You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > ویرپن، بھارت کی تاریخ کا سفاک ڈاکو

ویرپن، بھارت کی تاریخ کا سفاک ڈاکو

درازقد اور چھریرے بدن کا مالک ویرپّن کئی برس تک بھارتی پولیس کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد بالآخر 2004 میں اپنے انجام کو پہنچا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ خطرناک ڈاکو اور اسمگلر کئی افراد کا قاتل بھی تھا۔ ویرپّن کا ٹھکانا جنوبی کرناٹک اور تامل ناڈو کے جنگلات تھے جہاں


اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی کرنا آسان نہ تھا۔گھنے درختوں، گھاس پھونس، اونچے نیچے اور انجانے راستوں پر پولیس کے لیے قدم قدم پر خطرہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ 15 سال تک گرفتاری سے بچا رہا۔ جنگل تو ویرپّن کے لیے شہر میں موجود کسی گھر کے باغیچے جیسا تھا۔ وہ اور اس کے ساتھی جنگل کے ماحول کے عادی ہوچکے تھے اور ان راستوں پر کسی ممکنہ خطرے اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنا بھی جانتے تھے۔پولیس ریکارڈ میں تو ویرپّن کی گرفتاری کے لیے چھاپوں اور جنگل میں کارروائیوں کا اندراج کیا گیا ہے، مگر کہا جاتا ہے کہ اکثر پولیس کارروائیاں محض دکھاوا تھیں جن کا مقصد حکومت اور محکمے کے افسران کی جانب سے ویرپّن کی گرفتاری کے لیے دباؤ کم کرنا تھا۔ بھارتی حکومت نے ویرپّن کو اشتہاری قرار دیا اور اس کے سَر کی قیمت مقرر کی، عام لوگوں کو اس کی گرفتاری میں مدد دینے کے لیے مالی لالچ دیا، لیکن پولیس اسے زندہ گرفتار نہیں کرسکی۔ 2004ء میں ایک پولیس مقابلے میں ویرپّن مارا گیا اور اس کے ساتھ ہی پولیس ریکارڈ میں موجود ویرپّن کی فائل بھی ہمیشہ کے لیے بند کردی گئی۔ریاست تامل ناڈو کے ایک گاؤں گوپی ناتم میں 18 جنوری 1952ء کو پیدا ہونے والے ویرپّن نے 14 سال کی عمر میں جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ ہاتھی دانت کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ایک گروہ کے لیے کام کرنے لگا اور جلد ہی ہاتھی کا شکار اور اس کے دانت نکالنے میں مہارت حاصل کرلی۔ خیال کیا


جاتا ہے کہ ویرپّن اور اس کے ساتھیوں نے تقریباً دو ہزار ہاتھی مارے۔اسی دوران ویرپّن صندل کی لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کے لیے کام کرنے لگا۔ اسے جرائم کی دنیا میں لے جانے والا کوئی غیر نہیں بلکہ اس کا ایک قریبی رشتے دار تھا۔ ویرپّن نے ہر وہ کام کیا جو ریاست اور قانون سے متصادم تھا۔ اسے اس کھیل میں مزہ آنے لگا تھا۔ پولیس سے آنکھ مچولی کا لطف اٹھاتے ہوئے اسے وارداتوں کے بعد ذرایع ابلاغ میں اپنا چرچا ہونے پر خوشی محسوس ہوتی۔اُس نے جرم کی دنیا میں ابتدائی وارداتوں کے دوران بے خوفی اور سفاکی کا مظاہرہ کر کے خود کو کسی بھی گروہ کی سربراہی کا اہل ثابت کر دیا تھا۔ سب اسے ماننے لگے تھے۔ ہاتھی دانت اور لکڑی کی فروخت کے غیرقانونی کام میں رکاوٹ بننے والے کسی شخص پر تشدد اور قتل تو عام بات تھی۔ ویرپّن نے درجنوں پولیس اہل کاروں کے علاوہ مخبری کے شبہے میں کئی انسانوں کا قتل کیااسمگلنگ کے ساتھ اس نے لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع کردیں، مگر ریاست اور قانون کے اس مجرم کو مقامی دیہات کے لوگ اپنا ہم درد اور مسیحا بھی مانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں رابن ہڈ تھا جو امیروں سے لوٹا ہوا مال اور قیمتی اشیاء غریبوں میں بانٹ کر جنگلوں میں گم ہو جاتا تھا۔بھارتی پولیس کے لیے ویرپّن کی گرفتاری یوں بھی آسان نہ تھی کہ اس کے مخبروں کا جال بہت مضبوط تھا۔


اس گروہ کو کسی بھی پولیس کارروائی کی پہلے ہی خبر ہوجاتی تھی۔ دوسری طرف ویرپّن لوگوں میں اس گروہ کا خوف اتنا تھا کہ کسی جگہ ویرپّن کی موجودگی کا علم ہونے کے باوجود کوئی اپنی زبان نہیں کھولتا تھا۔ ویرپّن کے لوگ کسی کو بھی معمولی سا شک ہونے پر قتل کردیتے تھے۔ اس منظم گروہ کے خلاف 1990ء میں تین بھارتی ریاستوں نے مل کر ایک منصوبہ ترتیب دیا تھا جس میں 15,000 سپاہیوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ویرپّن کے گرد گھیرا اس قدر تنگ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی کمین گاہ تک محدود رہنے پر مجبور ہو گیا۔ اس دباؤ میں آکر بدنام ڈاکو نے خود کو حکام کے حوالے کرنے کی پیشکش کی اور اپنے خلاف تمام کیسز ختم کرنے کے ساتھ ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا، لیکن سرکار نے اسے مسترد کر دیا۔ اس پر ویرپّن نے ایک اور کارروائی کی اور محکمۂ جنگلات کے دس اہل کاروں کو اغوا کر لیا اور یوں پولیس کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔1986ء میں پہلی اور آخری بار ویرپّن کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، لیکن وہ چار پولیس والوں کو قتل کرکے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ حکومت کی جانب سے ویرپّن کی گرفتاری کے لیے گیارہ کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ دسمبر 2002ء میں ویرپّن نے کرناٹک کے وزیر ایچ ناگپا کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل 2000 میں اس نے جنوبی ہندوستان کے مشہور اداکار راج کمار کو اغوا کیا، لیکن تین مہینے بعد تاوان کے بدلے اسے آزاد کر دیا۔


ویرپّن پر کرناٹک میں ایک بارودی سرنگ کے ذریعے بائیس افراد کی ہلاکت کا الزام بھی تھا۔ویرپّن اور اس کے ساتھیوں نے 63 سالہ وزیر کو ضلع چماراجہ نگر میں واقع ان کے گھر پر حملہ کر کے اغوا کیا تھا۔ وزیر کی جانب سے ایک سال سے اس ڈاکو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویرپّن انہیں دھمکی آمیز خط بھیج رہا ہے۔ ویرپّن نے مغوی وزیر کی رہائی کے بدلے اپنے جیلوں میں قید ساتھیوں کی رہائی اور رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ویرپّن نے شرط رکھی تھی کہ مغوی وزیر کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تامل کارکن کولاتھر مانی کو بھیجا جائے جو اسے ہتھیار فراہم کرنے کے جرم میں قید کاٹ رہا تھا۔ اس پر حکومت تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود راضی ہو گئی تھی، لیکن قانونی مسائل کی وجہ سے مانی کی رہائی میں تاخیر ہو گئی جس کے بعد وزیر کو قتل کر دیا گیا۔ایچ ٹی سنگلیانہ ایک اچھی شہرت کے حامل اور عوام میں مقبول پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے 2003 میں انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ ویرپّن کی ستّیا منگلم کے جنگلات میں تلاش بے سود ثابت ہوگی۔ پولیس اور اسپیشل فورس کے اہل کار گھنے جنگل میں اس کی کمین گاہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ اس لیے گرفتاری پر وسائل ضایع کرنے کے بجائے ویرپّن کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ تاہم اس مشورے پر عمل نہیں کیا گیا اور پولیس نے ویرپّن کی گرفتاری کی کوششیں جاری رکھیں۔کرناٹک کے اس پولیس


افسر کے مشورے پر عمل کرنے میں حکومت اور انتظامیہ کو اپنی رسوائی کا ڈر تھا، مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ کئی سال کی آنکھ مچولی اور بھاری رقم خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا، مگر اگلے برس خبر آئی کہ ویرپّن جنوبی ریاست تامل ناڈو اور کرناٹک کی سرحد پر اپنے تین ساتھیوں سیتوکلی، چندرگوڑا اور گووِندن سمیت مارا گیا ہے۔ یہ ایک غیرمعمولی واقعہ تھا، جس نے ایک اور تنازعہ کو جنم دیا۔ پولیس تو ایک عرصے تک بھاگ دوڑ کے بعد جیسے ہار مان چکی تھی، مگر جب اس مقابلے اور ڈاکوؤں کی ہلاکت کی خبر آئی تو مقامی لوگوں اور بعض حلقوں نے کہا کہ پولیس کو چاہیے تھا کہ ویرپّن کو زندہ حالت میں گرفتار کرتی اور اس سے عام جرائم سمیت قتل اور اغوا کا جواب طلب کیا جاتا۔اس حوالے سے حکومت اور سیکیوریٹی حکام کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی پالیسی بھی تنقید کی زد میں آئی، کیوں کہ ماضی میں پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ تامل ناڈو اور کرناٹک کی ریاستوں کی پولیس کے درمیان اختلافات کی وجہ سے ویرپّن کو نہیں پکڑا جاسکا۔ اسپیشل ٹاسک فورس بھی عام لوگوں کی ویرپّن سے ہم دردی اور اس کی حمایت کے باعث گرفتاری سے گریزاں رہی اور اس کی نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھ سکی۔ویرپّن کے اپنے خفیہ ٹھکانوں سے باہر آنے اور دیہی علاقوں میں موجودگی سے پولیس یوں آگاہ نہیں ہوسکی کہ وہ دیہاتیوں میں لوٹ کا


مال تقسیم کرتا تھا اور ان کے دلوں میں جگہ بنا چکا تھا۔ اس کے علاوہ ویرپّن کے خوف سے لوگ پولیس کو اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دیتے تھے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ویرپّن کا گروہ کتنا بڑا تھا، لیکن یہ لوگ انتہائی منظم اور شاطر تھے۔ وہ کسی پر بھروسا نہیں کرتے تھے اور اپنے علاقے میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر ان کی کڑی نظر ہوتی تھی۔ جنگل میں مختلف راستوں میں ویرپّن کے ساتھی دن رات پہرہ دیتے اور آپس میں مسلسل رابطہ رکھتے تھے۔ ویرپّن سے صحافیوں اور چند دیگر شخصیات نے اس کے ٹھکانے پر ملاقات کی تھی جن کے مطابق وہ ہمیشہ اپنے چار یا پانچ ساتھیوں کے حصار میں رہتا تھا۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے ویرپّن اور اس کے ساتھیوں کے خلاف جنگل میں ایک بڑی کارروائی کرنے کی اجازت چاہتی تھی، مگر اس میں بے گناہ قبائلیوں کی ہلاکت کا خدشہ تھا۔ایسی صورت میں حکومت کو مقامی لوگوں کی جانب سے سخت ردعمل اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا اور مخالف سیاسی جماعتیں اس معاملے کو اچھال کر حکومت کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔ ویرپّن کی زندگی پر ہندوستان میں متعدد ڈرامے اور فلمیں بھی بنیں جن میں اس ڈاکو کے سیاست دانوں سے روابط کی بھی عکاسی کی گئی۔ تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پولیس کو نہیں مل سکا۔ ویرپّن دو بیٹیوں کا باپ تھا۔ اس ڈاکو کی بیوی متھو لکشمی نے پولیس مقابلے میں شوہر کی ہلاکت کے

بعد اس کی زندگی پر بننے والے ایک ٹی وی سیریل پر پابندی لگوانے کے لیے تامل ناڈو کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔متھو لکشمی کا موقف تھا کہ ایسی کسی سیریل کے نشر ہونے سے ان کی بیٹیوں کی زندگی مشکل میں پڑسکتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس ڈراما سیریل کے ڈائریکٹر نے ایک ملاقات کے دوران مجھ سے جو بات چیت کی، اسے میری اجازت کے بغیر ریکارڈ کر لیا۔ 2016 میں اسی بدنام کردار پر مشہور فلم ساز رام گوپال ورما کی فلم ویرپّن سامنے آئی جب کہ ہندوستان میں ریٹائرڈ پولیس افسروں اور چند دیگر لکھاریوں نے بھی اس ڈاکو پر سوانحی ناول لکھے اور شہرت حاصل کی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویرپّن کو سیاست دانوں کے علاوہ پولیس افسران کی بھی حمایت حاصل تھی، جو کئی اہم شخصیات کے فرنٹ مین کے طور پر اس ڈاکو سے رابطے میں رہے اور ان شخصیات کے غیرقانونی کام نکلوانے کے لیے اسے رعایت اور رقم بھی دیتے رہے۔ خوف اور دہشت کی علامت اور خطرناک انسان تصور کیے جانے والے اس ڈاکو کے مارے جانے کی خبر عام ہوئی تو جنوبی ریاستوں تامل ناڈو اور کرناٹک کے مقامی باشندے اس جنگل کا رخ کرنے لگے جہاں ممکنہ طور پر ویرپّن کی لوٹی ہوئی دولت اور سونا ان کے ہاتھ لگ سکتا تھا۔لوگوں کا خیال تھا کہ ویرپّن نے لوٹا ہوا مال اپنے ٹھکانوں کے آس پاس چھپایا ہو گا اور وہ کروڑوں روپے ان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ ویرپّن کی تدفین کے فوری بعد پولیس کو اطلاع


ملی تھی کہ مقامی باشندے گروہ کی صورت جنگل کی طرف جارہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے یہ اعلان کروایا گیا کہ اوّل تو لوگ جنگل میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں اور اگر انہیں وہاں سے کچھ ملا تو حکومت اسے ضبط کر لے گی۔ تاہم چھے ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے جنگل میں کسی خزانے کی تلاش عام لوگوں کے لیے بہت مشکل کام تھا اور کوئی اپنی اس کوشش میں کام یاب نہیں ہوسکا۔انتظامیہ کی جانب سے ویرپّن کی ہلاکت کی تصدیق ہونے کے بعد اس کا بینک کھاتا منجمد کردیا گیا تھا۔ یہ ڈاکو قتل کی120 سے زائد وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ ڈکیتیوں اور دیگر جرائم کے علاوہ ویرپّن پر پولیس پارٹی پر تشدد اور ان سے سرکاری اسلحہ چھیننے کے متعدد مقدمات قائم تھے۔ بدنامِ زمانہ ویرپّن تک پولیس کے پہنچنے اور اس کی ہلاکت کے بارے میں تفصیلات کئی برس بعد ریٹائرڈ پولیس افسر وجے کمار کی کتاب کے ذریعے سامنے آئیں۔کہا جاتا ہے کہ ویرپّن اسی افسر کی گولیوں کا نشانہ بنا تھا۔وجے کمار کے مطابق ایک روز پولیس کو اپنے مخبر کے ذریعے معلوم ہوا کہ ویرپّن کی آنکھ میں شدید تکلیف ہے اور وہ طبی امداد چاہتا ہے۔ تامل ناڈو کی اسپیشل ٹاسک فورس نے ان کی قیادت میں منصوبہ ترتیب دیا اور اسی مخبر کی مدد سے اسپتال کے عملے کا روپ دھارے ہوئے اپنے آدمی ایک ایمبولینس میں اس کے ٹھکانے کی طرف روانہ کیے۔ ویرپّن کی بدقسمتی کہ وہ ہماری چال کو سمجھ نہ سکا اور اس دوران مقابلے میں مارا گیا۔

Leave a Reply

Top