You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > غزوۂ تبوک کے نفسیاتی اثرات اور آج کا مسلمان

غزوۂ تبوک کے نفسیاتی اثرات اور آج کا مسلمان

غزوہ تبوک کی مہم بہت نازک اور اہم مہم تھی کیونکہ قحط کے اس موسم میں قیصر روم کی تجربہ کار ،طاقتور اور لاتعدادافواج سے مقابلہ کرنا تو بعد کی بات تھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا غزوہ تبوک کی مہم بہت نازک اور اہم مہم تھی کیونکہ قحط کے


اس موسم میں قیصر روم کی تجربہ کار ،طاقتور اور لاتعدادافواج سے مقابلہ کرنا تو بعد کی بات تھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ایسے میں جب مجاہد اعظم ؐ نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا تو صحابہ کرام ؓ نے مسجد نبوی ؐمیں عطیات کے ڈھیر لگادیئے اور صحابیات ؓنے بھی حُب ِ دین میں اپنے زیور اُتار کر حضور ؐ کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے۔نبی اکرم ؐنے حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔گھر کی دیکھ بھال حضرت علی ؓ کے سپرد کی اور مسجد نبوی ؐکی امامت کے فرائض حضرت عبد اللہ ابن کلثوم ؓ کے سپرد کئے۔9ہجری ماہ رجب میں 30ہزار بعض کے نزدیک 70ہزار پر مشتمل مجاہدین کا لشکرلے کر آپؐ مدینہ منورہ سے اس مشکل ترین مہم پر روانہ ہوئےدوران سفر جب زاد ِراہ ختم ہو گیا اور کھانے کو کچھ بھی پاس نہ رہا تو حضور ؐ کی اجازت سے مجاہدین نے اُونٹ ذبح کرکے کھانا شروع کر دیئے۔حضرت عمر فاروق ؓ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہؐ ! اس طرح تو تبوک پہنچنے تک سواری کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا چنانچہ عرض کیا جو زادِ راہ اس وقت موجود ہے اُسی میں برکت کیلئے دُعا فرمایئے۔چنانچہ حضورؐ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ نے برکت فرمائی اور اُسی خوراک میں اتنا اضافہ ہوا کہ مجاہدین نے سیر ہو کر کھانا شروع کر دیا۔اس موقعہ پر حضور ؐنے فرمایا’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور


یہ کہ میں اس کا رسول ہوں جو شخص بغیر شک ان دو کلمات کے ساتھ اللہ سے ملے گا تو وہ جنت میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا‘‘۔تبوک پہنچ کر سرکارِ کل جہاںؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد پچاس فقرات پر مشتمل ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ آبدار موتیوں کی لڑی اور فصاحت و بلا غت کا ایسا عظیم شاہکار ہے جس میں فطرت ِ انسانی کا کوئی گوشہ چھوٹنے نہیں پایا۔خطبہ کے چند اقتباسات ۔ارشاد نبویؐ ہوا(1) ’’بلا شبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ کی کتاب (قرآن مجید )ہے۔ (2)سب سے مضبوط حلقہٗ زنجیر تقویٰ کا ایک لفظ ہے۔(3)بہترین ملت ابراہیم کی ملت ہے۔(4)بہترین سُنت محمد رسول اللہ ؐ کی ہے۔(5)سب سے اشرف بات اللہ کی یاد ہے۔آخر میں تین بار استعفراللہ فرمایااور خطبہ ختم فر مایا۔تبوک میں 20دن قیام فر ما کر دشمن کا انتظار فرمایا مگر رومی اور نصرانی مقابلے کے لئے ہمت نہ کر سکے ۔ہرقل کو جب اُس کے جاسوس نے خبر دی کہ آپؐ لشکر کی کمان بھی خود ہی فر رہے ہیں۔اس خبر کی بھی نفی کر دی کہ مسلمانوں کو خشک سالی نے کمزور کر دیا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو وہ سینکڑوں میل کا دشوار گذار سفر طے کرکے دشمن کی زمین پر آکر کیسے للکارتے۔ہرقل ان خبروں سے نفسیاتی طور پر اسقدر خوفزدہ ہو گیاکہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر لیا مگر مشیروں نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیاچنانچہ نفسیاتی فتح سیاسی فتح میں تبدیل ہو گئی۔حضورؐ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے


اطراف میں خیر سگالی کے وفود روانہ کئے۔ایلا (بیت المقدس) کے عیسائی حکمران یوحنا نے خود حاضر ہو کر تحائف پیش کئے جس میں سفید خچر کا تحفہ بھی شامل تھا۔حضورؐ نے جواب میں اہل ِ ایلا کو امان کی نشانی کے طور پر اپنی چادر عنایت فر مائی۔آس پاس کے حکمرانوں نے جب جزیہ دینا منظور کر لیا تو ایلا ۔اذرح۔مقنا اور دومتہ الجندل کے حکمرانوں سے صلح کا تحریری معاہدہ کر کے اسلامی مملکت کی شمالی سرحد کو محفوظ کر لیا۔چنانچہ صحابہ کرام ؓ کی متفقہ رائے سے مدینہ واپسی کا ارادہ فر مایا جو منافقین بادل نخواستہ مہم میں شریک تھے وہ اس کامیابی پر ناخوش تھے۔چنانچہ اُنہوں نے سرکار کل جہاںؐ کو پہاڑی کی چوٹی سے گرانے کی مکروہ سازش کی۔جسکی خبر وحی کے ذریعے آپؐ کو مل گئی۔اُن بارہ منافقوں کے نام حضو رؐ نے حضرت حذیفہ ؓ کو بتاتے ہوئے فرمایاکہ کسی پر ظاہر نہ کرنا۔حضرت حذیفہ ؓ نے اُن کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو حضورنبی اکرمؐ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ حضورؐ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کروا دیتے ہیں۔ماہ شعبان کے آخر یا رمضان کے شروع میں حضور ؐمدینہ منورہ واپس تشریف لائے ۔جبلِ اُحد کو دیکھ کر فرمایا ’’یہ جبلِ اُحد ہے یہ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں‘‘مسجد نبویؐ میں دوگانہ نفل شکرانہ ادا کرکے لوگوں کو شرفِ ملاقات بخشا۔جو لوگ جہاد میں شریک نہ ہوئے اُنہوں نے حاضر خدمت ہو کر عذر پیش کئے۔تمام قبائل اسلام کی بالا دستی قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔دور دراز علاقوں سے لوگوں نے آکر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا اُنہوں نے جزیہ دیکر امان حاصل کی۔منافقین کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیںاور اُن کا پردہ چاک ہو گیا۔دشمن نے تعداد اور سازوسامان کے باوجود مقابلے سے پہلو تہی کی جس سے مسلمانوں کی عسکری بر تری کو تسلیم کر لیا گیا۔سرحدی نیم آزاد عربی قبائل بھی اسلام کی طرف راغب ہو گئے اور اُن کی حیثیت رومی اور مسلمان سلطنت کے درمیان ایک عاجز مملکت کی سی رہ گئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کا مورال بلند ہوا اور نامساعد حالات میں بھی بڑی سے بڑی سُپر طاقت سے بھی ٹکرا جانے کا عزم پیدا ہوگیا۔بے شمار وفود اسلام قبول کرنے کیلئے مدینہ پہنچے تھے اسلئے اُسے وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے گوکہ غزوۂ تبوک میں جنگ کی نوبت آئے بغیر کامیابیاں حاصل ہو گئی تھیں تاہم اس غزوہ کو بے حد اہمیت اسلئے بھی حاصل ہوئی کیونکہ اسکے نفسیاتی اثرات قبول کرتے ہوئے مختلف حکومتوں نے صلح کر کے اپنی سیادت کو تسلیم کر لیا تھا جس سے اسلام کی ترقی کی راہیں کھل گئیں اور اسلامی پرچم قیصر و کسریٰ کے علاقوں میں بھی لہرانے لگا۔غزوۂ تبوک کے نفسیاتی اثرات اور آج کا مسلمان غزوہ تبوک کی مہم بہت نازک اور اہم مہم تھی کیونکہ قحط کے اس موسم میں قیصر روم کی تجربہ کار ،طاقتور اور لاتعدادافواج سے مقابلہ کرنا تو بعد کی بات تھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا غزوہ تبوک کی مہم بہت نازک اور اہم مہم تھی کیونکہ قحط کے


اس موسم میں قیصر روم کی تجربہ کار ،طاقتور اور لاتعدادافواج سے مقابلہ کرنا تو بعد کی بات تھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ایسے میں جب مجاہد اعظم ؐ نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا تو صحابہ کرام ؓ نے مسجد نبوی ؐمیں عطیات کے ڈھیر لگادیئے اور صحابیات ؓنے بھی حُب ِ دین میں اپنے زیور اُتار کر حضور ؐ کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے۔نبی اکرم ؐنے حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔گھر کی دیکھ بھال حضرت علی ؓ کے سپرد کی اور مسجد نبوی ؐکی امامت کے فرائض حضرت عبد اللہ ابن کلثوم ؓ کے سپرد کئے۔9ہجری ماہ رجب میں 30ہزار بعض کے نزدیک 70ہزار پر مشتمل مجاہدین کا لشکرلے کر آپؐ مدینہ منورہ سے اس مشکل ترین مہم پر روانہ ہوئےدوران سفر جب زاد ِراہ ختم ہو گیا اور کھانے کو کچھ بھی پاس نہ رہا تو حضور ؐ کی اجازت سے مجاہدین نے اُونٹ ذبح کرکے کھانا شروع کر دیئے۔حضرت عمر فاروق ؓ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہؐ ! اس طرح تو تبوک پہنچنے تک سواری کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا چنانچہ عرض کیا جو زادِ راہ اس وقت موجود ہے اُسی میں برکت کیلئے دُعا فرمایئے۔چنانچہ حضورؐ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ نے برکت فرمائی اور اُسی خوراک میں اتنا اضافہ ہوا کہ مجاہدین نے سیر ہو کر کھانا شروع کر دیا۔اس موقعہ پر حضور ؐنے فرمایا’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور


یہ کہ میں اس کا رسول ہوں جو شخص بغیر شک ان دو کلمات کے ساتھ اللہ سے ملے گا تو وہ جنت میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا‘‘۔تبوک پہنچ کر سرکارِ کل جہاںؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد پچاس فقرات پر مشتمل ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ آبدار موتیوں کی لڑی اور فصاحت و بلا غت کا ایسا عظیم شاہکار ہے جس میں فطرت ِ انسانی کا کوئی گوشہ چھوٹنے نہیں پایا۔خطبہ کے چند اقتباسات ۔ارشاد نبویؐ ہوا(1) ’’بلا شبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ کی کتاب (قرآن مجید )ہے۔ (2)سب سے مضبوط حلقہٗ زنجیر تقویٰ کا ایک لفظ ہے۔(3)بہترین ملت ابراہیم کی ملت ہے۔(4)بہترین سُنت محمد رسول اللہ ؐ کی ہے۔(5)سب سے اشرف بات اللہ کی یاد ہے۔آخر میں تین بار استعفراللہ فرمایااور خطبہ ختم فر مایا۔تبوک میں 20دن قیام فر ما کر دشمن کا انتظار فرمایا مگر رومی اور نصرانی مقابلے کے لئے ہمت نہ کر سکے ۔ہرقل کو جب اُس کے جاسوس نے خبر دی کہ آپؐ لشکر کی کمان بھی خود ہی فر رہے ہیں۔اس خبر کی بھی نفی کر دی کہ مسلمانوں کو خشک سالی نے کمزور کر دیا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو وہ سینکڑوں میل کا دشوار گذار سفر طے کرکے دشمن کی زمین پر آکر کیسے للکارتے۔ہرقل ان خبروں سے نفسیاتی طور پر اسقدر خوفزدہ ہو گیاکہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر لیا مگر مشیروں نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیاچنانچہ نفسیاتی فتح سیاسی فتح میں تبدیل ہو گئی۔حضورؐ نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے


اطراف میں خیر سگالی کے وفود روانہ کئے۔ایلا (بیت المقدس) کے عیسائی حکمران یوحنا نے خود حاضر ہو کر تحائف پیش کئے جس میں سفید خچر کا تحفہ بھی شامل تھا۔حضورؐ نے جواب میں اہل ِ ایلا کو امان کی نشانی کے طور پر اپنی چادر عنایت فر مائی۔آس پاس کے حکمرانوں نے جب جزیہ دینا منظور کر لیا تو ایلا ۔اذرح۔مقنا اور دومتہ الجندل کے حکمرانوں سے صلح کا تحریری معاہدہ کر کے اسلامی مملکت کی شمالی سرحد کو محفوظ کر لیا۔چنانچہ صحابہ کرام ؓ کی متفقہ رائے سے مدینہ واپسی کا ارادہ فر مایا جو منافقین بادل نخواستہ مہم میں شریک تھے وہ اس کامیابی پر ناخوش تھے۔چنانچہ اُنہوں نے سرکار کل جہاںؐ کو پہاڑی کی چوٹی سے گرانے کی مکروہ سازش کی۔جسکی خبر وحی کے ذریعے آپؐ کو مل گئی۔اُن بارہ منافقوں کے نام حضو رؐ نے حضرت حذیفہ ؓ کو بتاتے ہوئے فرمایاکہ کسی پر ظاہر نہ کرنا۔حضرت حذیفہ ؓ نے اُن کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو حضورنبی اکرمؐ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ حضورؐ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کروا دیتے ہیں۔ماہ شعبان کے آخر یا رمضان کے شروع میں حضور ؐمدینہ منورہ واپس تشریف لائے ۔جبلِ اُحد کو دیکھ کر فرمایا ’’یہ جبلِ اُحد ہے یہ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں‘‘مسجد نبویؐ میں دوگانہ نفل شکرانہ ادا کرکے لوگوں کو شرفِ ملاقات بخشا۔جو لوگ جہاد میں شریک نہ ہوئے اُنہوں نے حاضر خدمت ہو کر عذر پیش کئے۔تمام قبائل اسلام کی بالا دستی قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔دور دراز علاقوں سے لوگوں نے آکر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا اُنہوں نے جزیہ دیکر امان حاصل کی۔منافقین کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیںاور اُن کا پردہ چاک ہو گیا۔دشمن نے تعداد اور سازوسامان کے باوجود مقابلے سے پہلو تہی کی جس سے مسلمانوں کی عسکری بر تری کو تسلیم کر لیا گیا۔سرحدی نیم آزاد عربی قبائل بھی اسلام کی طرف راغب ہو گئے اور اُن کی حیثیت رومی اور مسلمان سلطنت کے درمیان ایک عاجز مملکت کی سی رہ گئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کا مورال بلند ہوا اور نامساعد حالات میں بھی بڑی سے بڑی سُپر طاقت سے بھی ٹکرا جانے کا عزم پیدا ہوگیا۔بے شمار وفود اسلام قبول کرنے کیلئے مدینہ پہنچے تھے اسلئے اُسے وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے گوکہ غزوۂ تبوک میں جنگ کی نوبت آئے بغیر کامیابیاں حاصل ہو گئی تھیں تاہم اس غزوہ کو بے حد اہمیت اسلئے بھی حاصل ہوئی کیونکہ اسکے نفسیاتی اثرات قبول کرتے ہوئے مختلف حکومتوں نے صلح کر کے اپنی سیادت کو تسلیم کر لیا تھا جس سے اسلام کی ترقی کی راہیں کھل گئیں اور اسلامی پرچم قیصر و کسریٰ کے علاقوں میں بھی لہرانے لگا۔

Leave a Reply

Top