You are here
Home > منتخب کالم نگار > دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بڑے عرصے بعد جانا ہوا۔ بلکہ یوں کہیں جب سے شہباز شریف چیئرمین بنے ہیں پہلی دفعہ جانا ہوا۔ پہلے چھ ماہ اس لیے کمیٹی نہ بن سکی کہ حکومت ڈٹ گئی تھی کہ وہ شہباز شریف کو چیئرمین نہیں بنائے گی ’لیکن اپوزیشن نے عمران خان کو مجبور کر دیا اور


وہ مان گئے کہ چلیں ہاؤس چلانا ہے تو کرپٹ اور کرپشن کو برداشت کرنا پڑے گا۔ عمران خان صاحب کا خیال تھا کہ اب ہاؤس میں سکون ہو جائے گا‘ اور وہ جب پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوں گے تو انہیں محسوس ہو گا کہ وہ واقعی وزیر اعظم ہیں ’لیکن یہ کمپرومائز بھی نتائج نہ دے سکا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن‘ جو ہر وقت عمران خان کو طعنے دیتی رہتی تھی کہ وہ کمپرومائز کرتے یا یو ٹرن لیتے ہیں ’شہباز شریف کے چیئرمین بنائے جانے کے یوٹرن پر چپ رہی اور کوئی طعنہ نہ دیا۔

جو کچھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں دیکھا ’اس کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ نا اہلی سے بڑی کوئی کرپشن نہیں ہو سکتی۔ جب جنرل مشرف نے پہلی دفعہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو میڈیا کے لیے اوپن کیا اور ایک ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی تھی تو اس کے چیئرمین ایچ بو بیگ تھے اور ممبران بھی زیادہ تر ریٹائرڈ فیڈرل سیکرٹریز تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ ریٹائرڈ بیوروکریٹس بھلا کیا انصاف کریں گے اور کتنی جرأت ہوگی ان میں۔ تاہم میرا خیال ہے جو اب تک پچھلے سترہ‘ اٹھارہ سال میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں بنی ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی وہی کمیٹی تھی۔


اس کے بعد آنے والی کمیٹیاں سیاستدانوں کے کارنامے مٹانے اور سیٹل کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ بیوروکریٹس بڑے سیانے ہوتے ہیں ’سب اختیارات ان کے پاس ہوتے ہیں‘ وہ چند سکے ان سیاستدانوں کے منہ میں ڈال دیتے ہیں اور خود سب کچھ لوٹ لیتے ہیں ’لیکن سب ملبہ سیاست دانوں کے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ اگر کبھی بیرون ملک فارن کرنسی اکاؤنٹس کی فہرست نکلی تو اس میں نوے فیصد نام انہی سرکاری بابوؤں اور بزنس مینوں کے نکلیں گے۔

سیاستدانوں میں جن جن لوگوں نے بڑے ہاتھ مارے ہیں ان میں شریف خاندان، زرداری، جہانگیر ترین، علیم خان، فہمیدہ مرزا یا گجرات کے چوہدری برادرز نمایاں ہیں۔ مونس الٰہی تو کچھ عرصہ نظر بند بھی رہے لیکن بھلا ہو زرداری صاحب کا جنہوں نے پہلے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا اور پھر چوہدری پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم بنا کر ان کے برخوردار کا ای او بی آئی میں 34 کروڑ روپے کا ڈاکہ بھی سیٹل کرا دیا۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی حواریوں نے بھی لوٹ مار میں ہاتھ بٹایا اور بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کے لیے خوب مال بنایا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک دلوالیہ ہوگیا۔


جب عمران خان احتساب کا نعرہ لگا کر اوپر آئے تو سب کچھ ان کے حوالے کر دیا گیا ’جن سے انہوں نے ریکوری کرانی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ پہلے خود ہی شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین لگا دیا اور اب ان کے وزیر کہتے پھرتے ہیں کہ شہباز شریف خود ہی استعفیٰ دے دیں۔ ان سیاستدانوں نے اچھا طریقہ اختیار کیا ہے کہ پہلے لوٹ مار کرتے ہیں اور پھر اہم کمیٹیوں کے خود سربراہ لگ کر اپنے ڈاکے سیٹل کرتے ہیں۔

میں پچھلے دس سال میں پی اے سی کو دیکھ چکا ہوں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے باری باری کھل کر پی اے سی کو اپنے بڑے بڑے سکینڈلز سیٹل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ باقی چھوڑیں خورشید شاہ نے پچھلے پانچ سالوں میں اس کمیٹی کو تباہ کر دیا۔ اختر بلند رانا نے آڈیٹر جنرل آفس سے آئی پی پیز کو دیے جانے والے پانچ سو ارب روپے کے قریب سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کا آڈٹ کرایا تو ہوشربا انکشافات ہوئے۔ اسی پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے بیٹھ کر ایک سو نوے ارب روپے کی غیرقانونی ادائیگیوں کو جائز قرار دے دیا۔


اور تو اور وہ بلز بھی جائز قرار دے دیے جو فوٹو کاپی تھے۔ حالت دیکھیں کہ آئی پی پیز نے حکومت پاکستان پر لیٹ ادائیگی پربتیس ارب روپے کا جرمانہ وصول کیا جبکہ 22 ارب کا جرمانہ جو حکومت پاکستان نے ان پر بعض معاملات پر کیا ہوا تھا وہ بھی معاف کر دیا گیا۔ یوں بیٹھے بٹھائے پچاس ارب روپے سے زائد کا چھکا مارا گیا۔ ان آئی پی پیز میں ان سیاستدانوں کے اپنے شیئر تھے۔

ابھی بھی وہی کچھ ہورہا ہے۔ تحریک انصاف نے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اپنے سینیٹرز اور ایم این ایز پی اے سی میں بھیجتے وقت اچھے چوائس نہیں دیے۔ وہ ممبران بھیجے گئے ہیں جو بالکل نئے ہیں اور انہیں پی اے سی کا بالکل پتہ نہیں ہے۔ اب منزہ حسن اور سیمی ایزدی کتنا جانتی ہوں گی کہ پی اے سی کس بلا کا نام ہے؟ ذرا اندازہ کریں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے کن کن لوگوں کو پی اے سی کا ممبر بنایا ہے ’تاکہ اسے ہائی جیک کیا جائے اور پی ٹی آئی کو آگے لگایا جائے۔

شہباز شریف اگر اس کے چیئرمین ہیں تو سابق وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، سابق وزیر رانا تنویر، سابق سپیکر ایاز صادق اور پارلیمانی سیکرٹری روحیل اصغر جیسے تگڑے لوگ بیٹھے ہیں جو وہاں زور زبردستی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے اپنا سابق وزیرخزانہ نوید قمر، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیرخارجہ حناربانی کھر اور سابق وزیر اطلاعات شیری رحمن کو بھیجا ہوا ہے۔ اب ان کے رعب و دبدبے کے سامنے پی ٹی آئی کے ممبران بات نہیں کرپاتے۔


سردار نصراللہ دریشک نے ڈرتے ڈرتے شہباز شریف پر اعتراض کرنے کی جرأت کی تو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ممبران نے مل کر ان کی وہ گت بنائی کہ ڈیرہ غازی خان کے سردار صاحب یوں دبک کر بیٹھ گئے کہ دوبارہ دو گھنٹے کمیٹی میں بولنے کی جرأت نہ کر سکے اور شہباز شریف کو سر سر کہہ کر اپنی جان چھڑائی۔مجھے حیرانی ہوئی سینیٹ میں تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز موجود تھے ’انہیں پی اے سی کیوں نہیں لایا گیا؟ محسن عزیز کے پاس تین سال کا تجربہ ہے اور وہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں بہت اچھا پرفارم کرتے رہے ہیں۔ نئی سینیٹر سیمی ایزدی کو ان کی جگہ لایا گیا شاید جہانگیر ترین کی بہن ہونے کی وجہ سے ورنہ محسن عزیز بہتر چوائس تھے۔ اب سیمی ایزدی کو کچھ پتہ نہیں کہ اجلاس میں کیا ہورہا ہے۔ وہ دو گھنٹے تک سب کے منہ دیکھتی رہیں‘ ایک آدھ بات کی تو پھر نہ بول سکیں۔

یہ طے ہے کہ تحریک انصاف اپنے ہاتھ سے اہم کمیٹی کھو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے کم ممبران ہوتے ہوئے بھی پوری کمیٹی کو ہائی جیک کررکھا ہے ’جبکہ پی ٹی آئی کے ممبران ڈر کے مارے بات نہیں کر پاتے اور نہ ہی ان کی پوری تیاری ہوتی ہے کہ وہ دستاویزات پوری پڑھ کر وہاں آئیں اور کچھ بہتر سوالات کر سکیں۔ دوسری طرف نواز لیگ کے اندر کی لڑائی کی کہانی سنیں۔ شہباز شریف نے خود کو پہلے اپوزیشن لیڈر اور پھر چیئرمین پی اے سی لگوا لیا تاکہ وہ جب چاہیں اپنے پروڈکشن آڈر سپیکر سے جاری کرا کے منسٹرز انکلیو میں رہائش رکھیں۔


جیل سے پروٹوکول کے ساتھ تشریف لائیں اور نیب سے بھی دور رہیں۔ سعد رفیق چاہتے تھے کہ انہیں بھی پی اے سی کا ممبر بنایا جائے۔ شاید ان کا مقصد بھی یہی تھا‘ تاہم ذرائع کہتے ہیں کہ سعد رفیق کی حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی پارٹی کے لوگ ہی ان کے پی اے سی ممبر بننے کے خلاف ہیں۔ سعد رفیق نے دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف تو پتہ چلا کہ شہباز شریف ہی نہیں چاہتے تھے کہ وہ ممبر بنیں۔

سنا ہے کہ جب سعد رفیق کو پتہ چلا کہ ان کی مخالفت ان کے پارٹی لیڈر ہی کررہے ہیں تو انہیں جھٹکا لگا۔ ویسے سعد رفیق کو کوئی وہ مثال یاد دلائے جب بندر کے پاؤں جلنے لگے تھے تو اس نے اپنے بچے ہی پاؤں نیچے دے دیے تھے۔ سیاست بھی اسی طرح کی چیز ہے جہاں جب آپ کے پاؤں جلنے لگتے ہیں تو اپنے بچوں کو ہی پاؤں تلے دے دیا جاتا ہے۔ اگر سعد رفیق کو یقین نہیں آتا تو کسی دن رانا ثنا اللہ سے پوچھ لیں کہ انہیں کس نے بلا کر کہا تھا کہ رانا صاحب ماڈل ٹاؤن پر کسی ایک کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ میں دوں یا آپ دیں گے؟ رانا صاحب نے مسکرا کر جواب دیا :صاحب آپ نے دینا ہوتا تو مجھے بلا کر کیوں پوچھتے!

Leave a Reply

Top