You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > بیگم حضرت محل

بیگم حضرت محل

بیگم حضرت محل کون تھیں یہ جاننے کے لئے آپ کو ماضی میں جانا پڑے گا۔ دہلی میں مغل سلطنت کمزور ہو جانے کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط بڑھتا جا رہا تھا۔ انگریز ہندوستان میں تجارت کرنے آئے تھے لیکن اب وہ پورے ہندوستان کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگے تھے۔

ہندوستان کی کوئی ریاست ان کی ہوس سے محفوظ نہیں تھی، ان میں سب سے اہم اودھ کی ریاست تھی، اودھ کادارالسلطنت لکھنو تھا۔ لکھنو تہذیب کے علاوہ تجارت کابھی بہت بڑامرکز تھا،یہ ریاست کہنے کوآزاد تھی مگر یہاں کی سیاست پربھی انگریز کی چھاپ بڑی گہری تھی۔ ان کا ایک ریزیڈنٹ لکھنو میں موجود رہتاتھا اور اس ریزیڈنٹ کی مرضی کے خلاف اودھ کے حاکم کچھ نہیں کرسکتے تھے، ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہو تا تھا کہ وہ انگریز کی مرضی کے خلاف کوئی حکم جاری کر سکیں۔ اودھ کی تاریخ میں صرف نواب شجاع الدولہ نے انگریزوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا تھا اور میدان جنگ میں ان کا مقابلہ کیا تھا۔ شجاع الدولہ بہت بہادر اور طاقتور نواب، عمدہ سپاہی اور لائق سپہ سالار تھے۔ ان کی انگریزوں کے ساتھ کئی دفعہ مڈھ بھیڑ ہوئی لیکن بدقسمتی سے وہ کبھی جیت نہ سکے۔شجاع الدولہ کے بعد اودھ کے تخت پر سات حاکم آئے مگر انگریز سے ٹکرانے کی ہمت کسی میں نہ ہوئی اور وہ کٹھ پتلیوں کی طرح انگریز کے اشاروں پرناچتے رہے۔ایک عرصے کے بعد انگریزوں کویقین ہو چکا تھا کہ اودھ ان کے قبضے میں ہے اور اب کوئی شجاع الدولہ ان کوللکار نے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود وہ اودھ کے دربار پر کڑی نظر رکھتے تھے اور اگر کہیں مخالفت کی چنگاری نظر آتی تو اسے فوراً بجھا دیتے تھے۔ لیکن تقدیرکا اپنا فیصلہ تھا، انگریزوں کی اتنی کڑی نگرانی کے باوجودوہ لکھنوکے شاہی محلات میں پلنے والی

ایک لڑکی پر نظرنہ رکھ سکے۔ اور اگر وہ لڑکی ان کی نظر میں آبھی جاتی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک معمولی لڑکی ان کے راستے میں کبھی دیوار بن کر کھڑی ہو جائے گی۔ تاریخ نے اس لڑکی کوکئی نام دیئے مثلا محمدی خانم، مہک پری، افتخار النساء، راج ماتا، جناب عالیہ، لیکن اس کا سب سے مشہور نام بیگم حضرت محل تھا۔اودھ کے آخری بادشاہ سلطان عالم واجد علی شاہ سے پہلے ان کے والد امجد علی شاہ اودھ کے بادشاہ تھے، شہزادے واجد علی کو پڑھنے لکھنے کے علاوہ فنون لطیفہ سے بھی دل چسپی تھی۔اس نے دربار کے اندر پری خانہ کے نام سے ایک اسکول قائم کیا ہوا تھا جس میں ناچ گانے کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پری خانے میں تعلیم پانے والی لڑکیاں پریاں کہلاتی تھیں۔ ایک دن اٹھارہ سالہ لڑکی محمدی خانم اس اسکول میں لائی گئی، شہزادے نے اس کانام مہک پری رکھا۔ کچھ دن تک مہک پری ناچ گانا سیکھتی رہی لیکن پھر شہزادے نے اسے بیوی بنا کر پری خانے سے اٹھا لیا۔ اس کانام افتخار النساء رکھا، اللہ نے اس سے ایک بچہ دیا، باپ نے اس کا نام رمضان علی میرزا رکھا اور دادا نے اس کو برجیس قدر کاخطاب دیا۔باپ کے مرنے کے بعد 1847 میں واجد علی شاہ بادشاہ ہوئے توانھوں نے افتخارالنساء کوحضرت محل کا خطاب دیا۔ واجد علی شاہ کی بہت سی بیگمات تھیں، یہ سب آپس میں الجھتی رہتی تھیں اور بادشاہ کوبھی پریشان کرتی تھیں۔ بادشاہ نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ


ان بیگمات کی شکایتیں کی ہیں لیکن ان شکایتوں میں حضرت محل کا نام نہیں آتا۔ حضرت محل بیگموں کے جھگڑوں سے الگ تھلگ ننھے برجیس قدر کی پرورش میں لگی رہتی تھیں۔ وہ دوسری بیگمات کی طرح محل سے باہر کی دنیا سے بے خبر نہیں تھیں اور خوب جانتی تھیں کہ واجد علی شاہ اور اودھ کی حکومت کس خطرے میں گھر ی ہوئی ہے۔ یہ خطرہ انگریزوں کا تھا، اودھ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح واجد علی شاہ بھی انگریزوں کے سامنے بے بس تھے۔انھوں نے حتی الامکان کوشش کی کہ انگریزوں کی منشاء کے خلاف نہ چلیں لیکن انگریز چاہتے تھے وہ کھلم کھلا اودھ پر قبضہ کر لیں۔ اس غرض سے انھوں نے واجد علی شاہ کے خلاف الزامات کی ایک لمبی فہرست تیارکی اور فروری 1856 میں بادشاہ سے کہہ دیا کہ آپ حکومت کا انتظام نہیں چلا سکتے اس لئے آپ کو اودھ حکومت سے دستبردار کیا جاتا ہے۔واجد علی شاہ نے ان سب الزامات کے جوابات دیئے لیکن انگریز اودھ پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر چکے تھے۔ واجدعلی شاہ سمجھتے تھے کہ اگر اس وقت وہ تخت چھوڑنے سے انکار کریں گے تولڑائی کی نوبت آجائے گی اور لڑائی میں وہ انگریزوں سے جیت نہیں سکیں گے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے لکھنو تباہ ہو جائے گا اس لئے انہوں نے نہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔کچھ ہی عرصہ بعد اودھ پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ واجد علی شاہ نے ارادہ کیا کہ لندن جاکر انگریزپارلیمنٹ کے سامنے اپنا


مقدمہ پیش کرکے سلطنت کی واپسی کی کوشش کرے۔ اس غرض سے وہ لکھنوسے روانہ ہوئے، بادشاہ کے ساتھ اس ناانصافی اور لکھنوسے ان کے چلے جانے کا رعایا کو بہت دکھ ہوا اور کئی دنوں تک نظموں اور گیتوں میں ان کی واپسی کی دعائیں کی جاتی رہیں لیکن سلطان عالم واجد علی شاہ کوپھر کبھی لکھنو آنا نصیب نہ ہوا۔ لکھنو سے روانہ ہوتے وقت بادشاہ نے اپنی بیگمات کوعام اجازت دے دی تھی کہ وہ محل چھوڑ کر جانا چاہیں تو جا سکتی ہیں، چنانچہ بہت سی بیگمات محل چھوڑ کر چلی گئیں۔ کچھ نے محل سے جانا وفاداری کے خلاف سمجھا اور کہیں نہیں گئیں، ان میں حضرت محل بھی تھیں۔واجد علی شاہ کلکتہ میں جا کر ٹھہر ے، ادھر لکھنو میں انگریزوں کی حکومت تو ہو گئی مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شہر بھر میں اندر ہی اندر آگ سلگ رہی ہے۔ یہ آگ صرف لکھنوہی میں نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں سلگ رہی تھی، یہ انگریزوں کے خلاف بغاوت کی آگ تھی۔ یہ آگ دھیرے دھیرے سلگتی رہی اور بلاآخر میرٹھ میں یہ آگ شعلہ بن کر بھڑک اٹھی، میرٹھ کے ہندوستانی سپاہیوں نے انگریز ی فوج کے خلاف بغاوت کردی اور یہاں سے 1857 کی جنگ آذادی کا آغاز ہوا۔ حضرت محل دیکھ رہی تھیں کہ جنگ کے شعلے میرٹھ، دہلی وغیرہ سے ہوتے ہوئے لکھنو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ قریب ہے کہ لکھنوبھی انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا لیکن بیگم حضرت محل ابھی خاموشی کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔30 مئی


کو لکھنومیں بھی جنگ کاشعلہ بھڑک اٹھا، جنگ کے لیے ریاست اودھ کا کوئی بادشاہ نہ تھا لہذا طے ہواکہ شاہی خاندان میں سے کسی کوبادشاہ بنایا جائے۔اس وقت بادشاہ بننا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔سب کی نظریں برجیس قدرپر آکر ٹھہریں اور بیگم حضرت محل اس پر تیار ہو گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ نام ان کے بیٹے کا چلے گا مگر کام خود انھیں کرنا ہوگا۔ اس وقت شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ حضرت محل اس بوجھ کو اٹھا سکیں گی لیکن تاریخ نے دیکھا جس لڑکی نے محل میں ناز و نعم سے زندگی شروع کی تھی وہی اب راج ماتا بن کر لڑائی کے میدان میں پہاڑ بن کر کھڑی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے اس کی ساری زندگی تلواروں سے کھیلتے گزری ہو۔ریاست اودھ میں منادی کرا دی گئی کہ برجیس قدر ہمارا بادشاہ ہے اور ہم نے حکومت واپس لے لی ہے۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے زمانہ میں شاہی فوج اور دوسرے محکوموں کے جن ملازموں کو نکال دیا تھا وہ سب واپس آجائیں، اس کے علاوہ اودھ کے زمینداروں اور تعلقہ داروں کوبھی مدد کے لئے بلایا گیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک بڑی فوج تیار ہو گئی۔ ریزیڈنٹ کے رہنے کی عمارت جو بیلی گارد کہلاتی تھی اس کو گھیر لیا گیا۔ حضرت محل کی فوج نے بڑی تیزی سے کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں، ا نگر یز ا فسر سر ہنر ی لارنس نے گورنرکو خط لکھا: ’’تمام ضلعوں میں حکومت ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور صورتحال


روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔ سارے تعلق داروں نے ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور بعضوں نے دیہاتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔‘‘حضرت محل کوبیک وقت دولڑائیاں لڑنا پڑ رہی تھیں۔ ایک میدان جنگ میں او ر دوسری محل کے اندر، دوسری بیگمات کا کہنا تھا اگربیلی گارد کے انگریزوں کی جان لی گئی توکلکتہ میں واجد علی شاہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردیا جائے گا۔محل کے اندر کی عورتوں میں سے کچھ کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ انگریزوں سے ملی ہوئی ہیں اور یہاں کی خبر یں وہاں پہنچاتی ہیں مگر حضرت محل دونوں میدانوں میں بڑی بہادری کے ساتھ جمی رہیں۔ کچھ دن بعد دہلی میں بہادرشاہ ظفر کے پاس اودھ کی طرف سے سفیر بھیجا گیا۔برجیس قدر کے جواب میں بادشاہ نے لکھا:ــ ’’فرزندارجمند مرزا برجیس قد ر شاہ اودھ آفریں ہے کہ چھوٹے سے سن میں تم نے بڑا کام کیا، تمہارے واسطے مہر خطاب بھیجی جائے گی۔خاطر جمع رکھو، جوملک قدیم تمہارا تھا، اس سے زیادہ عطا ہو گا۔‘‘یہ سفیر ابھی وہیں تھا کہ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ سفیر بڑی مشکل سے جان بچا کر لکھنو واپس آیا اور حضرت محل کو بتایا کہ دہلی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ پھر خبر آئی کہ کان پور میں ہندوستانیوں کی فوج انگریزوں سے شکست کھا کر لکھنوکی طرف آ رہی ہے اور اس کے پیچھے انگریزی فوج بھی ہے۔ یہاں بیلی گارد گولوں سے چھلنی ہو گیا تھا لیکن اس پر ہندوستانی فوج کا قبضہ نہیں ہو پایا تھا۔ انگریزوں کے پہنچنے


سے پہلے بیلی گارد کو قبضے میں لینے کے لئے ایک اور بھرپور حملہ کیا گیا۔ لیکن ناکامی ہوئی۔ خبر آئی کہ انگریزوں نے بیلی گارد سے باہر نکل کر ہندوستانی فوج کو شکست دے دی ہے اور اب وہ قیصر باغ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی قیصر باغ میں بھگڈر مچ گئی۔ لیکن حضرت محل نے قیصر باغ کے تمام پھاٹک بند کرا دئیے کہ کوئی شخص باہر نہ جانے پائے۔اب جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا، دھیرے دھیرے پورے لکھنو پر انگریزوں کاقبضہ ہوتاچلا گیا، قیصر باغ کے اندر زبردست لڑائی چھڑ گئی۔ باغ کی کیاریوں میں خون بہنے لگا اور لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، انگریزی فوج جنگ جیت رہی تھی، حضرت محل قیصر باغ کوخالی کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ وہ گھسیاری منڈی کی طرف والے پھاٹک سے عورتوں کے ایک قافلے کے ساتھ باہر نکلیں، راستے میں لوگ اس قافلے کو دیکھ کر روتے رہے۔حضرت محل حسین آباد میں جا کر ٹھہریں اورایک بار پھر انھوں نے بچی کھچی فوج کو اکٹھا کر کے انگریزوں سے ٹکرلی لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی۔انھوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بہترین فوج تیار کی تھی، جاسوسی کے شعبے میں بھی مردوں کے ساتھ خواتین کو دشمنوں کی صفوں میں شامل کردیا چنانچہ ان کے مقرر کردہ جاسوس بروقت انگریز سرکار کے جنگی فیصلوں سے بیگم حضرت محل کو مطلع کردیتے تھے۔بیگم حضرت محل کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ وہ جنگ کے دوران اپنے سپاہیوں کی صفوں


میں گھس جاتیں اور ان کے حوصلے بڑھاتیں۔ وہ جنگی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی قائل تھیں۔ بیگم حضرت محل کا یہ قول برصغیر کے لوگوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ’’ یہ ہند کی پاک صاف سرزمین ہے، یہاں جب بھی کوئی جنگ بھڑکی ہے ہمیشہ ظالم کو شکست ہوئی ہے۔ یہ میرا پختہ یقین ہے کہ بے کسوں، مظلوموں کا خون بہانے والا یہاں کبھی اپنے گندے خوابوں کے محل کھڑے نہیں کرسکتا۔ آنے والا وقت میرے یقین کی تائید کرے گا۔‘‘کہا جاتا ہے کہ اگر بیگم حضرت محل کو دیگر حکمرانوں کی مدد حاصل ہو جاتی، یا انہیں کچھ لوگوں کی طرف سے دھوکہ نہ دیا جاتا تو وہ انگریزوں کو برصغیر سے نکلال باہر کرنے میں کامیاب ہو جاتیں۔ جنگ کے زمانے میں بیگم حضرت محل نے مرزا برجیس قدر کے نام کے سکے بھی جاری کر دیئے تھے۔ملک کے انتظام کے لیے حضرت محل نے ایک انقلابی کونسل قائم کی جس کے اراکین میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی شامل تھے۔ ان میں شرف الدولہ کی حیثیت وزیراعظم کی تھی، مولوی احمد اللہ شاہ حضرت محل کے مشیر خاص تھے۔حضرت محل کا قیام جس عمارت میں تھا اس کا نام چولکھی تھا۔ وہیں انقلابی کونسل کے اجلاس ہوتے تھے۔حضرت محل لڑائی ہار گئی تھیں مگر ہمت نہیں ہاری تھیں۔ اس وقت جب ان کے جیتنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی، انھیں انگریزوں کی طرف سے پیام ملا کہ آپ کاملک آپ کو واپس کردیا جائے گا آپ لڑائی بند کردیجئے لیکن حضرت محل

نے اس پیغام اور ایسے ہی دیگر کئی پیغاموں کو ٹھکرا دیا تھا۔ وہ انگریزوں کی دی ہوئی آذادی نہیں اپنے بازؤوں سے حاصل کی ہوئی آذادی چاہتی تھیں۔ جب ان کی کوششیں ناکام ہوئی تو انہوں نے انگریزوں کی پیشکش اور رعایت کو قبول کرنے کے بجائے ہندوستان چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا اور وہ نیپال روانہ ہو گئیں۔راستے میں بہرائچ کے قریب بونڈی کے مقام پر انھوں نے پڑاؤ ڈالا، لکھنو کے ہار ے ہوئے فوجی دستے جوادھر ادھر بکھرگئے تھے بونڈی میں آکر جمع ہو گئے اور کچھ دن کے لئے بونڈی چھوٹا سا لکھنو معلوم ہونے لگا۔ حضرت محل بونڈی ہی میں تھیں جب انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ کا فرمان ہندوستان پہنچا جس میں ہندوستانیوں سے بہت اچھے وعدے کئے گئے تھے اس فرمان کے پہنچنے پر بہت سے لوگ واپس چلے گئے مگر حضرت محل نے اس کے جواب میں ایک فرمان جاری کیا جس میں شروع سے اب تک انگریزوں کی زیادتیوں کا پول کھولا گیا تھا۔بونڈی میں بھی حضرت محل کی فوج نے ایک دفعہ پھر انگریزی فوج سے زبردست ٹکر لی۔ مگر ایک بارپھر انھیں شکست کھانا پڑی۔ اب حضرت محل بالکل مایوس ہو گئیں اور برجیس قدر اور کچھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ نیپال کی سرحد میں داخل ہو گئیں، انہیں بڑی مشکل سے نیپال میں قیام کی اجازت ملی۔بہت دنوں بعد انگریزی حکومت کی طر ف سے ایک آدمی برجیس قدر کی تصویر کھینچنے نیپال آیا۔ اس نے حضرت محل کو حکومت کا پیغام دیا کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ ہندوستان واپس آکر عیش و آرام کے ساتھ جہاں جی چاہے رہیں۔ آپ کاآنا ہمارے لیے باعث فخر ہو گا، آپ کی شان کے مطابق آپ کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا اور آپ کا شاہی احترام ہو گا۔ حضرت محل نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جس ملک میں وہ راج ماتا تھیں، جہاں انھوں نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، اب وہاں دشمن کی مہمان بن کر وہ کیا کرتیں۔ انھوں نے آزاد ہند کے خواب دیکھے تھے۔ غلام ہندوستان میں رہنا انھیں کیونکر گوارا ہو سکتا تھا۔ اس لئے بیگم حضرت محل پھر کبھی ہندوستان نہیں آئیں بلکہ وہ نیپال میں خاموشی کے ساتھ زندہ رہیں اور وہیں ایک دن انتقال کر گئیں۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы