You are here
Home > منتخب کالم نگار > آمنے سامنے کا کھیل

آمنے سامنے کا کھیل

پاکستان کے بارے میں جو امیدیں عمران خان نے عوام کو دے دی تھیں وہ کسی بھی حد تک پوری نہیں ہو ئیں اور طرز حکمرانی ماضی کی نسبت کتنا تبدیل ہوا، اداروں کی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کی عملی صورت سامنے آئی ہے۔ عام آدمی کے زندگی کے اعشاریے کتنے تبدیل ہوئے ،


خط غربت سے نکل کر کتنے لوگ اوپر کی کلاس میں داخلے ہوئے، پاکستان نے موجودہ حکومت نے ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں زرمبادلہ کے ذخائر کو کتنا مضبوط بنایا، حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے طریق کار کو مستر دکیا یا نہیں پھر سب سے بڑھ کر سیاست اور معاشرے میں عدم برداشت کے لیے کتنا کام کیا، ان سارے سوالوں کا جواب ضروری ہے۔ دن، ہفتے اور ماہ تیزی سے بدلنے لگے ہیں مگر حکمرانی کا انداز اور سیاست کا چلن وہی ہے۔ نہ جانے ایک کے بعد ایک ایشو کیوں سر اٹھا رہا ہے بلکہ یہ تو حکمرانوں کا مشغلہ کتنا ہے۔ پاکستان کی اس حکومت نے بہت سے ریکارڈ بنانے شروع کر دیے ہیں۔ پارلیمنٹ کی بے توقیری کا عالم ہے کہ وہ تو کوئی قانون سازی نہیں کرپا رہی۔ آصف زرداری کے مطابق جب مانگے تانگے کی حکومت ہو تو میڈیا کو چوراہے میں بھانڈا پھوڑنا پڑتا ہے۔ جب اکثریت نہ ہو تو جن کے ووٹوں سے حکومت کھڑی ہے وہ جو بھی مطالبہ کریں حکومت بچانے کے لیے آپ کو ماننا پڑتا ہے تازہ ملاقات عمران خان کے معتمد نعیم الحق نے چوہدری شجاعت سے کی ہے جس میں چوہدری برادران کے تمام مطالبات ماننے کا اشارہ دیا ہے۔ ان کے لیے وزارتوں کے اور دروازے کھلیں گے۔ کہا تو یہی گیا تھا کہ ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت میں انصاف کا بول بالا ہو گا۔ کفایت شعار حکمرانی ہو گی۔ وزیراعظم ہاو¿س کی گاڑیاں اور بھینسیں اس لیے فروخت کی گئیں کہ


وزیراعظم عوام کے حقیقی امیر المومنین ثابت ہوں مگر سب کچھ ایسا پلٹا کہ کہیں بھی ریاست مدینہ کی جھلک نظر نہیں آتی کابینہ مرکز کی ہو یا صوبوں کی اس کا سائز اپنی آئینی حدود سے باہر نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پنجاب کا تو کوئی وارث نہیں ہے گورنر پنجاب میں تو آئینی پوزیشن یہ ہے کہ وہ صرف صدر کا نمائندہ ہے مگر گورنر صاحب پنجاب کی سیاسی جوڑ توڑ میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں جو کہ ان کے آئینی تقاضے کے برعکس ہے۔ بیورو کریسی اور اعلیٰ سرکاری ملازمین نے قانون اور قاعدے کے مطابق چلنا شروع کیا ہے۔ تو خود حکومت ان سے وہ کام کہنے کے لیے بے چین ہے جو ان کو نہیں کرنا چاہیے۔ نہ تو کہیں کا نظام بدلہ ہے۔ پنجاب کے اضلاع میں پسند کے ڈی سی اور ایس پی آ چکے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کا تماشا لگنے کے باوجود اب بھی انتظامیہ اصولوں پر چلنے کا عزم کر رہی ہے۔ آزاد کشمیر اور کے پی کے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی تبدیل ہو چکے۔ آخر کیا وجہ ہوئی ہے کہ شہباز شریف جو قائد حزب اختلاف ہی نہیں پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی بن گئے حکومت کی جانب سے شور برپا ہے کا وزیر تو یہ کریڈٹ لیتے تھے کہ سارا کچھ ان کی مہربانی سے ہوا ہے اپوزیشن کو تقسیم یہ پیش کش کی تھی کہ پیپلزپارٹی شہباز شریف کی جگہ اپنا چیئرمین دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا اعتراض تو تھا یہ پبلک اکاو¿نٹس کو تقسیم کرنے والی بات تھی۔ مگر اپوزیشن کے اتحاد سے حکومت کو کرنا پڑا،


کرتے بھی کیوں نہ۔ پارلیمنٹ کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں۔ حقیقت یہ بھی کہ حکومت کے سارے مالی معاملات چیئرمین پی اے سی کے ہاتھوں سے گزرتے ہیں معاملہ اس وقت بگڑا جب کامرس کے مشیر کی کمپنی کو ڈیم بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ رزاق داو¿د کا کہنا تھا کہ اب وہ اس کمپنی کے شیئر ہولڈر ہیں مالک نہیں مالک یا چیئرمین اس کا بیٹا ہے۔ تحریک انصاف کو اب پتا چلا ہے۔ کہ تھوک کر چاٹنا کیا ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے بے ضابطگی کا معاملہ قومی اسمبلی میں اتھایا مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو توقع نہیں تھی شہباز شریف کے تعلقات کم از کم پارلیمنٹ کے اندر اتنے مثالی ہو جائیں کہ شک گزرنے لگا کہ کہیں اگلے جنم میں زرداری اور شہباز شریف بھائی تو نہیں تھے رہی سہی کسر شہباز شریف نے منی بجٹ ، پر پوری کر دی جب وزیراعظم عمران کی جیسے ہی قومی اسمبلی میں آور ہوئی تو اپوزیشن نے کو عمران گو کے نعرے بلند کیے۔ یہ نعرے اسی وقت تک گوجتے رہے جب تک وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر ختم نہیں کی اور سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں ہو گیا اور شہباز شریف نے اپنی تقریر آغاز بھی عمران خان کی طرف جوڑ دیا۔ ان کی حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور جاتے جاتے اپنی تقریر میں پیپلزپارٹی کی خواہش کے مطابق ان کو ©Selectedکہہ کر رخصت ہوئے ۔ شہباز شریف جیل میں نہیں ہیں۔ اُن کی رہائش گاہ ہی جیل ہے مگر انہوں نے اس آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پارٹی پالیسی کے برعکس پاکستان کو ملنے والی امداد اور ادھار کا کریڈٹ بھی سپہ سالار کو دے دیا ۔ اس کے بعد سے شیخ رشید کی طرف سے یہ شور برپا ہوا کہ شہباز شریف اگر پی اے سی کے چیئرمین رہے تو وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اُن کے مطابق شہباز شریف سو فیصد این آر او مانگ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ جو قوتیں ان کو لے کر آئیں وہ اب خوش نہیں ہیں کہ ان کو پچھتاوا ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ اب اچانک شور برپا ہوا کہ شہباز کو ہٹاو¿ اور نہ وہ ہمیں لے ڈوبے گا۔ شیخ رشید نے وزیر سے یہ بات منوالی کہ


وہ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے ممبر ہوں گے شہباز شریف کی کرپشن بے نقاب کروں گا۔ رانا ثناءاللہ بھی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ بات کہنے لگے کہ اب وہ بھی کمیٹی کے ممبر بننے کے لیے تیار ہیں مگر ان کا نام تو ڈراپ ہو گیا لیکن جیل میں قید خواجہ سعد رفیق کے بارے میں اعلان کیا گیا کہ وہ کبھی بھی کمیٹی کے ممبرز ہوں گے مگر شیخ رشید کا نام رک گیا۔ نہ جانے وزیراعظم کو شہباز شریف کی موجودگی کی کیا بھیانک تصویر دکھائی کہ نہ صرف شیخ رشید نے پہلے خود مطالبہ کیا کہ شہباز شریف مستعفی ہو جائیں پھر وزیراطلاعات فواد چوہدری روزانہ لے کر ایک دن میں چار چار مرتبہ یہ مطالبہ دہرانے لگے کہ شہباز شریف پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی چیئرمین شب چھوڑ دیں۔ اگر شیخ رشید کے لیے اس کمیٹی میں آتا ضروری ہے تو طے شدہ اصول جو 2002ءسے قائم ہے کہ اس کمیٹی میں کوئی وزیر رکن نہیں بن سکتا یہ رویہ 2002ءسے قائم ہے۔ یہ بھی سوال اہم ہے کہ حکمران جماعت کے ممبرز عدم اعتماد کے ذریعے شہباز شریف کو ہٹا سکتے ہیں سابق سپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کسی چیئرمین کو ہٹانے کا طریق موجود ہی نہیں ہے۔ معاملہ تو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا تھا لیکن وزیراعظم نے ایک بار پھر یہ کہہ کر کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی ڈیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بھی کھرا جواب دے دیا ہے کہ اس کو چلانے کے لیے جتنی کوشش کرنی تھی کر لی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1990ءکی دھائی کا کھیل پھر شروع ہو گیا ۔ دوسری دھمکی آصف زرداری کی ہے جب ایف سی ایوارڈ کی رقم سندھ کے لیے کم کر دی ہے زرداری کا کہنا ہے وسائل کی جنگ سے دوسرا بنگلہ دیش نہیں بننے دیں گے۔ فارم 45 کے آڈٹ تک سلیکٹ وزیراعظم کا نعرہ بھی گونجتا رہے گا۔

Leave a Reply

Top