You are here
Home > خبریں > پاکستان > آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔ عمران ، زرداری سیاسی اتحاد اور سینیٹ الیکشن میں (ن) لیگ کی شکست کیا کچھ کہہ رہی ہے ؟ ملاحظہ کیجیے تازہ ترین سیاسی تبصرہ

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔ عمران ، زرداری سیاسی اتحاد اور سینیٹ الیکشن میں (ن) لیگ کی شکست کیا کچھ کہہ رہی ہے ؟ ملاحظہ کیجیے تازہ ترین سیاسی تبصرہ

کراچی(ویب ڈیسک )سینئر تجزیہ کاروں نےکہا ہے کہ نواز شریف آج کنونشن میں جذباتی نظر آئے مگرخوفزدہ نہیں تھے،نواز شریف کی تقریر میں جذباتیت سے زیادہ غصہ نظر آرہا تھا،نواز شریف مخالف بہت بڑا اتحاد بنایاجارہا ہےجس کاپہلا اظہار کل سینیٹ میں دیکھا گیا،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کاانتخابی اتحاد ہوگیا تونواز شریف کیلئے اس سے بہترکچھ نہیں ہوگا،

نواز شریف خوفزدہ ہیں کہ عام انتخابات بھی چیئرمین سینیٹ کےانتخابات کا ری پلے نہ ہوں،شہباز شریف محتاط رہنا چاہتے ہیں اسی لئے آج لکھی ہوئی تقریر پڑھی،شہباز شریف جو نوکری لینا چاہتے ہیں اس کا بڑا تقاضا اسکرپٹ پر چلنے کی صلاحیت رکھناہے۔انہوں نے لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر بتادیا کہ وہ اس کام کیلئےکوالیفائیڈ ہیں،نواز شریف اور مریم نواز کے علاوہ دیگر لیگی رہنمااب توہین عدالت کرنے میں احتیاط برتیں کریں گے۔ان خیالات کا اظہارمظہر عباس، بابر ستار، شہزاد چوہدری،حسن نثار، امتیاز عالم اور ارشاد بھٹی نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان وجیہہ ثانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال نواز شریف کی عمران خان اور زرداری پر جذباتی تقریر،کیا قائد مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ممکنہ انتخابی اتحاد سے خوفزدہ ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ آج نواز شریف نے جذباتی تقریر نہیں،کامیڈی کی ہے، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں انتخابی اتحاد نہیں ہوگا البتہ وقتی ارینجمنٹ ہوسکتا ہے،نواز شریف بھی اسی وقتی ارینجمنٹ سے خائف ہے،پاکستان کی جمہوریت اس قابل نہیں کہ اسے بغیر کسی کنٹرول کے مادر پدر آزاد چھوڑ دیا جائے،شریف خاندان کا مقدر اب ماتم کرنا ہے،ان میں کوئی شہنشاہ جذبات تو کوئی ملکہ جذبات ہوگی،نوازشریف سلطان راہی کا خلا پُر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے تمام نمونے ناکام ہوگئے ہیں، نواز شریف آج کنونشن میں جذباتی نظر آئے مگر خوفزدہ نہیں تھے،سینیٹ انتخابات میں کرپشن اور پیسوں کی ریل پیل کے نظارے دیکھنے میں آئے،بلوچستان اسمبلی میں پوری پارلیمانی پارٹی کو اغوا کیا گیا،نواز شریف مخالف بہت بڑا اتحاد بنایا جارہا ہے جس کا پہلا اظہار کل سینیٹ میں دیکھا گیا،انتخابی عمل کواس غلاظت سے پاک رکھا جائے جو سینیٹ الیکشن میں دیکھنے میں آئی ورنہ بڑا بحران پیدا ہوگا۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کے بعد آج پارٹی صدارت ہاتھ سے جانا نواز شریف کیلئے وقت نزع تھا،اس وقت نزع میں نواز شریف کو جذباتی ہونا ہی تھا۔بابر ستار نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر میں جذباتیت سے زیادہ غصہ نظر آرہا تھا،تمام اپوزیشن جماعتیں مل گئی ہیں جو بڑااتحاد ہے،اس اتحاد کیخلاف نہ کبھی کوئی الیکشن جیتا ہے نہ ملک میں کبھی آزادانہ انتخابات ہوئے ہیں۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ آج نواز شریف شکست خوردہ نظر آرہے تھے،نواز شریف وہ انقلابی ہے جو 1982ء میں جنرل ضیاء کی ٹیم کا ممبر بنا، جنرل ضیاء نے جونیجو کو فارغ کیا تو یہ انقلابی ضیاء کے ساتھ مل گیا،اسی انقلابی نے جونیجو کو ہٹا کر مسلم لیگ ہائی جیک کرلی، پچھلے دروازے سے جتوئی صاحب کو فارغ کروادیا، اقتدار کیلئے آئی جے آئی کی سیڑھی استعمال کی، غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری سے مل کر بینظیر بھٹو کو فارغ کروایا، یوسف رضا گیلانی کیخلاف عدالت پہنچا۔

Leave a Reply

Top