You are here
Home > خبریں > پاکستان > چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن کو ووٹ دینے والے (ن) لیگیوں کے کام کی خبر :عبرتناک کارروائی کا فیصلہ ہو گیا

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن کو ووٹ دینے والے (ن) لیگیوں کے کام کی خبر :عبرتناک کارروائی کا فیصلہ ہو گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔نجی نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ‘کچھ لوگوں نے

ہم سے وعدہ کر کے بھی ووٹ نہیں دیا، اس معاملے میں اصل کردار ان لوگوں کا ہے جو اس منظر میں نظر نہیں آرہے’۔مشاہد اللہ خان نے مزید کہا کہ ‘تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح ممکنہ ووٹ ہمارے امیدواروں کو نہیں ملے’۔دوسری جانب آج جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما میاں جاوید لطیف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘چند کمزور لوگ دباؤ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے ووٹ نہیں دیا تاہم اتحادی جماعتوں کے لوگوں نے دباؤ بھی برداشت کیا اور ووٹ دیا’۔جاوید لطیف نے کہا کہ ‘نئے پاکستان اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے آج بے نقاب ہوگئے، آنے والے دنوں میں نواز شریف مخالف لوگوں کو اکھٹا کیا جائے گا’۔یاد رہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابی عمل میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جب کہ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر کلثوم پروین اعتراف کرچکی ہیں کہ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ یاد رہے کہ حکمراں اتحاد کے راجا ظفرالحق نے چیئرمین سینیٹ کے لئے 46 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخاب سے قبل 53 ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ حکمراں اتحاد کے امیدوار تھے جنہیں 44 ووٹ ملے جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں جو ہوا اسے وہ جمہوریت کی شکست سمجھتے ہیں، حیرت ہے کہ ووٹوں میں اتنا فرق کیسے آگیا۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ لوگ کہتے تھے آصف زرداری سب پر بھاری لیکن اب کہا جائے گا جو آصف زرداری پر بھاری وہ سب پر بھاری۔یاد رہے اس سے پہلےجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں آج جو ہوا اسے جمہوریت کی شکست سمجھتا ہوں۔پروگرام’’آج شاہ زیب خانزادہ کےساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے وعدے پر پورا اترے ہیں، آج بھی انتہائی دباؤ کے باوجود اتحادی کا ساتھ دینے کا حق نبھایا، ہم نے اتحادی کے ساتھ اتحادی ہونے کا حق ادا کیا۔چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم بھی حیرت میں ہیں کہ اتنا فرق کیسے آگیا، آج جو ہوا اسے جمہوریت کی شکست سمجھتاہوں۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بظاہر اتحاد کے حوالے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دونوں قوتیں کھینچ تان کر اسٹیج پر لائی گئیں خود نہیں آئیں، دونوں پارٹیوں کے بلوچستان جاکر اتفاق کی حقیقت سب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سر دست تو یہی اہداف ہیں کہ نوازشریف کو دیوار سے کیسے لگایا جائے، نواز شریف پارلیمانی سیاست کا حصہ ہیں اوررہنا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ زرداری صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری، معاملہ ایسا ہوگیا جو زرداری پر بھاری وہ سب پر بھاری۔(ذ،ک)

Leave a Reply

Top