You are here
Home > خبریں > پاکستان > نواز شریف دوبارہ ان یا ہمیشہ کے لیے آؤٹ : پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان دنوں کیا سوچ رہی ہے؟ کامران خان کا خصوصی تضزیہ ملاحظہ کیجیے

نواز شریف دوبارہ ان یا ہمیشہ کے لیے آؤٹ : پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان دنوں کیا سوچ رہی ہے؟ کامران خان کا خصوصی تضزیہ ملاحظہ کیجیے

نواز شریف دوبارہ ان یا ہمیشہ کے لیے آؤٹ : پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان دنوں کیا سوچ رہی ہے؟ کامران خان کا خصوصی تضزیہ ملاحظہ کیجیے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف کا خوفناک منصوبہ یہ تھا کہ وہ سینیٹ کا انتخاب جیت کر کرپشن کو قانونی تحفظ دینا چاہتے تھے ،

فوج اور عدلیہ کے خلاف قانون سازی کرنا چاہتے تھے ، لیکن عمران خان نے نواز شریف کا راستہ روک دیا۔ نظام اور ریاست کی بہتری کیلئے 50 بار بھی زرداری سے ہاتھ ملائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے رہنما فیصل واؤڈا نے ‘‘دنیا نیوز’’ کے پروگرام ‘‘آن دی فرنٹ’’ میں میزبان کامران شاہد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف جیسے نا اہل کو دوبارہ اہل بنانے کے لیے قانون سازی کو روکنے کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے ہمارے اختلافات سب پر کھلے ہوئے ہیں، اگر نواز شریف وزیر اعظم بننے کیلئے فوج سے مدد لیتے رہے ہیں تو آج فوج ہی اس غلطی کا کفارہ بھی ادا کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔ پنجاب کے وزیر اوقاف زعیم قادری کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں جمہوریت کو قتل کر دیا گیا۔ نواز شریف کی لڑائی عہدے کیلئے نہیں ووٹ کے تقدس کی بحالی کیلئے ہے ، اگر عدلیہ اور ادارے اس تقدس کے خلاف جائیں گے تو ہم ان کے خلاف بھی جدو جہد کریں گے ، تحریکِ انصاف مسترد شدہ سیاسی لوگوں کا مجموعہ ہے ،

زرداری نے پہلے بینظیر کا خون بیچ کر صدارت حاصل کی، اب بینظیر کا نظریہ بیچ کر سینیٹ کی ڈپٹی چیئرمین شپ وصول کی ہے ۔ سینیٹ انتخابات کے بعد ہمارا بیانیہ ہمارے کارکنوں میں اور زیادہ مقبول ہوا ہے ، ہمارے لوگ ٹوٹ نہیں رہے جس سے ہمارے مخالفین کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، اگر عوام عمران خان کو ووٹ دے کر وزیر ا عظم بنا ئیں تو ہمیں بھی قبول ہو گا۔ معروف تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے محمد خان جونیجو اور غلام مصطفی جتوئی کو سازش کر کے نکالا، انہوں نے غلام اسحاق اور فاروق لغاری سے ساز باز کر کے دو دفعہ بینظیر کو اقتدار سے نکالا، آصف زرداری سے طے شدہ ملاقات بغیروجہ بتائے منسوخ کر دی جائے تو ٹھیک ہے اور اگر آصف زرداری خواجہ آصف کا فون سننے سے انکار کر دے تو وہ خراب ہو جاتا ہے ، نواز شریف نظریاتی ہوتے تو ضیائالحق کے اوپننگ بیسٹ مین راجہ ظفر الحق کو سینیٹ چیئرمین کے لیے نہ کھڑا کرتے ، (ن) لیگ نے تیس سال میں دو لیڈر پیدا کیے ایک نواز دوسرا شہباز، نظریاتی لوگ 25 کنال کے گھروں میں نہیں رہتے ، جتنی بڑی جائیدادیں نواز شریف کے بیٹوں کی ہیں اتنی تو برطانوی شاہی خاندان کے بیٹوں کی نہیں ہیں ۔ ‘‘دنیا نیوز’’ کے سینئر تجز یہ نگار ایاز امیر نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کا نفسیاتی اثر (ن) لیگ پر بہت برا ہوا ہے ۔ راجہ ظفرالحق کی تقدیر میں جیت ہے ہی نہیں ، اب پنجاب کے الیکٹبلز جو کرۂ ارض کے سب سے سیانے لوگ ہیں ان کا رد عمل آئے گا، وہ دیکھیں گے کہ کھیل شریفوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو وہ سب ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے ، اگلے چار پانچ ماہ میں ان کی آہیں بلند ہوں گی، یہ اپنے آپ کو اصول پسند، جمہوریت پسند اور لینن سے بڑا انقلابی سمجھ رہے ہیں، ان میں اتنا حوصلہ نہیں کہ کسی کی بات سن بھی سکیں۔

Leave a Reply

Top