You are here
Home > پا کستا ن > بظاہر سینیٹ الیکشن میں جیت کے باوجود پیپلز پارٹی کو اپنے کس جرم کی اور کیا سزا ملی ؟ حامد میر معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے

بظاہر سینیٹ الیکشن میں جیت کے باوجود پیپلز پارٹی کو اپنے کس جرم کی اور کیا سزا ملی ؟ حامد میر معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے

کراچی(ویب ڈیسک )جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ نواز شریف چیئرمین سینیٹ انتخاب سے متعلق صحیح کہہ رہے ہیں ، سینیٹ میں عددی اکثریت ہونے کی وجہ سے چیئرمین سینیٹ نامزد کرنے کا اختیار ن لیگ کو ہی ملنا چاہئے تھا

، ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آصف زرداری نے عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملالیا ہے، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے موقع پر یہ بات واضح بھی ہوجائے گی، نواز شریف قبل از وقت آصف زرداری اور عمران خان کو طعنے مار رہے ہیں، آج جس طرح نواز شریف کا دل ٹوٹا ہوا ہے 2015ء میں اسی طرح آصف زرداری کا دل بھی نواز شریف کی وجہ سے ٹوٹا ہوا تھا، نواز شریف پتا نہیں کس کو خوش کرنے کیلئے ایسے شخص کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے جس نے 2014ء کے دھرنے میں ہر قسم کے دباؤ کے باوجودنواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا، آج آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان سیاسی لڑائی نہیں ذاتی لڑائی ہے، آصف زرداری کے سامنے نواز شریف کا نام لیا جائے تو وہ اسی طرح غصے میں آتے ہیں جیسے آج نواز شریف تھے، نواز شریف کو یاد رکھنا چاہئے کہ آج تاریخ ان کے سامنے دہرائی جارہی ہے۔حامد میر نے بتایا کہ 2015ء میں اسٹیبلشمنٹ چاہتی تھی کہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ نہ آئے لیکن آصف زرداری ایم کیوا یم اور جے یو آئی ف کو ساتھ ملا کر رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے

جس کی سزا پیپلز پارٹی اور ایم کیوا یم کو ملی، جس دن نواز شریف بھی رضا ربانی کے نام پر متفق ہوگئے تھے اسی رات فاروق ستار نے میری موجودگی میں آصف زرداری سے کہا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ ہوگا اور اسی رات نائن زیرو پر چھاپہ پڑگیا تھا، اس کے بعد ڈاکٹر عاصم گرفتار ہوئے، ایان علی کا واقعہ ہوا، آصف زرداری کا ایپکس کمیٹی میں جنرل راحیل شریف کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کی، اس تقریر کے بعد جب نواز شریف نے آصف زرداری سے طے شدہ ملاقات منسوخ کی تو نواز شریف اس وقت کس کے سامنے اپنا سرجھکانے پر مجبور ہوگئے تھے، اس کے بعد اتنا دباؤ پڑا کہ آصف زرداری ملک چھوڑ کر دبئی جاکر بیٹھ گئے، کئی مہینے بعد میں نے دبئی جاکر آصف زرداری سے انٹرویو کیا تھا اور اس دن آصف زرداری کا بھی اسی طرح دل ٹوٹا ہوا تھا، آصف زرداری نے مجھے کہا کہ نواز شریف نے مجھے بہت بڑا دھوکا دیا، عمران خان کے دھرنے میں ملنے کے بدلے ہمیں وزارتیں اور صوبے دیئے جارہے تھے لیکن ہم نے جمہوریت کا ساتھ دیا ، اب دھرنا ختم ہوتے ہی نواز شریف نے آنکھیں بدل لی ہیں، آصف زرداری نے مجھے کہا آئندہ میں کبھی نواز شریف پر اعتبار نہیں کروں گا۔ حامد میر نے کہا کہ رضا ربانی جانتے ہیں انہیں چیئرمین سینیٹ بنانے کی وجہ سے ہی آصف زرداری کیلئے مشکلات شروع ہوئی تھیں،

آصف زرداری کا شکوہ ہے کہ جب ان پر مشکل وقت آیا تو رضا ربانی ان کے ساتھ اس طرح کھڑے نہیں ہوئے جس طرح نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تھے، نواز شریف نے اس راجہ ظفر الحق کو اپنا چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بنایا جسے پرویز مشرف وزیراعظم بنانے کیلئے تیار تھے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں کی ساکھ اخلاقی طور پر مجروح ہوئی ہے، بلوچستان میں بڑی تبدیلی کے پیچھے مرکزی کردار کلثوم پروین کا تھا، کلثوم پروین پہلے ق لیگ میں تھیں پھر یہ بی این پی عوامی میں آئیں، 2015ء کے الیکشن میں یہ بی این پی عوامی کی سینیٹر تھیں لیکن جاتی امراء جاکر ن لیگ کا ٹکٹ لے آئیں جس پر ن لیگ میں اختلافات پیدا ہوئے، کلثوم پروین کی وجہ سے ن لیگ بلوچستان کے ایم پی ایز مرکزی قیادت سے ناراض ہوئے، انہی کے پیدا کیے گئے جھگڑے کے نتیجے میں جان جمالی کو اسپیکر اور عبدالقدوس بزنجو کو ڈپٹی اسپیکر کے عہدے سے ہٹایا گیا، لیکن انہی کلثوم پروین صاحبہ نے کل ن لیگ سے دھوکا کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دیدیا۔ سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کی گفتگو سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے ن لیگ کے سیاسی مستقبل کو خطرات کا پیغام ملتا ہے، نواز شریف مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ شہباز شریف کیخلاف بھی نیب انکوائری کررہی ہے،

نواز شریف اپنے بیانیے پر قائم رہتے ہیں، ڈیل نہیں کرتے اور جرأت مندی، ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کی باتیں درست ثابت ہوسکتی ہیں، نواز شریف کو اپنا بیانیہ ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی، سینیٹ میں تعاون کر کے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی ایک ایسی اپوزیشن بن گئے ہیں جو آئندہ ن لیگ کے خلاف اتحاد میں اکٹھی چل سکتی ہے، ان دونوں جماعتوں کو ان اداروں اور قوتوں کی بھی سپورٹ ہوگی جو نواز شریف کو ہرانا چاہتے ہیں، نواز شریف اپنے ووٹرز کو ساتھ جوڑے رکھنے میں کافی کامیاب ہیں، نواز شریف کا بیانیہ لوگوں میں کافی مقبول ہوا ہے، اسی وجہ سے ن لیگ میں کوئی بڑا کریک نہیں پڑسکاہے، آئندہ دنوں میں نواز شریف اور ن لیگ کا امتحان ہوگا۔ ماہر بین الاقوامی امور معید یوسف کی گفتگو ماہر بین الاقوامی امور معید یوسف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان سے متعلق نئے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور صدر ٹرمپ کی رائے میں کافی ہم آہنگی ہے، پومپیو پاکستان پر دباؤ ڈال کر اس کی پالیسی تبدیل کروانا چاہتے ہیں، مائیک پومپیو سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں مدد حاصل کرنے کا واحد طریقہ پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے، پاکستان اور امریکا میں بات چیت ضرور ہورہی ہے لیکن اس کا متن منفی اور کرخت ہی ہے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات نے مسلم لیگ ن کو دھچکا پہنچایا ہے مگر کیا یہ دعویٰ درست ہے کہ مسلم لیگ ن ہار کر بھی جیت گئی اور اپوزیشن جیت کر بھی ہار گئی، یہ دعویٰ خود نواز شریف نے کیا ہے، عمران خان اور آصف زرداری کا یہ گٹھ جوڑ 2018ء کے انتخابات میں بھی نظر آئے گا۔

Leave a Reply

Top