You are here
Home > خبریں > پاکستان > چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: کس چیز کا خوف آصف زرداری اور عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں لے آ یا ؟ دنگ کر ڈالنے والی حقیقت سے پردہ اٹھ گیا

چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: کس چیز کا خوف آصف زرداری اور عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں لے آ یا ؟ دنگ کر ڈالنے والی حقیقت سے پردہ اٹھ گیا

اسلام آباد (ؤیب ڈیسک) پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے دوران بعض اطلاعات کے مطابق ’ایک زرداری سب پر بھاری کے ساتھ نیازی، زرداری بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے‘۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے آصف علی زرداری اور عمران خان کو قریب لانے کی

کوشش کی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔آصف زرداری یا عمران خان کی کامیابی؟تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے 13 ووٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے سپرد کیے اور ساتھ میں یہ بھی تجویز دی کہ چیئرمین بلوچستان اور ڈپٹی چیئرمیں فاٹا سے آنا چاہیے۔ تاہم پیپلز پارٹی لین دین کر کے اپنا ڈپٹی چیئرمین لانے میں کامیاب ہوئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو اپنی جماعت کی کامیابی قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے لیکن انھوں نے دیا۔تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری پیپلز پارٹی کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے خوش فہمی قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین کے انتخاب میں جتنا نقصان مسلم لیگ نون کو ہوا ہے اتنا ہی یا اس سے کم پیپلز پارٹی کا بھی ہوا ہے، کیونکہ دونوں ہی بڑی جماعتیں چیئرمین شپ کی امیدوار تھیں لیکن تحریک انصاف نے جو ترپ کا پتہ کھیلا اس کے نتیجے میں نہ صرف نواز شریف بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی اس سے محروم کر دیا۔پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد کیا جاری رہ سکتا ہے؟

سینیٹ کے اراکین اور چیئرمین کے انتخابات نظریات، جذبات اور ماضی کے کردار پر نہیں صرف سیاسی ضروریات اور مفادات کے تحت لڑے گئے۔ کیا ضروریات اور مفادات پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو مزید ساتھ رہنے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں؟پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد کے مطابق ’یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی انتخابی اتحاد ممکن ہے یا نہیں کیونکہ کسی بھی چیز کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا اپنا ایجنڈہ ہے اور ہمارا اپنا، کسی جگہ پر ہم اکٹھے ہو سکتے ہیں کسی جگہ پر نہیں۔‘چوہدری منظور کے موقف کے برعکس تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری اس امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ان کے بقول پیپلز ارٹی سے نہ کوئی اتحاد تھا اور نہ ہی ہونے کا امکان ہے۔ ’زرداری کے بارے میں ہمارے موقف میں نہ تبدیلی آئی ہے اسی طرح نہ ان کا موقف ہمارے بارے میں تبدیل ہوا ہے۔‘تحریک انصاف کو کیا اخلاقی نقصان پہنچا ہے؟تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے آزاد پینل اور آزاد امیدوار کی حمایت کی ہے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی یعنی پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال صوفی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے ایک راستہ نکال لیا لیکن تحریک انصاف کو بعد میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی، کیونکہ تحریک انصاف کے وہ لوگ جو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے حق میں نہیں تھے اسے پسند نہیں کریں گے۔سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار بابر ایاز بھی احمد بلال صوفی کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کو اخلاقی نقصان ہوا ہے کیونکہ عمران خان جن اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر کھڑے رہتے تھے اب وہ نہیں رہے سکتے۔ ’انھوں نے خود اس کھیل میں حصہ لیا اور زرداری کے ساتھ سٹیج نہیں بلکہ الیکشن شیئر کیا۔

‘پاکستان پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں گذشتہ کئی ماہ سے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے ایک غیر یقینی کی صورتحال رہی۔ تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا موقف تھا کہ انتخابات ضرور کرائے جائیں گے۔احمد بلال صوفی کا کہنا ہے کہ جمہوری عمل آگے بڑھا یہ ایک خوش آئندہ بات ہے اس دوران کئی ایسی چیزیں ہوئی ہیں جو صحت مند نہیں تھیں جن کے بارے میں لوگوں کو شکوک شبہات ہیں کہ پارلیمنٹ کے باہر کی قوتیں ہدایت دے رہی تھیں یا پیسے کا استعمال ہو رہا تھا لیکن اس کی شہادت کوئی نہیں ہے۔سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار بابر ایاز کا کہنا ہے کہ ’سینیٹ کے انتخابات میں جمہوریت نے گنوایا اور اسٹیشلنمنٹ نے حاصل کیا ہے، آصف زرداری کو یہ خدشہ ہے کہ اس وقت جو دباؤ نواز شریف پر ہے کل ان کی بھی باری آ سکتی ہے اس لیے وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے راضی ہو گئے۔ پہلے سے ہی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی اکثریت آنے نہیں دیں گے وہ کام پیپلز پارٹی کی قیادت نے کر دیا۔‘نئی سیاسی صف بندیاں؟سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا جبکہ جمعیت علما اسلام ف جو مسلسل میاں نواز شریف کی حمایتی تھی کے ووٹ اپوزیشن جماعتوں کے پاس آئے، اسی طرح ایم کیو ایم نے اس سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو تو ووٹ دیا تھا لیکن اس بار راجہ ظفر الحق کو ووٹ نہیں دیا۔

Leave a Reply

Top