You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > عمران خان کے نئے پاکستان میں شیخوپورہ کے حاجی محمد نواز کے مدنی دستر خوان اور اسلام آباد کے زمرد خان کے سویٹ ہوم کا کیا حال ہو گیا ؟ نامور خاتون صحافی نے تلخ حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

عمران خان کے نئے پاکستان میں شیخوپورہ کے حاجی محمد نواز کے مدنی دستر خوان اور اسلام آباد کے زمرد خان کے سویٹ ہوم کا کیا حال ہو گیا ؟ نامور خاتون صحافی نے تلخ حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) مہنگائی سے جہاں عام انسان کی زندگی مفلوج ہوتی ہے وہاں مخیر حضرات کی خدمت خلق بھی متاثر ہوتی ہے۔ صدقہ جاریہ پر خرچ کی جانے والی رقم میں کمی آتی ہے۔غریب کے رفاعی و فلاحی کام سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ فی سبیل اللہ لنگر اور دسترخوانوں کی رونقیں

معروف کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔۔سونی ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہمارا تمام وقت عوام الناس کے مسائل دیکھتے سنتے اور نبٹتے گزرتا ہے۔ شیخو پورہ کے حاجی محمد نواز کا مدنی دسترخوان ہو ، زمرد خان کے سویٹ ہومز کے یتیم خانے یا مومنہ چیمہ فائونڈیشن کی مستحق سٹوڈنٹس کے وظائف ہوں۔ سب متاثر ہو تے ہیں۔ مخیر حضرات سب امیر لوگ نہیں ہوتے۔اکثریت متوسط طبقہ راہ خدا میں خرچ کرتا ہے۔عمران خان جانتے ہیں کہ شوکت خانم کینسر ہسپتالوں کی تعمیر میں فنڈز دینے والوں میں غریب اور متوسط طبقات کی اکثریت ہے جبکہ کالے دھن والا امیر طبقہ اثاثے بنانے اور پھیلانے میں مشغول رہتا ہے اور راہ خدا میں خرچ بھی کرتا ہے تو اپنی کرپشن اور کالے دھن کو چھپانے کے لئے۔ مہنگائی ہر دور حکومت میں عوام کی کمر توڑتی چلی آرہی ہے البتہ پی ٹی آئی حکومت نے اگلی پچھلی تمام کسر پوری کر دی ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ان کی قوت خرید ختم ہو تی جا رہی ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے لیکن حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے مہنگائی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ہر گھر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے ملک میں روزگار کا سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثرپڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک جانے کی غیر قانونی کوشش میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ملک میں اس وقت بد دیانتی عروج پر ہے

اور ہر محکمہ و ادارہ خطرناک حد تک کرپٹ ہو چکا ہے۔ جس میں مالی وقانونی واخلاقی کرپشن شامل ہے۔ یہاں پر جائز کام کے لئے جان بوجھ کر تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں‘ جن سے عاجز آکر سائل عملہ کو رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اس بات کا اشارہ کر رہی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ انسان لقمہ خوراک کو ترس جائے گا۔ اس مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے اس مہنگائی سے بہت سی خطرناک برائیاں پیدا ہوئی ہیں جن میں سے ایک رشوت ہے جس کالینا ہمارے معاشرے کے افراد کا وطیرہ بن چکا ہے ہر کوئی اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ روپیہ سب سے زیادہ اس کے پاس ہو۔ ہر کوئی اس ہوس کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی کھال ادھیڑ رہا ہے۔روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر نے بھی مہنگائی کے طوفان کو سونامی میں بدل دیا ہے۔ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلا ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا

قرضہ ہوگا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہوجائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پاکستان کی برآمدات مستقل گر رہی ہیں اور درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال چار ماہ میں 107 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کے ذریعے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پھر بھی جاری کھاتے کاخسارہ تقریبا 22 ارب ڈالر ہو گیا۔‘ سیاسی افراتفری اورعدالتی کارروائی کی وجہ سے اب تک بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالرسے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی بے قدری اور ڈالر کی اڑان سے مہنگائی بڑھے گی۔رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آخر تک مہنگائی کی رفتار میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔ کمرشل بینکوں سے حکومتی قرضوں میں کمی کے باعث نجی شعبے کو قرضے کی دستیابی میں اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی متوقع طور پر بلند شرح پر ہی رہے گی۔ بیرونی قرضوں کی واپسی کے باعث بھاری غیر ملکی قرضے لینا پڑیں گے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانی کی قلت کے باعث زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکے گا۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی شعبے کی ترقی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوگا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы