You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > کٹاس راج کی دردناک کہانی

کٹاس راج کی دردناک کہانی

شری کٹاس راج مذہبی حوالے سے دنیا کے چند اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ ہندوؤں کا مقدس مقام ہے لیکن ہندو مذہب کے علاوہ آریوں، یونانیوں، درآوڑوں، جین مت، بدھ مت، سکھوں اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا بھی عکس دکھائی دیتا ہے۔ضلع چکوال کی خوبصورت وادئ کہون


میں واقع کٹاس راج کے آثار قدیمہ بیش قیمت اثاثہ ہیں مگر اب ان پر نحوست کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پتھروں کو پیس کر سیم و زر میں تبدیل کرنے والا ’’سیمنٹ مافیا‘‘ قدیم دنیا کے اس شاہکار کے درپے ہے۔حسن اور تاریخ کا ایسا امتزاج دنیا کے کسی خوش قسمت حصے میں واقع ہوتا تو اسے شاید رہتی دنیا تک قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم نرالا ہی ہے۔ دنیا بھر میں اپنے ہاں آنے والے سیاحوں اور مذہبی افراد کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں مگر حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہندو مذہب کے اس دوسرے مقدس ترین مقام میں آنے کے خواہش مند ہندو یاتریوں کو ویزے ہی ترسا ترسا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ بھی انتہائی محدود تعداد میں۔ ہندومت کا عقیدہ ہے کہ کٹاس راج میں واقع نیلگوں پانی کی جھیل شیو جی مہاراج کے آنسوؤں سے وجود میں آئی جو انہوں نے اپنی بیوی ستی یا پاربتی کی موت پر بہائے۔( ہندو مائتھالوجی اس قسم کی خرافات سے بھری پڑی ہے)ان کے آنسوؤں سے وجود میں آنے والی دوسری جھیل’’پشکر‘‘ (جوالا مُکھی) بھارت میں واقع ہے۔ میٹھے پانی کی کٹاس جھیل سطح سمندر سے تقریباً دو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ ‎انسانی آنکھ سے مشابہ یہ جھیل دو سو فٹ لمبائی اور ڈیڑھ سو فٹ چوڑائی میں ہے۔ آج کل کٹاس راج کی یہ مقدس جھیل خبروں میں ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قریب ہی اس جھیل کے مغرب میں


واقع بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے اس مقدس جھیل کا پانی استعمال کرنے پر سوموٹو ایکشن لیا ہے اور سماعت کے بعد مذکورہ سیمنٹ فیکٹری کو نہ صرف اس کا پانی استعمال کرنے سے روک دیا ہے بلکہ اسے اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔سیمنٹ فیکٹری نے چند ماہ قبل اس جھیل کا پانی مکمل خشک کر دیا تھا۔ قدرتی طور پر اس کا پانی جھیل کے نیچے واقع قدرتی چشموں سے نکل کر اوپر آتا تھا تاہم خشک ہونے کے بعد زیر زمین اسفنج نما چٹانوں سے پانی آنا بند ہو گیا۔ سپریم کورٹ کے دباؤ پر اس کی دیکھ بھال کرنے والے سرکاری ادارے متروکہ وقف املاک بورڈ اور اس کا پانی غیر قانونی طور پر استعمال کرنے والی سیمنٹ فیکٹری نے اس مقدس جھیل کی تہہ میں کنکریٹ کا فرش بنا کر اسے ہمیشہ کے لیے پانی کے قدرتی ذرائع سے محروم کر دیا ہے۔ ‎یوں وہ ہندو یاتری جو ہر سال یہاں کے پانی سے اشنان کرنے دور دراز سے آتے ہیں وہ اب اس تقدس سے محروم ہو گئے ہیں۔ ‎ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس پانی سے غسل کرنے پر ان کے گناہ بھی دُھل جاتے ہیں۔پاکستان کی شہرت اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے پہلے ہی اچھی نہیں یقیناًجب اصل حقائق ہندو برادری تک پہنچیں گے تو ان پر وطن عزیز کے حوالے سے منفی تاثر پڑے گا حالانکہ ان کے ماسٹر پلان میں واضح تھا کہ وہ اپنے استعمال کے لیے پانی دریائے جہلم سے لائیں گے تاہم سالہا سال سے انہوں نے اس پلان


پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ‎علاقے میں واقع سیمنٹ فیکٹریوں کی لگائی گئی ٹربائنوں سے علاقے میں واٹر ٹیبل بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ عام گھروں کے بور تک خشک ہو چکے ہیں اور وہ ایک سرسبز و شاداب علاقے اور اس میں واقع زیر زمین میٹھے پانی سے تقریباً محروم ہو چکے ہیں۔عوام میں مستقبل کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ ‎سیمنٹ فیکٹریاں روزانہ کئی سو کلو گرام سیمنٹ دھول کی صورت فضاء میں بکھیر رہی ہیں جس سے علاقے کے لوگ سانس کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہ فیکٹریاں اردگرد کی پہاڑیوں سے پتھر نکالنے کے لیے دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے کٹاس راج میں واقع قدیم اور نادر عمارتوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ ‎کٹاس راج کے منادر اور دیگر عمارتیں تباہی کے دہانے پر ہیں، انہیں بچانے کے لیے سنجیدہ کوششوں اور انتہائی سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے چکوال کی ضلعی انتظامیہ کو بھی اس ضمن میں سخت اقدامات لینے کا کہا تھا تاہم مقامی انتظامیہ محض پانی کے چند بور بند کر کے پھر لمبی تان کر سو چکی ہے۔ ‎مقامی سیاستدان بھی محض مگرمچھ کے آنسو بہا کر تسلیاں دے رہے ہیں کیونکہ طاقت ور سیمنٹ مافیا سے ٹکرانا ان کے بس میں نہیں اور ان کے براہ راست ذاتی تعلقات ملک کے حکمرانوں سے بھی ہیں،چنانچہ ان کا مقدمہ مضبوط اور علاقے کے عوام کا کمزور ہے۔صدیوں پہلے یہ علاقہ سرسبز و شاداب اور گھنے جنگلات پر مشتمل تھا مغل فرمانروا ظہیر الدین بابر اپنی تزک بابری میں اس علاقے میں گینڈے کےشکار کا ذکر کرتے ہیں۔ قدیم ترین مذہبی کتاب مہا بھارت میں اس علاقے میں کورؤں اور پانڈوؤں کی لڑائی جسے مہابھارت کہا جاتا ہے کا ذکر ہے۔ انگریز مورخ جنرل گنگھم یہاں کشمیری طرز تعمیر کے بارہ منادر کا ذکر کرتا ہے۔ستگھرا کے یہ منادر کہیں کہیں اب بھی باقی ہیں۔ کٹاس راج جھیل کے پاس کالی ماتا کا مندر، جنوب کی جانب شیش ناگ دیوتا کا مندر، شیولنگ مندر، مقدس درخت، سادھو کا مکان، قلعہ کوٹہڑہ، شنکتلا یونیورسٹی کے آثار، محل، سرجو داس کا مندر، غاریں، نانگے سادھوؤں کی غاریں، گنبد، لکشمی دیوی کا مندر، رام چندر جی کا مندر، وشنودیوتا کا بت، اشوک کے اسٹوپے، شمشان گھاٹ، باؤلی، شکنتلا یونیورسٹی کا ہاسٹل، سادھوؤں کا مندر، متبرک کنواں، نانگے سادھوؤں کا مندر، پانی کی غار، رام ہلاواں کا سیروٹہ (سیرکا باٹ) جو کئی ٹن وزنی پتھر ہے۔کرشن گنگا کا چشمہ اور شمال میں واقع سنگھاپور کا معدوم شہر کٹاس راج کو تاریخ کا اہم ورق بناتے ہیں۔ یہاں کی دیواروں پر سینکڑوں نادر نقش و نگار بھی موجود ہیں۔ اسے ہماری بدقسمتی سمجھیں کہ تاریخی و مذہبی اہمیت کا حامل یہ مقام اپنی بدقسمتی پر نوحہ کناں ہے اور ہم اپنی بدقسمتی پر کہ اس کے لیے اب تک کچھ نہیں کر سکے۔

Leave a Reply

Top