You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > ماں کا احترام

ماں کا احترام

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی اورشوہر بار بار اسکو اپنی حد میں رہنے کا کہہ رہا تھالیکن بیوی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی بیوی زور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ’’اس نے انگوٹھی ٹیبل پر ہی رکھی تھی ا ور تمہارے اور میرے علاوہ اس کمرے

میں کوئی نہیں آیاانگوٹھی ہو نا ہو ماں جی نے ہی اٹھائی ہے۔بات جب شوہر کی برداشت سے باہر ہو گئی تواس نے بیوی کے گال پر ایک زور دار طمانچہ دے مارا۔ابھی تین ماہ پہلے ہی توشادی ہوئی تھی۔بیوی سے طمانچہ برداشت نہیں ہوا وہ گھر چھوڑ کر جانے لگی۔اور جاتے جاتے شوہر سے ایک سوال پوچھاکہ تمہیں اپنی ماں پر اتنا یقین کیوں ہے .. ؟؟تب شوہر نے جو جواب دیااس جواب کو سن کردروازے کے پیچھے کھڑی ماں نے سناتواس کا دل بھر آیا۔شوہر نے بیوی کو بتایا کہ‘‘جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے والد گزر گئے۔ماں محلے کے گھروں میں جھاڑو پوچھا لگا کر جو کما پاتی تھی اس سے ایک وقت کا کھانا آتا تھاماں ایک پلیٹ میں مجھے کھانا دیتی تھی اورخالی ٹوکری ڈھک کر رکھ دیتی تھی اور کہتی تھی میری روٹیاں اس ٹوکری میں ہے بیٹا تو کھا لے میں بھی ہمیشہ آدھی روٹی کھا کر کہہ دیتا تھاکہ ماں میرا پیٹ بھر گیا ہے۔مجھے اور نہیں کھانا ہے ماں نے مجھے میری جھوٹی آدھی روٹی کھا کر مجھے پالا پوسا اور بڑا کیا ہے میں آج دو روٹی کمانے کے قابل ہوا ہوں لیکن یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ ماں نے عمر کے اس پڑاؤ پر اپنی خواہشات کو مارا،اور وہ ماں آج عمر کے اس پڑاؤ پر کسی انگوٹی کی بھوکی ہو گی یہ میں سوچ بھی نہیں سکتاتم تو تین ماہ سے میرے ساتھ ہومیں نے تو ماں کی تپسیا کو گزشتہ پچیس سالوں سے دیکھا ہے ۔یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بیٹا اس کی آدھی روٹی کا قرض چکا رہا ہے یاوہ بیٹے کی آدھی روٹی کا قرض

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы