعد انہیں سیکرٹری اطلاعات تعینات کیا گیا۔

مومن آغا انتہائی قابل ، دیانتدار اور ملنسار شخصیت کے حامل ہیں ۔ اس تقرری سے قبل بھی انفارمیشن محکمے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میڈیا میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ میڈیا میں بھی ان کی حالیہ تقرری پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل سیکرٹری انفارمیشن کی نشست پر کوئی اتنا اچھا انسان نہیںآیا۔ ان کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری پبلک ریلیشنز اطہر علی خان بھی بہت منجھے ہوئے افسر ہیں۔ گویا ان اچھے افسران کی جوڑی صوبے کی سیاست میں بہت بہتری لائے گی۔


گو کہ ان اقدامات میں کچھ دیر ہو چکی ہے خاص طورپر میڈیا کیلئے ایک ایسی شخصیت کی تعینات جو ہر لحاظ سے موزوں ہو ۔ اگر پنجاب حکومت یہ قدم پہلے اٹھا لیتی تو عوامی بھلائی کے حکومتی منصوبے ، اقدامات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ پاتے ۔ اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ۔ مومن آغا حکومتی پالیسیوں کی میڈیا میں تشہیر اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں انتہائی مخلص اور موزوں ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ حکومتی اقدامات کی تشہیر بہت ضروری ہے کیونکہ عوام کو ان کی بہبود کیلئے شروع کئے گئے منصوبوں اور اقدامات کے متلق آگاہی ضروری ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت میڈیا اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعظم نے میڈیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا جائے اور میڈیا میں موثر انداز میں حکومت کا دفاع کیا جائے۔ میڈیا کو عوام کی فلاح وبہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا جائے جبکہ میڈیا میں موثر انداز میں حکومت کا دفاع کیا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ پریس اور میڈیا کسی بھی حکومت کا ترجمان ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت میڈیا ورکرز کیلئے محفوظ ماحول پیدا کر کے اس کی آزادی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ حکومت کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ میڈیا پر ضابطے کی پابندیوں میں کمی لائی جائے اور میڈیا کے اپنے بنائے ہوئے ضابطہ کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ یہ ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنا کردار آزادانہ اور منصفانہ طور پر ادا کر سکے۔وزیراعظم عمران خان نے میڈیا کو یقین دلایا کہ موجودہ دور حکومت میں اسے اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر ہوگی اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائیگی۔


پنجاب حکومت کے سرخیل وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی انتہائی شریف ، نیک اور غریب نواز شخصیت رکھتے ہیں۔ یہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ایک نظرانداز شدہ علاقے سے وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا گیا ہے۔عثمان بزدار کا ضلع ڈیرہ غازیخان کے اس علاقے سے تعلق ہے جہاں 2لاکھ کی آبادی کیلئے بجلی، پانی اور ڈاکٹر تک کی سہولت نہیں۔وہ پسماندہ علاقے سے تعلق کی وجہ سے پسماندہ علاقوں کے عوام کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً نصف صدی بعدپنجاب کے وزیر اعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ ورنہ اس منصب پر بھی اپر پنجاب اور لاہور والے ہی چھائے ہوئے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان کا پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں کہنا ہے کہ اس سے قبل پنجاب میں وزیراعلیٰ کا بادشاہ جیسا تصور بن چکا تھا مگر ہم نے ایک پسماندہ علاقے سے وزیر اعلیٰ چْنا۔ جو کام کے لحاظ سے انتہائی چست اور ایمان دار ہے۔ عمران خان عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرم بھی کہتے ہیں۔عمران خان کاکہنا تھا کہ دو ہفتے جانچ پڑتال کرنے کے بعد میں نے عثمان بزدار کو ایماندار پایا ہے۔ عثمان بزدار میرے نئے پاکستان کے نظریے پر پورا اترتے ہیں۔ تمام ارکان اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ صوبے میں کام کریں۔ ہم صوبے کی تقدیر بدل کر دکھائیں گے۔ پنجاب کے عوام کو مایوس نہیں ترقی اور خوشحالی دیں گے اور واقعی انہوں نے ایسا کر دکھایا۔


افسوس کا مقام ہے کہ انتہائی ایماندار، عاجز اور شریف انسان کا بعض میڈیا مین اور اینکر حضرات مذاق اڑا رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کس کے اشارے پر ان کی تذلیل کررہے ہیں۔ حالانکہ اگر پوچھا جائے تو ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوگا۔ دراصل عثمان بزدار کی سادگی اور انکساری کی وجہ سے ان لوگوں کو شہ ملی ہے۔ سب سے بڑی بات کہ عثمان بزدار نے کرپشن اور اقربا پروری کا سخت نوٹس لیا جس کی وجہ سے کئی لوگ جو سابقہ حکمرانوں کے پے رول پر تھے ، بھوکے مرنے لگے۔ ان کا کام ہی حکمرانوں کی خوشامد کر کے اپنا الوسیدھا کرنا ہوتا تھا جو اب ممکن نہیں۔

راقم الحروف ایک سینئر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ بزم اقبال کا ڈائریکٹر بھی ہے۔ بزم اقبال کے مسائل اور ان کا حل بھی حکومت احسن طورپر کر سکتی ہے۔ بزم اقبال کی کافی اراضی جو دوسروں کے قبضہ میں ہے، اسے واگزار کروا ئیں تاکہ وہاں ایک عظیم الشان لائبریری بن سکے۔ کیونکہ بزم اقبال کی شائع شدہ کتب کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں۔بزم اس لائبریری میں علامہ اقبال سے متعلق ساری دنیا میں چھپنے والی تمام مطبوعات رکھنا چاہتی ہے تاکہ علامہ اقبال پر تحقیق کرنے والوں کو ایک چھت کے نیچے تمام سہولیات ہوں۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы