You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > نادان انسان

نادان انسان

ایک دن حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے کہا‘ میں آپ کی رحمت اور انسان کے گناہ دیکھنا چاہتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پیچھے دیکھو‘ دیکھا تو ایک بہت بڑے سمندر میں ایک درخت پر ایک چڑیا اپنے منہ میں مٹی لے کر بیٹھی ہےحضرت موسیٰ ؑ نے کہا یہ کیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

’’ یہ سمندر میری رحمت ہے اور یہ درخت دنیا‘ یہ چڑیا انسان اور اس کے منہ میں تھوڑی سی جو مٹی ہے وہ اس کے تھوڑے سے گنا ہیں‘ اگر یہ اپنا منہ کھول کر مٹی پانی میںگرا دے تو میری رحمت کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو کیوں نہ انسان توبہ کرے اور میں معاف نہ کروں۔بل گیٹسبل گیٹس دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہے اور اس کے پاس اتنے اثاثے ہیں کہ اس کی اگلی دس نسلیں ہاتھ پرہاتھ دھر کر بھی بیٹھی رہیں تو اپنی زندگی بڑے پر آسائش طریقے سے گزار سکتی ہیں۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بل گیٹس کی کامیابی اس کی اچھی قسمت یا اس کی بے مثال عقل کی دین تھی، سچ یہ ہے کہ بل گیٹس کی کامیابی کا راز اس کی ان تھک محنت اور مستقل مزاجی تھی۔ بل گیٹس نے جو پہلا پرو گرام بنایا تھا وہ ٹریفک کے کیمروں سے لی گئی فوٹیج کو پراسیس کرتا تھا۔ اس کا نام بل گیٹس نے ٹریف او ڈیٹا رکھا تھا اور بڑے عرصے اس نے اپنے اس پراڈکٹ پر بہت محنت اور ریسرچ کی تھی۔ جب اس نے یہ پراڈکٹ ’ ٹریف او ڈیٹا‘ مارکٹ میں لانچ کیا تو کسی بھی

کمپنی نے خریدنے سے انکار کر دیا۔بل گیٹس اس سے دل برداشتہ نہیں ہوا اور اس نے حوصلہ ہارنے کی بجائے اپنے اگلے پراجیکٹ ’مائیکرو سوفٹ‘ پر کام کا آغاز کر دیا اور آج ساری دنیا میں بل گیٹس مائیکروسوفٹ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اگر ٹریف او ڈیٹا کے ناکام ہونے سے بل گیٹس ہار مان لیتا اور کام چھوڑ کر بیٹھ جاتا تو آج کمپیوٹر کی دنیا کبھی ایسی نہ ہوتی جیسی ہمارے لیے ابھی ہے۔ انسان اکثر کسی کام پر بہت محنت کرتا ہے اور اس سے توقع کرتا ہے کہ کامیابی اس کا مقدر بنے گی، لیکن اصل میں کامیابی کی منازل صرف وہ لوگ طے کر سکتے ہیں جو ہر طرح کی ہار کے بعد بھی اپنا حوصلہ نہیں گنواتےتاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم پڑے گا کہ ہر وہ انسان جو دنیا کی مشہور یا معروف شخصیت بن پایا، اس نے اپنی زندگی میں ناکامیاں کامیابیوں سے کہیں زیادہ دیکھی ہوں گی۔ لیکن کیونکہ اس نے کوشش کرنا نہیں چھوڑا، تو ہر دس ناکامیوں کے بعد اس نے ایک ایسی شاندار کامیابی دیکھی کہ دنیا ہلا کر رکھ دی۔ اس دور کے لوگ ضرور جانتے ہیں کہ کوئی بھی کامیاب آدمی کتنی مشکلات کا شکار رہا لیکن

جب ہم تاریخ کے پنے پڑھتے ہیں تو اس میں چونکہ اس انسان کی صرف کامیابیاں رقم کی گئی ہوتی ہیں تو ہم اس کو اس کی خوش قسمتی یا اس کا مقدر سمجھ لیتے ہیں۔ تقدیر کا لکھا ماننا بھی بر حق ہے مگر تقدیر بھی اسے سکندر بناتی ہے جو خود اپنی مدد آپ کرنے کا قائل ہو۔ آج کے بعد آپ اپنی زندگی میں جب بھی فیل ہوں یا کسی قسم کی ہار کا سامنا کرنا پڑے تو سب سے پہلے ایسے لوگوں کے ارد گرد رہنا شروع کریں جن کو آپ بہت کامیاب تصور کرتے ہیں۔اس سے آپ کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ پھر ان سے مختلف اوقات میں دریافت کرتے رہیں کہ کیا انہوں نے کبھی زندگی میں کسی ہار کا سامنا کیا ہے؟ آپ کو معلوم ہو گا کہ ہر کامیاب آدمی کسی بہت بڑی ہار ہی سے اتنا کچھ سیکھا کہ اب اس کو کسی قسم کی شکست سے ڈر نہیں لگتا۔ شکست کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان یہ پہہچان جاتا ہے کہ اصل دوست کتنے تھوڑے ہوتے ہیں۔ انسان کے دوست ہمیشہ بہت کم ہوتے ہیں اور اچھے وقت میں ہر کوئی چڑھتے سورج کو سلام کرتا ہے۔ جب آپ ناکامی کی کھائی میں گرے پڑے ہوں تو آپ بالکل صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کے دوست اور ندد گار کتنے ہیں اور کون کون ہیں۔ ناکامی بہت اچھی استاد ہے، یہ آپ کو سب سے قیمتی خوبی ’عاجزی ‘ سکھا دیتی ہے اور جو عاجز ہو اس کے لیے کامیابی ناکامی اس کی شخصیت کو بدل نہیں سکتے۔ دونوں ایک برابر ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы