You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > حسن سلوک اور حقیقی اطاعت

حسن سلوک اور حقیقی اطاعت

حضرت سعدی ؒنے ایک شخص کو دیکھا ،جو بکری کی رسی تھامے چل رہا تھا ۔بکری اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ جیسے اسے اپنے گلے میں رسی کا پھندا ہونے کا احساس نہ ہو ۔حضرت سعدیؒ نے اس شخص سے کہا کہ بکری اس لیے تیرے پیچھے جا رہی ہے کہ اس کے

گلے میں رسی ہے۔ یہ سنتے ہی اس شخص نے جھٹ پٹ رسی کھول دی ،تو بکری پھر بھی اس شخص کے پیچھے چلتی رہی۔وہ شخص بولا: بکری کو رسی نے نہیں میرے احسان نے میرا مطیع بنایا ہے۔ میں نے اسےکبھی بھوکا پیاسا نہیں رہنے دیا۔ اسے خوب کھلاتا پلاتا ہوں۔ احسان کی رسی سے مضبوط کوئی رسی نہیں۔ اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے حقیقی دوست اور خیر خواہ پیدا کرنے کا زریں اصول بتایا ہے کہ اگر حسن سلوک سے دل جیت لیا جائے، تو ان کے اطاعت حقیقی اطاعت ہو گی۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы