You are here
Home > خبریں > پاکستان > تازہ ترین انکشاف :تحریک انصاف کئی دھڑوں میں تقسیم ۔۔۔۔کل عمران خان کے گجرات اور لالہ موسٰی کے دورے میں کیا واقعات پیش آئے۔۔۔؟ خبر آگئی

تازہ ترین انکشاف :تحریک انصاف کئی دھڑوں میں تقسیم ۔۔۔۔کل عمران خان کے گجرات اور لالہ موسٰی کے دورے میں کیا واقعات پیش آئے۔۔۔؟ خبر آگئی

گجرات (ویب ڈیسک ) سرائے عالمگیر ،جلال پورہ جٹاں کے دورہ کے موقع پر چئیر مین پی ٹی آئی چار دھڑوں میں تقسیم نظرآئی ۔جی ٹی ایس چوک پر چوہدری سلیم سرور جوڑا ، چوہدری افضل گوندل اور عثمان دھدرا کی جانب سے خاصی بہترانداز سے چو ک میں تین اسٹیج بنائے گئے

جہا ں سے اسٹیج سپیکرکے زریعے تینوں چوک سے عمران خان کو خطاب کے لیے دعوت کے لیے مدعو کیا جاتا رہا، عمران خان نے اسٹیجوں کی جانب جانے کی بجائے گاڑی کی چھت پر کھڑے ہوکر خطاب کرنا بہتر سمجھے۔پورا دن پارٹی کے کارکنان آپس میں گتھم گتھا ہوتے رہے،مدثر مچھیانہ کی جانب سے لگائے گئے کچہری چوک کے کیمپ سے بھی خطاب کیا،عمران خان کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی کے طلبہ کو چھٹی دے دی گئی۔لالہ موسٰی پہنچنے پر 47 من پو لوں کی پتیوں سے عمران خان کا استقبال کیا گیا۔عمران خان ہیلی کاپٹر سے اترے تو پولیس اہلکار ہیلی کاپٹر کے ساتھ سیلفیاںبناتے رہے،عثمان دھدرا نے اسلام آباد سے کنٹیئر بھی منگوایا تھا۔سرائے عا لگیر نامہ نگار کے مطابق پر عمران خان کی آمد پر سرائے عالمگیر میں بھی پی ٹی آئی واضع طورپردو دھروں میں تقسیم نظر آئی۔الگ الگ سٹیج لگائے گئے،چوہدری ارشد سابقہ ایم پی اے ،الیاس چوہدری ،راجہ نعیم نواز نے علیحدہ علیحدہ اسٹیج سجارکھے تھے ۔عمران خان اور ان کے ساتھیوںسمیت صوبائی مرکزی قیادت کے لئے دو جگہ پر کھانو کا انتظام کیا گیاان کھانوں میں ثابت بکرے،چڑے ،بٹیرے ،نہاری،دال ماش ،سری پائے،سویٹ ڈیشز،مٹن بیف ،مچھلی ،منرل واٹر اور امپورٹڈ مشروبات شامل تھے۔سرائے عالمگیر میں سارا

دن اہم وکٹ گرنے کی باز گشت سنائی دیتی رہی۔عمران خان کے آنے کے مو قع پر سرائے عالمگیر جی ٹی روڈ پر ریلیاں نکالی گئیں،جلال پور جٹاں میں عمران خان کی آمد پر پارٹی کی قیادت میں و ٹکٹوں کے خواہشمند نظر آئے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں نے الگ الگ اسٹیج بنائے ،دو میلاچوک اور ٹانڈہ کے اردگردمیں کاروبار بند کرواکر سڑکوں کو بند کر دیا گیا،شہریوں کو آ مدورفت کے لئے مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ،تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان آپس میں پریشان اور مایوس نظر آئے ۔عمران خان کی ریلی کو سکیورٹی صورت حال پر کافی بڑی تعداد میں نفری تعینات تھی۔لوگوں نے ریلی ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا۔مقامی پولیس کے علاوہ ضلع بھر سے پولیس کو ڈیوٹی پر طلب کیا گیا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مشرقی الغوطہ میں شامی فوج کے خلاف برسرپیکار ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام کے سیاسی عہدے دار یاسر دلوان نے کہا ہے کہ دوما سے مریضوں کے پہلے گروپ کو نکالا گیا ہے ۔ان کے نام اقوام متحدہ کی مرتب کردہ قریباً ایک ہزار افراد کی فہرست میں شامل تھے، اور انھیں فوری طور پر ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔جو ایک اہم اقدام سمجھا جارہا ہے اس کے علاوہ شام کے سرکاری میڈیا نے دوما سے پہلے گروپ کی شکل میں آنے والے 35 افراد کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔انھیں دمشق کے نواح میں ایک شیلٹر میں منتقل کیا جا رہا تھا۔انہو ں میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی ٹی وی نے بعض ایسے افراد کے انٹرویوز کیے ہیں جن کا کہنا تھا کہ انھیں باغیوں نے روک رکھا تھا۔ شام اور روس نے باغیوں پر علاقے کے محصور مکینوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ باغیوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

Leave a Reply

Top