You are here
Home > منتخب کالم نگار > پھر کہتے ہو پارلیمنٹ کو گالیاں کیوں دی جا رہی ہیں ؟ نامور صحافی نے عمران خان کے موقف کی تائید میں کیا کچھ کہہ ڈالا ؟ جانیے

پھر کہتے ہو پارلیمنٹ کو گالیاں کیوں دی جا رہی ہیں ؟ نامور صحافی نے عمران خان کے موقف کی تائید میں کیا کچھ کہہ ڈالا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) ارکان پارلیمنٹ کو شکایت ہے کہ دنیا ان کی عزت نہیں کرتی ۔ جہاں تک اس شکایت کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ اراکین ہی اپنے قول و فعل سے ہر ادارے کی عزت و احترام میں کمی یا اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔

نامور کالم نگار اسلم لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوںکہ لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی ۔ا ن کے اس عمل پر ہر جانب سے لعن طعن تو ہوئی لیکن سپیکر قومی اسمبلی سمیت کسی کو توہین پارلیمنٹ کی سزا کے طور ان کی رکنیت منسوخ کرنے کی جرات نہیں ہوئی ۔اس کا مطلب تو یہی لیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اور شیخ رشید نے جو کچھ کہاتھا ٗ وہ غلط نہیں تھا ۔ مزید برآں ہماری پارلیمنٹ ایسی ہی کالی بھیڑوں سے بھری ہے جو اپنے ضمیر اور ووٹ کو ہر انتخاب کے موقع پر فروخت کرنا نہیں بھولتے ۔ بات کی جائے تو جواب ہوتاہے کہ کروڑ وں روپے خرچ کرکے اسمبلی پہنچے ہیں ۔ا پنے سر مایے کی ریکوری بھی تو کرنی ہے ۔اگر حکومتی فنڈ میں خرد برد کی جائے تو نیب اور عدالتیں پیچھے پڑ جاتی ہیں لیکن ووٹ خریدنے اور فروخت کرنے کا نہ کسی کے پاس دستاویزی ثبوت ہوتا ہے اور نہ عدالتیں اور دیگر احتسابی ادارے اس پر گرفت کرسکتے ہیں

کیونکہ لینے اور دینے والوں کے سوا کسی کوکانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کے سابق ادوار میں بھاری رقوم کے عوض ہارس ٹریڈنگ کی باتیں تو سب کو یاد ہیں لیکن حالیہ سینیٹ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے رہنماضیا اللہ آفریدی کے بقول عمران خان اور پرویز خٹک نے چالیس چالیس کروڑ روپے کے عوض سینیٹ کے ٹکٹ اپنے امیدواروں کو فروخت کیے ۔ جبکہ شیخ رشید فرماتے ہیں کہ بلوچستان کی پوری اسمبلی ہی اس مرتبہ بک گئی۔ ہر ممبر صوبائی اسمبلی نے اپنا ووٹ چھ چھ کروڑ میں فروخت کیا ۔ اب ووٹوں کے بیوپاری آصف علی زرداری بلوچستان ٗ فاٹا سمیت تمام منتخب ہونے والے آزاد ممبران سینیٹ کو خریدنے کی جستجو کررہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ چیئرمین سینٹ ہمارا ہوگا اور اگلی حکومت بھی ہماری ہی ہوگی ۔ کسی نے کیا خوب کہاتھا کہ آمریت میں ایک شخص لوٹتا ہے تو جمہوریت میں لاکھوں افراد قومی خزانے پر اپنا اور اپنے خاندان کا بوجھ ڈالتے ہیں ۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جو شخص اربوں روپے خرچ کرکے چیئر مین سینٹ بنے گا کیا اس سے پارلیمنٹ اور قوم سے وفا کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن کاکردار بہت مایوسانہ ہے ۔ اسکے باوجود کہ الیکشن کمیشن بہت طاقتور اور آزاد و خود مختارکہلاتا ہے لیکن اس کی حقیقی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس بات کا پہلا ثبوت تو ہر ضمنی الیکشن میں روکنے اور نوٹس دینے کے باوجود عمران خان کا جلسوں سے خطاب ہے ۔کہنے کی بات یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف نوٹس ہی جاری کرنا ہے ٗ عملی طور پرکاروائی کرنا نہیں ۔ ابھی تک کسی خلاف ورزی کرنے والے کی نہ تو رکنیت ختم ہوئی اور نہ کسی کو جرمانہ ہوا ۔ اب سینٹ کے الیکشن میں تقریبا تمام سیاسی جماعتوںکے سربراہان اور اراکین کی جانب سے پچیس پچیس کروڑ روپے کے ووٹ بکنے اور خرید ے جانے کے بیانات اخبارات میں تسلسل سے چھپ رہے ہیں الیکشن کمیشن حالت سکون میںہے ۔وہ الیکشن کمیشن جس کی توہین کرنے والے عمران خان کو دو سال تک غیر حاضری پر کوئی سزانہیں مل سکی ٗجو غیر ملکی فنڈ پر کوئی جرات مندانہ کارروائی نہیں کرسکا ٗ وہ سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ پر کیا کارروائی کر ے گا۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارا قومی مزاج ہی ایسا بن چکا ہے کہ

حکومتیں بننے اور گرانے میں ووٹوں کی منہ مانگی قیمتیں مانگی جاتی ہیں اور دینی پڑتی ہیں ۔ عہدوں کے شوقین لوگوںنے ہر سطح کے الیکشن کو پیسے کا کھیل بنا رکھا ہے۔ پھر کہاجاتاہے کہ پارلیمنٹ کی عزت نہیں کی جاتی ۔ جس ادارے میں ایسی گندی مچھلیاں کثرت سے موجود ہوں وہ اعلی ترین ریاستی ادارے کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں بن سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی توہین کرنے پر تو سزا مل جاتی ہے لیکن پارلیمنٹ کی توہین کرنے والے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دندناتے پھرتے ہیں ٗ ان کی ہوا کو بھی کوئی چھو نہیں سکتا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ قران پاک پر ہر ممبر پارلیمنٹ سے حلف لیاجائے جو جھوٹ بولیں گے وہ اللہ کی گرفت میں ہوںگے اور جو پیسے لے کر ووٹ دینے اور لینے کااقرار کریں ان کی رکنیت قومی اسمبلی و سینٹ فوری طور پر منسوخ کر تے ہوئے ٗہمیشہ کے لیے انہیں نااہل قراردے دیا جائے ۔شاید اسی طرح پارلیمنٹ میں ہونے والے ہر الیکشن کو پیسوں کے لالچ سے پاک کیاجاسکے ۔ وگرنہ سیاسی دائو پیچ کے ساتھ ساتھ پیسے کا بے جا استعمال نہ صرف پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرتا رہے گا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی بھی ہوتی رہے گی۔

Leave a Reply

Top