You are here
Home > منتخب کالم نگار > مرد ہو یا عورت ہر پاکستانی اس خوف میں کیوں مبتلا ہے کہ کہیں کوئی دوسرا اس موبائل فون چیک نہ کرلے ۔۔۔۔نامور خاتون کالم نگار نے پوری قوم کی چوری پکڑ کر راز کی بات کہہ ڈالی

مرد ہو یا عورت ہر پاکستانی اس خوف میں کیوں مبتلا ہے کہ کہیں کوئی دوسرا اس موبائل فون چیک نہ کرلے ۔۔۔۔نامور خاتون کالم نگار نے پوری قوم کی چوری پکڑ کر راز کی بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) لگتا ہے کہ میں چولہا بندکرنا بھول گئی ہوں !! سلام پھیرنے سے پہلے ہی خیال آتا ہے اور جلدی جلدی ہم بغیر سمجھے اور توجہ کے باقی ماندہ نماز پوری کر کے سلام پھیر کر فورا کچن میں جا کر چولہا چیک کرتے ہیں … کبھی لگتا ہے کہ استری کرتے کرتے نماز شروع کر دی ہے تو کہیں استری بند کرنا نہ بھول گئے ہوں۔

نامور خاتون کالم نگار شیریں حیدر لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کبھی یوں لگتا ہے کہ کوئی بلا رہا ہو تو سلام پھیرتے ہی چیک کرنا ہوتا ہے کہ کہیں واقعی کوئی بلا تو نہیں رہا۔ کہیں سفر کی تیاری ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ نکلتے نکلتے پانچ منٹ میں چار فرض پڑھ لیے جائیں… نماز ہم یوں ادا کرتے ہیں جیسے ہم نے اللہ تعالی کا کوئی ادھار دینا ہے یا ہم اس پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔خشوع و خضوع سے خالی، ارتکاز مفقود، توجہ بھٹک بھٹک کر دائیں بائیں جاتی ہوئی، وہ وہ خیالات نماز میں امڈ کر آتے ہیں کہ جو عام حالات میں کبھی نہیں آتے، وہ پریشانیاں اور سوچیں کہ نماز مجبوری کا سودا لگنے لگتی ہے۔ ہم نماز میں کیا پڑھتے ہیں، اسے سمجھنے کی تو ہم یوں بھی کوشش نہیں کرتے مگر دنیا کے جھمیلوں میں ہم جو نماز پڑھتے ہیں وہ بھی یوں ہوتی ہے کہ شاید کوئی ہمارے لیے اس نیت اور اس انداز سے کوئی کام کرے تو ہم کبھی خوش نہ ہوں ۔ دن کی پانچ نمازوں کاپڑھ لینا بھی ایک جوئے شیرکے لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ اتنی چیزیں اور سوچیں ہیں کہ جو ہمیں توجہ سے نماز پڑھنے دیتی ہیں نہ قرآن۔

لگتا ہے کہ میں چولہا بندکرنا بھول گئی ہوں !! سلام پھیرنے سے پہلے ہی خیال آتا ہے اور جلدی جلدی ہم بغیر سمجھے اور توجہ کے باقی ماندہ نماز پوری کر کے سلام پھیر کر فورا کچن میں جا کر چولہا چیک کرتے ہیں … کبھی لگتا ہے کہ استری کرتے کرتے نماز شروع کر دی ہے تو کہیں استری بند کرنا نہ بھول گئے ہوں۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ کوئی بلا رہا ہو تو سلام پھیرتے ہی چیک کرنا ہوتا ہے کہ کہیں واقعی کوئی بلا تو نہیں رہا۔ کہیں سفر کی تیاری ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ نکلتے نکلتے پانچ منٹ میں چار فرض پڑھ لیے جائیں… نماز ہم یوں ادا کرتے ہیں جیسے ہم نے اللہ تعالی کا کوئی ادھار دینا ہے یا ہم اس پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ خشوع و خضوع سے خالی، ارتکاز مفقود، توجہ بھٹک بھٹک کر دائیں بائیں جاتی ہوئی، وہ وہ خیالات نماز میں امڈ کر آتے ہیں کہ جو عام حالات میں کبھی نہیں آتے، وہ پریشانیاں اور سوچیں کہ نماز مجبوری کا سودا لگنے لگتی ہے۔ ہم نماز میں کیا پڑھتے ہیں، اسے سمجھنے کی تو ہم یوں بھی کوشش نہیں کرتے مگر دنیا کے جھمیلوں میں ہم جو نماز پڑھتے ہیں وہ بھی یوں ہوتی ہے

کہ شاید کوئی ہمارے لیے اس نیت اور اس انداز سے کوئی کام کرے تو ہم کبھی خوش نہ ہوں ۔ دن کی پانچ نمازوں کاپڑھ لینا بھی ایک جوئے شیرکے لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ اتنی چیزیں اور سوچیں ہیں کہ جو ہمیں توجہ سے نماز پڑھنے دیتی ہیں نہ قرآن۔ دوسری طرف آپ دیکھیں کہ عصر حاضر میں گھروں میں ہونیوالے چھوٹے موٹے حادثات ہوں یا سڑکوں پر فون کے استعمال کی وجہ سے دوران ڈرائیونگ فون کے استعمال کے باعث ٹکرانے یا پیدل چلتے ہوئے بے دھیان ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہو جانے کے ان حادثات میں سے لگ بھگ نصف کا تعلق اس آفت کی جڑ سے ہے جس کے بارے میں چند برس پہلے تک کسی کی سوچ بھی نہ جا سکتی تھی۔ جی ہاں ، موبائل فون۔ ہم میں سے ہر کوئی اس کے بارے میں اتنا پریشان رہتا ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے، اس سے متعلقہ ہماری پریشانیوں کی نوعیت وہ ہے جو سب کے ساتھ ہوتی ہے۔ فون کی بیٹری ختم ہو گئی ہے اور چارجر نہیں ہے… انٹر نیٹ ڈیٹا ختم ہو گیا ہے… وائی فائی کام نہیں کر رہا… لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چارجر جل گیا ہے …

فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا نیا ماڈل آگیا ہے اور میرا فون پرانا ہو گیا ہے … فون پانی میں گر گیا ہے … فون چولہے کے پاس رکھا تھا، اسکو حرارت لگ گئی ہے… فون کا پاس ورڈ بھول گیا ہے… فون ہیک ہو گیا ہے… فون میں بیلنس ختم ہو گیا ہے… فون کی سم بلاک ہو گئی ہے… فون میں دھیان تھا تو سیڑھیوں سے پھسل کر گر گئے…فون کی طرف دیکھ رہے تھے تو کسی کی بات نہیں سنی۔جتنا ارتکاز اور توجہ ہم فون کی طرف رکھتے ہیں اس سے نصف بھی ہم نماز اور دیگر عبادات کی طرف نہیں کر پاتے۔ نماز پڑھتے ہوئے ہمیں وہ سب کچھ سنائی دے رہا ہوتا ہے جو نہیں سننا ہوتا ، ارد گرد بیٹھے ہوئے سب لوگوں کی باتیں کانوں میں پڑتی ہیں اور دھیان بٹ بٹ جاتا ہے مگر فون پر پیغامات پڑھتے ہوئے یا کوئی گیم کھیلتے ہوئے خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہم کس دنیا میں ہیں اور ہمارے ارد گرد بھی کوئی دنیا ہے۔ جس محبت سے ہم اپنے فون کو ہر وقت اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اتنی محبت شاید ہمیں اپنے رشتہ داروں سے بھی نہیں ہوتی، جتنی فکر ہمیں اس کی ہوتی ہے،

اتنی فکر ہمیں اپنے بچوں کی بھی نہیں ہوتی ، جتنا وقت ہم اپنے فون کو دیتے ہیں… اتنا وقت ہم اپنے آپ کو بھی نہیں دیتے۔ اس ایجاد سے صرف ہمیں آسانی ہی نہیں ہوئی بلکہ اس نے انسانی معاشرت کا طرز ہی بدل دیا ہے۔ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو سنا تھا کہ شیطان نے اللہ تعالی سے اجازت لی تھی کہ وہ اسے قیامت تک اپنے بندوں کو بھٹکانے کی اجازت دے تو ہم سوچتے تھے کہ ایک شیطان اور ہزاروں انسان، ( اس وقت وژن اتنا ہی چھوٹا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ علم ہوا کہ دنیا ایک گلی، محلے، شہر ، گاؤں اور ملک سے بہت بڑی ہوتی ہے۔ جوں جوں اندازہ ہوتا گیا کہ دنیا میں بسنے والوں کی تعداد ہماری سوچ سے بہت بڑی ہے تو اور بھی استعجاب بڑھا، پھر علم ہوا کہ شیطان کے چیلے بھی ہوتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ ان چیلوں کی تعداد بھی شاید اتنی نہ ہو۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ شیطان کے کام کرنے کا انداز کیا ہے۔ کس طرح وہ کم چیلوں کے ساتھ بھی اپنا کام کر سکتا ہے کیونکہ ہمارے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے فون اس کے چیلے ہی تو ہیں۔ آپ خانہ کعبہ میں بھی نماز پڑھ رہے ہوں تو آپ کو لوگ نماز کی طرف کم متوجہ نظر آئینگے،

بیٹھ کر تلاوت کرتے ہوئے بھی ارتکاز نہیں ہوتا اور بیچ بیچ میں فون چیک کر رہے ہوتے ہیں۔ طواف کعبہ کے دوران بھی، سیلفی سٹک کے ساتھ فون ہوا میں بلند کر کے اپنی تصاویر لی جا رہی ہوتی ہیں ، عبادت میں دھیان کم اور عبادت کو ریکارڈ کرنے پر زیادہ ہوتا ہے۔ کسی موضوع پر بات ہو رہی ہو تو جہاں معلومات ناقص ہوتی ہیں، گفتگو میں گرمی آنے لگتی ہے ( ویسے تو اب گفتگو ہوتی ہی کیا ہے کیونکہ فون جو سب کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں ) تو وہیں کئی فون کھلتے ہیں اور ’’ گوگل‘‘ سے جواب لے لیا جاتا ہے۔ مذہبی اسکالرز کے خیالات، اپنی سوچ، دوستوں کے مشورے، بزرگوں کے تجربات، ڈاکٹرزکی رائے اور ماہرین کی سوچ ایک طرف اور گوگل پر پیش کیا گیا حل ایک طرف، اسے پورے وثوق سے مانا جاتا ہے۔ فون کے حد سے زیادہ استعمال کی اس بیماری کی تشخیص کے لیے جاننا ضروری ہے کہ اس کے مریضوں کی آنکھیں صبح جاگنے پر لال اور سوجی ہوئی ہوتی ہیں بالخصوص وہ لوگ جنہوں نے پیکیج لگائے ہوتے ہیں اور رات بھر مفت باتیں کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ چلتے پھرتے کام کے دوران، مستری ، مزدور،

جمعدار، ریڑھی بان، گھریلو ملازمین، کھوکھوں والے اور خواتین خانہ تک… آپ کو سر ایک کندھے کی طرف جھکا ہوا نظر آتا ہے، کندھے اور کان کے بیچ میں یہ شیطانی چرخہ پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ رات کو سوتے میں بھی اٹھ اٹھ کر اسے ہاتھوں میں تھام کر، اس پر وقت دیکھنا، پیغامات چیک کرنا اور اس خوف میں مبتلا رہنا کہ کوئی اور ہمارا فون چیک نہ کرلے، اس بیماری کی خاص علامات میں سے ہیں۔ محفل میں انسان خود کو تنہا اور تنہائی میں خود کو میلے میں سمجھتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہونیوالوں میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے، چھوٹے یعنی چند ماہ کے بچے سے لے کر، جسے اپنی انگلیوں کو استعمال کرنے کی جانکاری حاصل ہو جاتی ہے سے لے کر اسی نوے سال تک کا ہرشخص اس میں بری طرح مبتلا ہو سکتا ہے۔ ماہرین ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں کر سکے، علاج تو دور کی بات ہے، اس کا کوئی نام بھی نہیں رکھا جا سکا ہے۔ اگر آپ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے… یعنی اس کا نام تو براہ مہربانی اسی کو میرے کالم کا عنوان تصور کر لیں کہ میرا یہ کالم بلا عنوان ہے۔

Leave a Reply

Top