You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > اے لالچی! اب یونہی پھنسی رہ

اے لالچی! اب یونہی پھنسی رہ

حضرت حاتم اصم کے رہائشی مکان میں چھت پر مکڑی نے جالا بُن رکھا تھا۔ ایک دن آپ اپنے مریدوں اور ارادت مندوں میں بیٹھے ہوئے کسی علمی مسئلہ پر گفتگو فرما رہے تھے کہ ایک مکھی مکڑی کے جالے میں پھنس کر بھنبھنانے لگی۔ حضرت نے مکھی کی بھنبھنا ہٹ سن کر

اس کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اے لالچی! اب یونہی پھنسی رہ۔ اے نادان! ہر جگہ شہد اور قند نہیں ہوتی۔ دنیا تو وہ ہے کہ اس کے اکثر مقامات پر مکر و فریب کے جال پھیلے ہوئے ہیں۔” حضرت کی زبان سے یہالفاظ سن کر ایک مرید نے حیرانگی کے ساتھ کہا۔” یا حضرت! آپ نے اتنے فاصلے سے مکھی کی بھنبھناہٹ کیسے سن لی؟”مرید کی حیرانگی کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو لوگ کانوں سے بہرہ خیال کرتے تھے کیونکہ اصم عربی زبان میں بہرے کو کہتے ہیں۔ حضرت نے جواب دیا۔” مجھے تم لوگ بہرا ہی خیال کرو۔ میں نے جھوٹی اور اپنی بڑائی کی باتیں سننے سے اپنے کانوں کو بہرا بنا لیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ میری خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر اور میرے عیبوں کو مجھ سے چھپا کر بات کرتے ہیں۔ اب جبکہ میں بہرا مشہور ہو گیا ہوں، وہ اکثر میرے بارے میں وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دل میں ہوتی ہے۔”حاصل کلام؛ حضرت حاتم اصم کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے کہ بے معنی تعریف اور بڑائی بیان کرنا انسان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات بھی یہی ہیں ایسی بے جا خوشامدانہ باتوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے تاکہ گمراہی سے بچ سکو۔

Leave a Reply

Top