You are here
Home > پا کستا ن > توہین عدالت کیس: سزا تو نہ ہوئی مگر ۔۔۔نواز شریف کے خلاف چیف جسٹس نے ایسے ریمارکس دے ڈالے کہ جامعہ نعیمیہ میں پیش آنے والے واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی

توہین عدالت کیس: سزا تو نہ ہوئی مگر ۔۔۔نواز شریف کے خلاف چیف جسٹس نے ایسے ریمارکس دے ڈالے کہ جامعہ نعیمیہ میں پیش آنے والے واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی ایک اور درخواست خارج کر دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے نواز شریف کا بیان غیر سجنیدہ ہے، مگر تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقت نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے

کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار شیخ احسن الدین نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے عدالتی توہین کی، نواز شریف نے لاہور ریلی کے دوران عدلیہ کو متنازعہ بنایا اور کہا کہ میری نااہلی 20 کروڑ عوام کے ووٹ کی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کسی اور مقام میں شاید توہین آمیز بات کی گئی ہو، جو مواد آپ نے پیش کیا وہ سیاسی ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف بھی توہین عدالت کی رٹ خارج کر دی۔ وکیل درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ خواجہ سعد رفیق کی صرف 2 تقاریر دیکھ لیں، وفاقی وزیر کا انداز گفتگو توہین عدالت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا دکھا دیں کونسی تقاریر ہے، کئی چیزیں ہمارے پاس پڑی ہیں ہم درگزر کر رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے سب کے ایک ہی جگہ جھکنے کی وجوہات سامنے آنی چاہییں، نگران حکومت آئین سے بالاتر ہو کر کوئی کام نہیں کر سکتی۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کل بھی کہا تھا کہ کیا وجہ تھی بنی گالہ والے ایک ہی دربار پر جا کر جھک گئے ، کراچی سے آنے والے بھی سنجرانی کے دربار پر جا کر جھک گئے۔انہوں نے کہا جی پی ایس کی طرح ہر کوئی ایک ہی جگہ پر جا پہنچا، سب کے ایک ہی جگہ جھکنے کی وجوہات عوام کے سامنے آنی چاہیں۔سابق وزیراعظم نے صحافی کے الیکشن سے متعلق سوال پر جواب دیا اب نہ وہ وقت رہا ہے اور نہ ہی حالات ، دنیا اب بہت آگے چلی گئی ہے۔ نگران سیٹ اپ کے سوال پر نواز شریف نے کہا نگران حکومت آئین سے بالاتر ہو کر کوئی کام نہیں کر سکتی۔(ع،ع)

Leave a Reply

Top