You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > نیکی و بھلائی کاصلہ

نیکی و بھلائی کاصلہ

شیخ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ ….!۔ ایک مرتبہ چند بڑے لوگوں کے ہمراہ میں ایک کشتی میں بیٹھا ہوا تھا . ایک ڈونگی ہمارے سامنے ڈوب گئی دو بھائی بھنور میں پھنس گئے۔سرداروں میں سے ایک نے ملاح سے کہا :”ان دونوں کو پکڑ کر بھنور سے نکال . میں ہر

ایک کے عوض پچاس دینار سرخ ( سونے کا ہوتا ہے ) دونگا . “ملاح پانی میں گھسا اور ایک کو نکال لایا اور دوسرا ہلاک ہو گیا .۔ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ فر ماتے ہیں کہ میرے منہ سے نکلا کہ “اسکی عمر باقی نہیں رہی تھی . اسی وجہ سے ملاح تو نے اس کے نکالنے میں دیر لگادی اور دوسرے کے نکالنے میں جلدی کی .” ملاح ہنسا اور کہا ! “جو آپ نے فر مایا وہ یقنی بات ہے لیکن ایک سبب اور بھی ہے میں نے کہا وہ کیا ہے ؟”؛میری دلی رغبت اس ایک کے نکالنے میں زیادہ تھی اسلئے کہ ایک وقت میں جنگل میں رہ گیا تھا اس نے مجھے اونٹ پر بٹھا لیا تھا .” “دوسرے کے ہاتھ سے بچپن کے زمانہ میں احقر نے کو ڑے کھائے تھے ۔” یہ سن کر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے سچ فر مایا ہے کہ ….۔ “جس نے نیک عمل کیا اپنے نفس کے فائدہ کیلئے ،اور جس نے برا عمل کیا اپنے اوپر یعنی اس کا نقصان اسی کو پہنچے گا .”۔قطعہ: جب تک تجھ سے ہو سکے کسی کے دل کو مت چھیل (مت ستا) کہ اس راستے میں بہت کا نٹے ہیں ،حاجت مند فقیر کے کام کو پورا کر کہ تجھ کو بھی بہت سےکام پیش آئینگے…۔: اس حکایت کا یہ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے ، حاجت مندوں کی ضرورت حتی الامکان پوری کر نے کی سعی کرنی چاہئے تا کہ نیکی کی جزا نیکی کی صورت میں پیش آئے .۔

(حکایتِ سعدی )

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы