You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > وہ شخص جسے سمجھنے میں اس دنیا کو 100 سال کا وقت لگا ، اور جب سمجھ آ ئی تو۔۔۔ پڑھیے دلچسپ تاریخی رپورٹ

وہ شخص جسے سمجھنے میں اس دنیا کو 100 سال کا وقت لگا ، اور جب سمجھ آ ئی تو۔۔۔ پڑھیے دلچسپ تاریخی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک ) آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں اسے بلاشبہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج کا دور کہا جا سکتا ہے، محض 100 سال کے عرصے میں انسانی زندگی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹی فیشل انٹیلی جینس (مصنوعی ذہانت) نے ایک انقلاب برپا کردیا ہے ،جس کا سہرا لا تعداد شخصیات کے سر ہے،

مگر ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی تھے، جو اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔صرف ایک صدی پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں سائنس کے افق پر فراق پیشانی، بڑی بڑی آنکھوں اور منتشر بالوں کے ساتھ ایک پر کشش شخص چھایا ہوا نظر آئے گا، جس کے ہاتھوں سائنس میں جدت طرازی اور تحقیق و تخلیق کا بنیادی ماحول اور ڈھانچہ تشکیل پایا، جس کے قوانین اور دریافتوں کی اب یعنی 100 سال بعد بھی جدید ترین ٹیکنا لوجی سے تصدیق ہو رہی ہے۔یقینا وہ غیر معمولی ذہین اور بے پناہ صلاحیتوں کا حامل شخص ‘البرٹ آئن اسٹائن’ ہے، جس کا نام ہی ذہانت اور قابلیت کا استعارہ ہے۔البرٹ آئن اسٹائن کی زندگی آغاز سے ہی غیر معمولی اور کسی کو سمجھ میں نہ آنے والی ہی رہی ہے، اس کا جب جنم ہوا اور جب وہ بہت ہی کم عمر تھا، تب سے ہی وہ سب کے لیے معمہ تھا، یہاں تک کے اس کے والدین بھی اسے نہیں سمجھ پائے۔کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن سے ہی دنیا کو دوسرے زاویے سے دیکھتا تھا، ان کی زندگی سے متعلق تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ جب وہ انتہائی کم عمری میں ہفتے بھر کے بخار کے باعث از خود اٹھ کر بیٹھنے سے بھی محال تھا، اسی وقت اس کے والد ہرمن کمرے میں داخل ہوئے،

ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کمپاس تھا، البرٹ نے باپ کے سہارے اٹھ کر بمشکل کمپاس تھاما جس کی سوئیاں کسی پوشیدہ قوت کے زیر اثر حرکت میں تھیں،شدید بخار میں بھی البرٹ پر چند لمحوں کے لیے کپکپی طاری ہوگئی، اس کا وجدان کہتا تھا،ہو نہ ہو کمپاس کے گرد کوئی ایسی فیلڈ ہے جو اس کی سوئیوں کو متحرک کرنے کا باعث بنی ہے، یہ البرٹ آئن اسٹائن کی زندگی تبدیل کر دینے والا لمحہ تھا۔مقناطیسی فیلڈ سے تحریک پانے والا 19 ویں صدی کا یہ نامور سائنس دان اور ماہر طبیعات ساری زندگی روزمرہ استعمال کی اشیاء سے لیکر اجرام فلکی تک ہر کسی کے گرد مخفی فیلڈز پر اس استدلال کے ساتھ تحقیق کرتا رہا کہ “اشیاء کی تفصیلات اور گہرائیوں میں بہت سی حقیقتیں پنہاں ہوتی ہیں، جنہیں کھوج کر دریافت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں”۔14 مارچ 1879 کو جنوبی جرمنی کے شہر الم میں واقع گاؤں ‘سوابین’ میں پیدا ہونے والے البرٹ آئن اسٹائن کے متعلق کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ بچہ مستقبل میں سائنس خصوصا طبیعات جیسے مشکل مضمون میں انقلاب لانے کا باعث بنے گا۔آئن اسٹائن وائلن بھی بہترین انداز میں بجاتے تھے—فوٹو: ڈبلیو کیو ایکس آر اس کی نشونما بچپن ہی سے بہت سست تھی، 2 سال کی عمر میں اس نے بمشکل ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولنا شروع کیا، اسکول میں بھی اس کا شمار سست رفتار بچوں میں کیا جاتا تھا، جو سیکھنے اور پڑھنے میں بہت وقت لگاتے ہیں،

اس کے لیے والدین ہی نہیں پورا خاندان متفق تھا کہ یہ بچہ بمشکل ہی کوئی ڈگری حاصل کر سکے گا، اگرچہ اس حوالے سے کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کی ایک بڑی وجہ بچپن کے متعلق آئن اسٹائن کے اپنے کچھ متنازع بیانات بھی ہیں، مگر اس کی وفات کے بعد منظر عام پر آنے والے اس کے دادا کے خطوط سے پتا لگتا ہے کہ وہ عام بچوں کی طرح چالاک اور ہوشیار تھا، مگرابتداء میں اسے بولنے میں دشواری کا سامنا ضرور رہا تھا۔یہ عادت ساری عمر اس کے ساتھ رہی، جس کے باعث وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا تا اور اپنی بات کو 2 سے 3 مرتبہ دہرا یا کرتا تھا، اس بارے میں خود آئن اسٹائن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سوچ یا خیال اچانک ذہن میں وارد ہوکر اسے بہت زیادہ متاثر کرتا تو وہ اسے بار بار دوہرا تا تھا۔بول کر سوچنے کے علاوہ اپنے خیالات کو وہ تصویر کی صورت میں بھی سوچا کرتا تھا، جس میں آسمانی بجلی کا چلتی ہوئی ٹرین سے ٹکراؤ اور نیچے کی جانب آتی ہوئی متحرک لفٹ سے گریویٹی اور فری فال کے تجربے کافی مشہور ہوئے۔آئن اسٹائن کو ریاضی میں غیر معمولی صلاحیتیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھیں، وہ سلیبس میں درج اور اساتذہ کی پڑھائی کو حرف آخر سمجھنے والوں میں سے نہ تھا، ریاضی کی مساواتیں اور جیومیٹری کی اشکال اسے کائنات کے مخفی رازوں پر غور و فکر کرنے پر اکساتی تھیں، جسے اساتذہ عموما کلاس میں غائب دماغی سمجھ کر اس کے والدین کو شکایت بھیج دیا کرتے تھے، مگر وہ انہیں قائل کرنے سے قاصر تھا

کہ وہ محض ڈگری کے حصول سے آگے بڑھ کر کچھ غیر معمولی کر دکھانے کا خواہش مند ہے ۔صرف 15 برس کی عمر میں ریاضی کے پیچیدہ اصولوں او رکیلکولس میں مکمل مہارت حاصل کرنے کے بعد آئن اسٹائن کا دل اسکول، لگی بندھی روٹین اور فرسودہ سلیبس سے اکتا چکا تھا، لہذا ٰ 1896 میں وہ اپنی جرمن شہریت کو ترک کرکے زیورچ چلا گیا اور17 برس کی عمر میں ‘سوئس فیڈرل پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ’ میں داخلہ لیا، جہاں اس نے اسپیشلائزیشن کے لیے فزکس اور حساب کے مضامین کا انتخاب کیا،لیکن وہ ساری زندگی اس امرکا شدید مخالف رہا کہ خالص طبیعات کی تھیوریز کو ریاضی کے اصولوں کے ساتھ نتھی کیا جائے، آئن اسٹائن کا استدلال تھا کہ ایک کامیاب ماہر طبیعات کے لیے محض بنیادی ریاضی سے آگاہ ہونا ہی کافی ہے۔آئن اسٹائن اپنی پہلی اہلیہ میلیوا کے ساتھ—اسٹائن کی ذاتی زندگی ہمیشہ سے ہل چل کا شکار رہی، اس کے والد اس سے زیادہ ترناراض رہتے تھے اور والدہ ان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی جتنی کوششیں کرتیں وہ اتنی ہی بڑھتی چلی جاتیں، اس مشکل وقت میں اس کی چھوٹی بہن کے علاوہ اس کی دوست ‘میری ‘نے اس کا بھرپور ساتھ دیا، جس کے ساتھ زیورچ انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم کے دوران بھی خط و کتابت کے ذریعے اس کا رابطہ رہا، مگر اس تعلق میں اس وقت دراڑ آگئی جب آئن اسٹائن کی دلچسپی اپنی فزکس کی کلاس میں زیر تعلیم واحد طالبہ میلیوامیرک میں بڑھنے لگی۔در حقیقت یہ ایک بے جوڑ تعلق تھا، آئن اسٹائن نہ صرف غیر معمولی ذہین تھا، بلکہ خوبرو بھی تھا، جبکہ میلیوا عام سی شکل و صورت اور جسمانی و نفسیاتی عوارض کا شکار ایک بے انتہا سنجیدہ اور خشک مزاج لڑکی تھی

، جو عمر میں بھی اس سے 3 سال بڑی تھی، بچپن سے اپنی لنگڑاہٹ کے باعث مذاق کا نشانہ بننے والی میلیوا کے دل میں صنف مخالف کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔آئن اسٹائن کئی برس تک نفرت کی اس دیوار کو گرانے کی سعی کرتا رہا، دوسری جانب میلیوا، اس کے جذبوں کی شدت اور خود اپنے دل میں امڈ آنے والے نرم گوشوں سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ وہ زیورچ انسٹی ٹیوٹ چھوڑ کر ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی چلی گئی، مگر البرٹ اسے مستقل خط لکھ کر اپنی محبت کا یقین دلاتا رہا، بالآخر نفرت کی شکست ہوئی اور وہ دونوں ہمیشہ کے لیے ایک ہو گئے، ان کے 3 بچے ہوئے جن میں ایک بیٹی اور 2 بیٹے شامل تھے، شادی کے بعد ایک میچوئرعورت کے ساتھ کی وجہ سے البرٹ کی زندگی میں استحکام آیا اور وہ پہلے سے زیادہ آسودگی و یکسوئی کے ساتھ کائنات کے سر بستہ رازوں اور طبیعات کے اصولوں پر غور و فکر کرنے لگا۔اگرچہ میلیوا جسمانی نقائص کا شکار ایک سنجیدہ مزاج عورت تھی، مگراس کی ذہانت اور فزکس و سائنس میں غیر معمولی دلچسپی اسے عام خواتین سے ممتاز کرتی تھیں، بلاشبہ میلیوا نے اپنی بے لوث محبت، خوبصورت حس مزاح، جذباتی پختگی اور ذہانت سے آئن اسٹائن کے گرد اس قدر مضبوط فیلڈ قائم کی، جسے وہ تا عمر توڑنے سے قاصر رہا، اور کچھ عرصے بعد طلاق کے باوجود بھی ان کی دوستی برقرار رہی، وہ بیک وقت اس کی غم گسار ساتھی بھی تھی، محبوب بیوی اور اس کی تحقیقات میں معاون اور سب سے بڑھ کر وہ اس کی بڑی نقاد بھی تھی۔

اگرچہ آئن اسٹائن کی ذہانت اور غیر معمولی ادراک قدرت کی جانب سے عطا کردہ تھا، مگر دیکھا جائے تو اس کی غیر معمولی کامیابیوں میں میلیوا اور موسیقی کا اثر بہت گہرا رہا، البرٹ جوانی سے ہی بہت اچھا وائلن بجایا کرتا تھا، یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ اس کا جنون بنتا گیا، زیورچ میں دوران تعلیم وہ سوزین مارک ویلڈر کی والدہ سے باقاعدگی سے میوزک کلاسز لیا کرتا، جو پیانو بجایا کرتی تھیں، وہ بیتھووین کا بھی مداح تھا، مگر موزارٹ اور بیچ کی آفاقی دھنیں اسے زمان و مکاں کی حدوں سے بے نیاز کردیا کرتی تھیں۔1901 میں زیرچ انسٹی ٹیوٹ سے گریجویشن کے بعد البرٹ نے کچھ عرصے سوئس پیٹنٹ آفس میں بحیثیت کلرک کام کیا، 1905 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اسی برس ‘روشنی سے ہونے والے برقیاتی اثرات ‘(پولارائزڈ لائٹ) براؤنین موشن (مالیکیولز کی بے ترتیب حرکت) اور نظریۂ اضافیت پراس کے مقالات بھی شائع ہوئے۔اگرچہ ابتداء میں اس کی تحقیقات خصوصا نظریۂ اضافیت پر اسے بہت زیادہ تنقید و مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کا موازنہ براہ راست نیوٹن کے قوانین سے کیا گیا جو نسبتا عام فہم تھے، مگر کچھ تضادات کا شکار تھے، جبکہ آئن اسٹائن کے خیالات پیچیدہ اور گنجلک تھے۔ جو بعد میں طبیعات کی ایک نئی شاخ ‘کوانٹم فزکس’ کی بنیاد رکھنے کا سبب بنے، در حقیقت ڈارون کے بعد آئن اسٹائن وہ سائنسدان تھے، جسے ہر دور میں شدید لعن طعن کا سامنا رہا،

مگر دراصل اس کے یہی نظریات اسے دنیا کا ذہین ترین انسان اور ایک کامیاب ماہر طبیعات بنانے کا سبب بنے۔بے پناہ تنقید کے باوجود صرف 2 برس کے قلیل عرصے میں وہ بنیادی نظریۂ اضافیت پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور یہیں سے اس کی کامیابیوں کے سفر کا آغاز ہوا، جس کے بعد اس نامور سائنسدان نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، جلد ہی اسے کیرولیم انسٹی ٹیوٹ میں ڈائریکٹر کی ملازمت حاصل ہوگئی، 1919 میں سورج گرہن کے دوران مشاہدات کرتے ہوئے سر آرتھر یڈنگٹن نے اس کے نظریۂ اضافیت کی تصدیق کی، جبکہ 2016 میں جدید ترین ٹیکنالوجی “لیگو” کے ذریعے آئن اسٹائن گریوی ٹیشنل ویوز (ثقلی موجوں) کی 100 سال بعد باقاعدہ تصدیق کی جاچکی ہے، جو اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ البرٹ آئن اسٹائن کا وجدان اور اشیاء کی گہرائیوں میں اتر جانے کی صلاحیت کتنی غیر معمولی تھی۔1921 میں آئن اسٹائن کو تھیوریٹیکل فزکس میں قابل ذکر تحقیق پر نوبل پرائز دیا گیا تو اس نے انعام کی رقم اپنی بیوی میلیوا کے نام کرکے اس سے طلاق حاصل کرلی، زندگی کے مختلف ادوار میں بہت سی عورتیں اس کی ساتھی رہیں، مگر جو دیرپا اور گہرا اثر میلیوا نے اس کی شخصیت پر ڈالا وہ مرتے وقت تک اس کا معترف بھی رہا اور مشکور بھی، وہ ساری زندگی قدرت کے شاہکاروں کے پوشیدہ قفل کھولنے کی سعی کرتا رہا، چاہے

وہ مقناطیسی فیلڈ ہو یا اجرام فلکی کی مضبوط کشش ثقل، اشیاء کا جمود ہو یا گردشی اثر، روشنی کی شعائیں ہوں یا ثقلی موجیں، ہر شے اسے اپنے سحر میں جکڑتی گئیں اور وہ ایک جنون میں ان ناممکنات پر غور کرتا گیا جو عام آدمی کے ذہنی سطح سے ماورا تھیں۔اس کی ذات بلاشبہ بہت سی نادر خوبیوں کا مرکب تھی،غیر معمولی ذہانت کے باوجود اس میں گھمنڈ یا غرور نام کی کوئی چیز نہ تھی، وہ ایک دردمند دل رکھنے والا غم گسار شخص تھا، جو سائنس کے علاوہ سیاسی امور پر بھی بے لاگ تبصرہ کیا کرتا تھا، اسی وجہ سے ہٹلر کے جرمنی میں بر سر اقتدار آتے ہی اس کا ادارہ بھی زیر عتاب آگیا، جس کے بعد 1933 میں وہ پرنسٹن انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز نیو جرسی منتقل ہوگیا، جہاں بعد ازاں 1940 میں اسے امریکی شہریت بھی حاصل ہوگئی۔آئن اسٹائن کو امریکا کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایک متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے، اگرچہ وہ ایٹمی توانائی کے پر امن استعمال کا زبردست حامی تھا اور مستقبل میں اس سے ہونے والی ہولناکیوں کو قبل از وقت بھانپتے ہوئے البرٹ نے اس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ کو خط بھی لکھا جو اب تک ریکارڈ پر موجود ہے، مگر آئن اسٹائن کو ایٹم بم پراجیکٹ میں اس لیے ملوث کیا جاتارہا کہ ایک تو یہ کہ اس کا اپنا شروع کیا گیا منصوبہ تھا، دوسرا یہ کہ تھیوریٹیکلی بم کی تخلیق آئن اسٹائن کی مشہو ر زمانہ’کمیت اور توانائی’ کی مساوات کے ذریعے ہی ممکن ہوسکی تھی۔آئن اسٹائن جس شان اور وقار سے ز ندہ رہا اس نے مرنے کے لیے بھی ویسا ہی باعزت طریقہ اختیار کیا،

17 اپریل 1955 کو اسے سینے میں تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کیا گیا اور ڈاکٹرز اس کی سرجری کے لیے پوری طرح مستعد تھے، مگر اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ اپنی زندگی جی چکا ہے اور اب آسودگی اور رضامندی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجانا چاہتا ہے، اگلے ہی روز 18 اپریل کو یہ نامور سائنسدان دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا کہ اس کی رائٹنگ ٹیبل پر بے شمار لکھے اور ادھ لکھے کاغذات کا ڈھیر تھا، جن پر وہ آخری سانس تک کوانٹم فزکس کی مساواتیں لکھ کر کائنات کے عقدے حل کرتا رہا۔آئن اسٹائن کی وصیت کے مطابق اس کی میت کو جلاکر راکھ کسی نہ معلوم مقام پر بکھیر دی گئی، جو آج تک ایک معمہ ہے، کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا مزار بنا کر آنے والی نسلیں وہاں عقیدت کے پھول نچھاور کرتی رہیں، بے شک فانی انسانوں کو جشن مسرت منانا چاہیے کہ البرٹ آئن اسٹائن جیسا زیرک، ذہین اور عظیم شخص نوع انسانی کو میسر آیا، جس نے زندگی کا ہر لمحہ کائنات کے سر بستہ رازوں کی گتھیاں سلجھانے میں بسر کیا اور دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی ایک عالم اس کے علم سے مستفید ہورہا ہے۔

Leave a Reply

Top