You are here
Home > خبریں > پاکستان > چولی کے پیچھے بہت کچھ ہے۔۔۔ پاکستان کا وہ نجی ٹی وی چینل جو اشتہاروں کے بغیر چلایا جا رہا ہے، اس کے خفیہ ذرائع آمدن کون سے ہیں ؟ سپریم کورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

چولی کے پیچھے بہت کچھ ہے۔۔۔ پاکستان کا وہ نجی ٹی وی چینل جو اشتہاروں کے بغیر چلایا جا رہا ہے، اس کے خفیہ ذرائع آمدن کون سے ہیں ؟ سپریم کورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ازخود نوٹس میں پی بی اے کی فریق بننے کی درخواست خارج کردی ،دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ انشااللہ پاکستان کی بدنامی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ پاکستان کی عزت کے سوا باقی تمام چیزیں ثانوی ہیں ،

عدالت کو صرف پاکستان کی عزت مقدم ہے ،اربوں روپے کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے ، بول کہا ں سے چل رہاہے ، نہ یہ اشتہار لے رہے ہیں پھر آمدن کہاں سے آ رہی ہے ۔چیف جسٹس میا ں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ازخود نوٹس کی سماعت کی تو پی بی اے کے وکیل نے کہا کہ جرائم کا پیسہ میڈیا میں لگایا جارہا ہے ، کمپنی کا کل اثاثہ 70 لاکھ ہے تنخواہیں کروڑوں میں دیتی ہے تو چیف جسٹس نے کہا پہلے جرم ثابت ہو جائے پھرجرم کے پیسے کا بھی دیکھیں گے ،پی بی اے کا معاملہ سے کوئی تعلق نہیں بنتا جہا ں ایگزیکٹ کا معا ملہ ہے تو ایف بی آر سے ایگزیکٹ کمپنی کا آڈٹ کرالیں گے ،چیف جسٹس نے پی بی اے کے وکیل سے کہا کہ آپ کا کیا مفاد ہے تو انہو ں نے بتایا کہ پوری میڈیا انڈسٹری سٹیک پر ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ پوری میڈیا انڈسٹری کل بھی سٹیک پر تھی کل شاہد مسعود نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری سٹیک پر ہے ،جب بھی کسی سے کچھ پو چھ لیں میڈیا انڈسٹری سٹیک پر آجاتی ہے ،پتہ نہیں یہ کونسا سٹیک ہے کہیں یہ چکن سٹیک تو نہیں ،ضرورت پڑی تو پیمرا کو فریق بنائیں گے ۔بول کے با رے میں انہو ں نے کہا یہ بتایا جائے کہ بول کو پیسہ کہا ں سے آرہا ہے یہ تو اشتہار بھی نہیں لے رہا ،

جب ان کے پاس پیسے نہیں ہیں تو سارا کھا تہ کہا ں سے چل رہا ہے ،کیوں نہ بول کا آڈٹ کرا لیں؟ ایف بی آر سے ٹیکس ریٹرن منگوالیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ایگزیکٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں دائراپیلوں کاکیابنا، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرالتواپیل پر سماعت آج ہوگی جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے معاملہ دوباہ ٹربیونل کوبھجوادیاہے ۔ چیف جسٹس کے استفسار پر ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کے وکیل نے کہاکہ مقدمات زیرالتواہیں گواہوں کے بیان مکمل ہونے والے ہیں ۔اس دوران عدالت نے ممبر ایف بی آر انکم ٹیکس کوطلب کرلیا۔جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ پاکستان کانام بدنام نہیں ہونا چاہیے ، چیف جسٹس نے کہاکہ انشااللہ پاکستان کی بدنامی نہیں ہونے دیں گے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کیں یا نہیں تو شعیب شیخ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں بنتی ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ بول رقم سپریم کورٹ میں جمع کرا دے ہم دیکھ لیں گے کہ کتنی رقم بنتی ہے ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق شعیب شیخ غیرملکی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں۔ عدالت طلبی پر ممبر ایف بی آر انکم ٹیکس عدالت میں پیش ہوئے تو شعیب شیخ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہماری دو کمپنیاں ہیں، ایک ایگزیکٹ اور دوسری لبیک، چیف جسٹس نے کہاکہ ایف بی آر دس سال کا ٹیکس ریکارڈ لے کر آئے اور وضاحت کرے بول ٹی وی کیسے چل رہا ہے ،

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیاکہ کیا سیلف فنانس سے ٹی وی چل رہا ہے ، اگر سیلف فنانس ہے تو پھر آمدن کے ذرائع بتا دیں، اس دوران اینکر پرسن نذیر لغاری کا کہنا تھاکہ ہمارے خلاف پراپیگنڈا ہو رہا ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ اگرآپ کے خلاف پراپیگنڈا ہو رہا ہے تو آپ کو خوش ہونا چاہیے ، عدالت آپ کے لیے کام کر رہی ہے ہو سکتا ہے آپکو تحقیقات میں کلین چٹ مل جائے ، نذیر لغاری نے کہاکہ ہمارے سی او اور چیئرمین کو ضمانت نہیں مل رہی،جس جرم میں پکڑا گیا ہے اسکی سزا دو سال ہے ،شعیب شیخ پندرہ ماہ پہلے بھی حراست میں رہ چکے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتیں بڑی آزاد ہیں، شعیب شیخ جیل میں ہیں تو رہنے دیں جس نے برا کیا وہ جیل رہے ،وکیل شعیب شیخ نے استدعا کی کہ کسی آزاد ادارے سے تحقیقات کرا لیں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے ایف بی آر کی تفصیلات آنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں، ممبرایف بی آر نے عدالت کوبتایاکہ لبیک نے 2011سے گوشوارے فائل نہیں کیے ، جس پر وکیل نے برجستہ جواب دیا کہ 2011کے بعد بول کے نام سے گوشوارے فائل کیے ، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ایف بی آر کو سارے نام بتا دیں کن ناموں سے ریٹرن فائل ہوئے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزیدسماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ہے ۔

Leave a Reply

Top