You are here
Home > منتخب کالم نگار > مگر فریب کھائےجا مگر

مگر فریب کھائےجا مگر

صدر ٹرمپ کا قوم سے سالانہ خطاب ہوا ۔ اہم قومی، بین الاقوامی مسائل میں افغانستان میں طالبان سے معاملات طے کرنے ، انخلا اور شام سے امریکی فوج کی واپسی پر بات کی، یہ اقرار کیا کہ 19 سال سے مشرق وسطی میں لڑ رہے ہیں۔ ( ملین ڈالر سوال ہے کہ ۔۔۔ مگر کیوں؟)


افغانستان اور عراق میں کم و بیش سات ہزار امریکی ہیرو مارے گئے۔ 52 ہزار سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ سات کھرب ڈالر مشرق وسطی میں خرچ کر چکے۔ ( باو جودیکہ مسلم ممالک میں امریکی فوجون کے اخراجات کا بیشتر بار خود انہی پر ہے۔ امریکی فوجیں مسلم پیسے پر پل رہی ہیں ! ) ٹرمپ نے کہا کہ ’ بڑی قومیں لا منتہا جنگیں نہیں لڑتیں۔‘ ( چھوٹی قومیں ویت نام اور افغانستان کی مانند نکل بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہیں ) نیز یہ کہ شام سے اپنے بہادر جنگجو واپس بلانے کا وقت آ گیا ہے ۔ افغانستان سے دوحہ مذاکرات کی بنیاد پر فوجی انخلاء کی بات کی۔ امریکی سینیٹ کی انخلاء مخالف قرار داد منظور ہونے کے با وجود، ٹرمپ نے اپنے فوجیوں کی بہادری سراہتے ہوئے کہا کہ۔ ہمارے فوجی وہاں بے مثل شجاعت سے ( پیمپر پہن کر ) لڑے۔ اب وقت ہے اس طویل خونی تنازعے کے حل کا ۔ اسکی تائید ہم بھی کریں گے۔ طالبان کے خلاف کھڑے رہنا واقعی دل گردے کی بات تھی۔ عزوۂ بدر کے تناظر میں دیکھنے ، پڑھنے ، کے نتیجے میں یہ پوری کہانی سمجھنا ممکن ہے۔ ورنہ، تمہید سے تم گزرے ہی نہیں اب قصہ سارا کیا جانو ! طالبان کا کمال تو ان کے ایمان واستقامت میں تھا جس سے سارے معرکے سر ہوئے۔ بدر الثانی ! فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو ، اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔ اس کے سوا اس بے مثل فتح مبین کی توجیہہ ممکن ہی نہیں ! اس پوری 18 سالہ جنگی کہانی میں مقابل شکست کس نے کھائی؟


بات صرف اسلحے اور وسائل کی بر تری کی نہیں۔ امریکہ کی عسکری تربیت کے اعلیٰ ترین ادارے، ویسٹ پوائنٹ، اور برطانیہ میں سینڈ ہرسٹ، عالمی شہرت یافتہ ، جہاں ہمارے جرنیل بھی تربیت یا نے کو اعزاز جانتے ہیں۔ عسکری مہارتوں کی معراج والی ساری فوج، میدان جنگ میں پیٹھ پھیر گئی ؟ اب ہے سفارتی محاذ !شرق و غرب کی سفارتی مہارتیں، طویل کورسز ، ڈگریان تربیتیں سب طالبان کے ساتھ مذاکرات میں دھری کی دھری رہ گئیں۔ مذاکرات کے پے در پے ادوار میں طالبان کی سیاسی سفارتی مہارت نے مومنانہ فراست کی دھاک بٹھائی۔ رپورٹوں اور تبصرون میں طالبان کے مؤقف کی مضبوطی اور ابلاغ کی صلاحیت دیدنی شیندنی ہے ! ذکی اور نکتہ سنج بھی ہیں۔ خلیل زاد زلمے جنکا سفارتی تجربہ بے پناہ ہے۔ شکاگو ( امریکہ ) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری، کولمبیا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر، رینڈ کارپوریشن سے بھی منسلک رہے۔ امریکی پالیسی ساز ادارون کا حصہ رہے۔ عراق، افغانستان میں امریکہ کے سفیر رہے۔ شیرل بنیارڈ جیسی تجربہ کار شاطر بیوی کا جمال ہم نشینی مزید ! وہ جو مدارس ، علماء، مولویوں بارے جہل اور تحقیر کا گمان باندھے رہتے ہیں۔ یقیناًمذاکرات نے تحیّر میں ڈبکیاں دی ہوں گی ۔ جس تحمل ، سکون ، دل نشیں مگر اٹل انداز میں طالبان گفتگو کرتے ہیں، اس نے مذاکرات کاروں کو سوچنے پر مجبور تو کیا ہے۔ مثلاً یہ رپورٹ کہ امریکہ نے باور کروایا کہ اب ہم آپ کے دوست ہیں کچھ عرصے کے لیے ہمیں افغانستان میں ایک دوا ڈے رکھنے دیں ہم معاوضہ دینے پر تیار ہیں۔ طالبان نے جواباً کہا کہ ’ افغان دوستوں سے معاوضہ نہیں لیتے ۔ آپ یہاں اڈے رکھیں، ہم امریکہ میں اڈہ قائم کر لیتے ہیں۔ اب تو ہم دوست ہیں نا ! ‘ ایک طرف امریکہ اور


افغان مذاکراتی میز اٹھائے پھر رہے ہیں۔ طالبان جہاں کہتے ہیں وہاں میز بچھا دیتے ہیں۔ اب ماسکو میں دو روزہ افغان اپوزیشن اور طالبان مابین بات چیت رہی۔ دوسری جانب اسی دوران افغانستان میں بھر پور زمینی کارووائیاں جاری ہیں۔پہلے میدان شہر میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی پر حملہ کر کے 36 فوجی مار دیئے اور درجنوں زخمی کر دیئے۔ ماسکو مذاکرات کے دوران دو جگہ قندوز اور بغلان میں حملہ کر کے کل 40 سے زائد فوجی اور پولیس والے مار دیے، 17 زخمی کر دیے۔ ماسکو میں بھی طالبان کا اعتماد دیدنی تھا ۔ نماز کی امامت بھی انہوں نے کروائی۔ ( جو ایک نیک شگون ہے۔ اسلام امارت اور امامت کو یکجا کرتا ہے ! ) البتہ اشرف غنی حکومت کی نمائندگی کسی سطح پر بھی انہوں نے قبول نہ کی ۔ جس پر وہ شدید سیخ پا اور سراپا تنقید ہیں۔ نجیب اللہ کا انجام خوفناک خواب بن کر افغان کٹھ پتلی حکومت کی نیندیں حرام کر رہا ہے۔ وہ امریکی فوجوں کے انخلا کو ہر ممکن روکنا چاہتے ہیں۔ یعنی قابض فوج نہ جائے۔ افغانستان صبح آزادی نہ دیکھے ! یہودی بنو قینقاع اور بعد ازاں دوسرے یہودی قبیلے بنو نظر کی جلا وطنی کے مواقع پر عبد اللہ بن ابی کا کردار ایک تاریخی آئینہ ہے جس کی روشنی میں آج مختلف کردار دیکھے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔ یہود کا نکلنا منافقین پر کس درجہ بھاری تھا ! امریکی اعتراف شکست ( ڈھکا چھپا، زیر لب، بالا قساط) بچپن میں پڑھی نرسری کی نظم کی یاد تازہ کرتا ہے۔


امریکہ معاشی ، سیاسی، اخلاقی، عسکری سطح پر افغانستان میں جنگ کے ہاتھوں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس تناظر میں یہ نظم جو اٹھارویں صدی کے اواخر سے انگریزی بولنے پڑھنے والی دنیا اور مقبوضات میں بچوں کو پڑھائی جاتی تھی۔ ہمپٹی ڈمپٹی دیوار پر بیٹھا، ہمپٹی ڈمپٹی ( زور سے) نیچے جا گرا، بادشاہ کے تمام آدی اور بادشاہ کے تمام گھوڑے ، گرے ( ٹوٹے بکھرے ) ہمپٹی ڈمپٹی کو دوبارہ یکجا نہ کر سکے، جوڑ نہ سکے ! یہ کردار ایک ادبی رمز اور کنایہ تھا، ایک ایسے شخص کا جو غیر محفوظ مقام پر بیٹھا ہو ۔ جہاں سے گر کر ریزہ ریزہ ہو جانے کا اندیشہ ہو جسے پھر کوئی قوت بھی یک جا نہ کر سکے ۔ (یہ بچوں اور بڑوں کے لیے سبق آموز ہے۔ ) اس کردار کو شیکسپیئر کے ڈرامے میں دکھائے گئے کردار، شاہ رچرڈ سوم ( برطانیہ) کا بھی استعارہ سمجھا جاتا ہے جو اپنی فوجوں کے با وجود شکست کھا گیا ۔ ہمپٹی ڈمپٹی، موٹا چھوٹا، اناڑی بے ڈھب کردار ظاہر کرتا ہے۔ تصویری ہیت میں انڈے نما جسم کو ٹانگیں بازو لگا کر دکھایا جاتا ہے۔ چلیے تصویری کردار تو جانے دیجیے ٹرمپ سے مماثلت کیا ڈھونڈنی۔ تاہم افغان دیوار کا استحکام ٹسٹ کرتی دو عالمی طاقتیں باری باری اپنے گوڈے گٹے تڑوا چکی ہیں۔ آرام سے اب مذاکرات کی سیڑھی لگا کر اتر جائیں تو بہتر ورنہ گوروں کی اور ہماری مونٹی سریوں کی اگلی نسل بھی ہمپٹی ڈمپٹی الاپتی رہ جائے گی ۔ ہمسائیگی میں طالبان قوت پکڑ رہے ہیں۔


لیکن ہم بدلتی رُتوں کے ادراک سے غافل ہیں۔ نئی حکومت اگرچہ پچھلی حکومت ہی کی طرح بتدریج مقتدر قوتوں کے ہاتھوں دیوار سے لگائی جا رہی ہے۔ بدلتے منظر ہر آن واضح کر رہے ہیں کہ سویلین حکومت اور مقتدرین ایک پیج پر تو ہوں گے ۔ لیکن بے چاری سویلین حکومت کا فونٹ چھوٹا،مہین ہوتا جا رہا ہے۔ معدوم ہی نہ ہو جائے پچھلی حکومت کی طرح۔ کہنے کو ریاست مدینہ ، مگر بجٹی نزلہ سارا حج سبسڈی پر ؟ سیکو لر سٹ ایجنڈے بدستور پورے ہورہے ہیں، انہی راہوں پر چلے جا رہے ہیں۔ قمر تسبیح پڑھتے جا رہے ہیں سوئے میخانہ ، کوئی دیکھے تو یہ سمجھے بڑے اللہ والے ہیں! نیز وزراء ، عذرِ گناہ ( بد تراز گناہ ) دیئے جا رہے ہیں۔ جو قبیح تر ہے۔ نیز ابھی ساہیوال سانحے پر غم و غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تھی کہ لورالائی میں پروفیسر ارمان لونی کی اچانک موت ( کئی روزہ ہڑتال پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ) سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ تسلسل سے ماورائے عدالت قتل اور حکومتی اہل کاروں کی جانب سے اندھا دھند طاقت کا ستعمال کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ بلوچستان کے بہت سے حصوں میں مظاہرے ہڑتالیں بشمول تاجران وکلاء ہوئی ہیں۔ حقائق عوام پر کھلتے چلے جا رہے ہیں۔ اب اس ظلم کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ گزر گیا وہ وقت جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بھاری بھر کم اصطلاحی ناموں پر 70 خون بھی معاف تھے۔ اس کی ذمہ داری مقتدرین ، عدلیہ، سکیورٹی اداروں اور بدرجہ اولیٰ حکومت پر عائد ہوتی ہے جو حقوق انسانی کی چمپئن ہونے کا دعویٰ بھی رکھتی ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی بھی ( موم بتیوں والی ) بری الذمہ بنیں۔ ورنہ راؤ انوار کو جس دیدہ دلیری سے 400 ماورائے عدالت قتل مقاتلوں پر وی آئی پی پروٹو کال دیا گیا ، نظام، عدل و انصاف اور تحریک انصاف کے لیے ایک منہ چڑاتا چیلنج ہے۔ ذیشان اور خلیل خاندان مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ تحقیق و تفتیش پر ۔ ادھر قانون مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل میں بھی درجنوں سکیورٹی اداروں ( پر اٹھتے بھاری بجٹ) کے با وجود مجرموں تک پہنچنے سے کلیتاً قاصر رہا ہے۔ ذیشان کیس عوام کے ہتھے چڑھ کر طشت ازبام نہ ہو جاتا تو قوم کے سامنے ان کے بیگ خود کش جیکٹوں اور اسلحے سے بھر کر دکھا دیئے گئے ہوتے ۔ اب بھی کپڑے زیور نقدی کہاں گئی۔ کون جانے !

فغاں کہ مجھ غریب کو حیات کا یہ حکم ہے

سمجھ ہر ایک راز کو مگر فریب کھائے جا

Leave a Reply

Top