You are here
Home > خبریں > پاکستان > ہارس ٹریدنگ کے خلاف تحقیقات کے لیے خفیہ ادارے کو اختیارات دے دیے گئے ،خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی

ہارس ٹریدنگ کے خلاف تحقیقات کے لیے خفیہ ادارے کو اختیارات دے دیے گئے ،خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے معاملے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال اور خفیہ اداروں کی مدد لیں گے۔ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے، چیف الیکشن۔چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا

کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں سینیٹ انتخابات کے دوران مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی، عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل شاہد گوندل، ایم کیو ایم کی جانب سے سید اقبال قادری جب کہ مسلم لیگ (ن) کی مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری بذات خود پیش ہوئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے معاملات آئے، ہارس ٹریڈنگ سے متعلق سیاستدانوں کے تحریری بیانات آئے،ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں، جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں اپنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے،اس کے علاوہ ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے مکمل معاونت کریں گے۔عظمی بخاری نے سماعت کے دوران کہا کہ چوہدری سرور نے خود کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ایم پی ایز نے ان کا ساتھ دیا لیکن ان کا نام نہیں بتاوٴں گا، کیا آپ چوہدری سرور کو نوٹس کر سکتے ہیں، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ جی اسی لئے آپ کی معاونت چاہتے ہیں ان کو بھی بلا لیں گے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن

آرٹیکل 220 کے تحت تحقیقات کرسکتا ہے اور یہ آرٹیکل الیکشن کمیشن کو تحقیقاتی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو خریدتے اور بکتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹرینز ہی ہیں، ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے، ہم خفیہ اداروں ،ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی مدد لیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 4 اپریل کو ہوگی۔سینیٹ الیکشن کا نتیجہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے لیے یقیناََ ایک دھچکا تھا کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرکے کچھ ترمیمیں کرنا چاہتے تھے۔ (ن) لیگ گزشتہ دو ماہ میں پروان چڑھنے والی صورتحال کا درست ادراک کرنے میں ناکام رہی ہے، خاص طور پر بلوچستان اورکراچی کی سیاست میں جو تبدیلیاں وقع پذیر ہوئیں اور پنجاب میں سینیٹ الیکشن کے دوران جو کچھ ہوا۔لازم نہیں کہ (ن) لیگ کی شکست پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی کامیابی سمجھی جائے، تاہم معلق پارلیمان کی صورت میں مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے لیے ایک اشارہ ضرور مل سکتا ہے، ہو سکتا ہے عام انتخابات میں پی پی اور پی ٹی آئی اتحاد نہ کریں، ایسا کرنے کے لیے عمران خان کو اپنی حکمت عملی پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

Top