You are here
Home > کالمز > کچے کے علاقے کے مشہور زمانہ ڈاکو چھوٹو اور اسکے چھوٹو گینگ کا سرپرست کون تھا ؟ کئی ماہ بعد اصل کہانی سامنے آ گئی

کچے کے علاقے کے مشہور زمانہ ڈاکو چھوٹو اور اسکے چھوٹو گینگ کا سرپرست کون تھا ؟ کئی ماہ بعد اصل کہانی سامنے آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) پچھلے دنوں ایک عدالت سے کچے کے علاقہ کے معروف ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کوسزائے موت، جرمانہ اور قیدکی سزاسنائی گئی۔ دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقے میں اس ڈاکو نے اپنے ڈیرے پر پختہ بنکرز بنا رکھے تھے ۔ اس کیخلاف پولیس کے پانچ آپریشن ناکام ہو چکے تھے

نامور کالم نگار فاروق عالم انصاری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر آپریشن میں چھوٹو پولیس کے جوانوں کو اغواء کر کے ان کے ذریعے محفوظ راستہ حاصل کرتا رہا تھا۔ ایک مرتبہ اسے مقامی ممبرقومی اسمبلی میر جان مزاری نے بھی محفوظ راستہ دلوانے میں مدد دی۔ 2016کے شروع میں اس کیخلاف ہونے والے چھٹے پولیس مقابلہ کی نگرانی خو د آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کر رہے تھے ۔ اس مقابلہ میں بھی چھوٹو کا پلہ بھاری رہا۔ پولیس افسران کی نااہلیت کے باعث اس مقابلہ میں سات پولیس کے اہلکار شہید ہوئے ۔ چوبیس اہلکار چھوٹو نے یرغمال بنائے۔ اس مقابلہ میں خود چھوٹو کا نقصان اسکے صرف دو ساتھیوں کی ہلاکت تھا۔ چھوٹونے ان چوبیس پولیس کے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض تین سو ملین روپیہ اور فرار ہونے کیلئے محفوظ راستہ مانگا۔ایک مقابلہ میں اتنے جوانوں کی شہادت اور گرفتاری کم از کم پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔اس پر ملک میں بہت شور مچا۔ ان دنوں کالم نگار نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھاکہ اس مقابلے میں پولیس کی قیادت اگر چھوٹو ڈاکو کے ہاتھوں میں ہوتی تو پولیس کم از کم اتنے بھاری نقصان سے ضرور بچ نکلتی۔ تین ہفتوں کے ناکام پولیس آپریشن کے بعد فوج نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ فوجی آپریشن کے دوسرے روز ہی چھوٹو نے غیر مشروط ہتھیار ڈال دیئے ۔ ڈاکو جاگیردار کلچر کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ یہ جب بھی مشکل میں ہوں ، کوئی نہ کوئی مقامی’’ میر جان مزاری‘‘ان کی مدد کو ضرور پہنچ جاتا ہے ۔

لیکن اب معاملہ کیونکہ پولیس کے ہاتھ میں نہ رہا تھا اسلئے کوئی انکی مدد نہ کر سکا۔چنانچہ چھوٹوگرفتار بھی ہوا اور عدالت سے سزا یاب بھی۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کالم نگار رسول بخش رئیس نے کچے کے ان ڈاکوئوں سے یوں ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ ’’جب کبھی کچے کے علاقوں کے ڈاکوئوں کا ذکر چھڑتا ہے تو میری نظر سندھ سے لیکر کے پی کے تک کے پکے کے علاقوں میں دندناتے سیاسی لٹیروں اور ڈاکوئوں پر جا پڑتی ہے ۔ ملک میں ہر طرف انہی کا راج ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھی انہی کی ، ممبران اسمبلی بھی انہی کے اور مہنگے وکیل بھی انہی کی وکالت کو تیار۔انہوں نے بیرونی ممالک میں دولت کے انبار ، محلات ، جائیدادیں اور اثاثے اکٹھے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک طرف یہ پکے کے علاقہ کے ڈاکو ہیں جو ملک کو لوٹ کر بھی معاشرے اور سیاست پر غالب ہیں۔ دوسری جانب کچے کے غریب الدیار ڈاکو ہیں جو ہمہ وقت پولیس کی گولیوں اور قید و بند کے خطرے تلے زندگی گزارتے ہیں۔ بیچارے عدالتوں سے سزا بھی پاتے رہتے ہیں۔ مجھے جرم کی حمایت مقصود نہیں ۔ میں نے صرف منافقت کی نشاندہی کی ہے ‘‘۔ کالم نگار کو یہ سب کچھ پچھلے دنوں جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر تاجروں کی ایک احتجاجی ریلی دیکھ کر یاد آیا۔ یہ ریلی ایک مقامی سیاستدان کے سیٹ بیک کیلئے جگہ چھوڑے بغیر تعمیر کئے گئے پلازے سے شروع ہوئی تھی ۔ یہ تاجر مقامی میونسپل کارپوریشن کی ملکیتی 532دکانوں کی کرایہ داری آئندہ نیلام عام کے ذریعے دینے کے اعلان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔

ان دکانوں کی مالیت کسی طرح بھی کروڑوں سے کم نہیں۔ لیکن یہ لوگ ان پر ہزار ڈیڑھ ہزار ماہوار کرایہ پر عرصہ دراز سے قابض ہیں۔ ان میں کئی دکانوں کی پگڑی بھی کروڑوں روپوں تک پہنچ چکی ہے ۔ پگڑی کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ کرایہ داری حقوق کے تحت محض قبضے کا معاوضہ ہے ۔ مقامی میونسپل کارپوریشن کے میئر شیخ ثروت اکرام ڈٹ کر کہہ رہے ہیں۔ ’’اربوں روپے مالیت کی ان دکانوں کا کرایہ انتہائی کم ہے ۔ یہ کرایے ہرگز قبول نہیں۔ دکانیں نئے کرایہ پر اوپن بولی میں دی جائیں گی‘‘۔ کالم نگار انتہائی دکھ سے دیکھ رہا ہے کہ شہر کے تمام سیاسی اور سماجی حلقے اس مسئلے پر خاموش اور مکمل لا تعلق ہیں۔ ’نی سسیے بے خبرے تیرا لٹیا شہر بھنبھور‘۔ایک اکیلے میئر کی آواز کتنی موثر ہو سکتی ہے جبکہ اس کا تعلق بھی اپوزیشن کی سیاسی جماعت سے ہو ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے ۔ کیا ایک صاحب حیثیت فرد کا مارکیٹ سے انتہائی ارزاں نرخوں پر سوسائٹی کی کوئی مشترکہ ملکیتی جائیداد کا کرایہ پر استعمال میں لانا جائز ہے یا ناجائز؟ کالم نگار کی اس احتجاجی ریلی کے قائدچیئرمین مقامی کلاتھ مارکیٹ بورڈ سے فون پر بات ہوئی ۔ وہ بڑے پرجوش انداز میں بتا رہے تھے ۔ ’’ ہم پچاس برسوں سے کارپوریشن کے قانونی کرایہ دار ہیں۔ اب ہم مالکانہ حقوق لئے بغیر نہیں ٹلیںگے ۔ کئی شہروں میں میونسپل کمیٹیوں کے کرایہ داروں کو مالکانہ حقوق مل چکے ہیں‘‘۔ کالم نگار نے پوچھا ’’کیا آپ اپنی ملکیتی دکان کے پچاس سالہ کرایہ دار کو مالکانہ حقوق دینے کو تیار ہیں ؟ یہ دکانیں شہریوں کی ملکیت ہیں ۔ا ن شہریوںمیں بھوکے ، ننگے ، علاج معالجہ سے محروم، بیمار اور صدقہ زکوٰۃ کے مستحق لو گ بھی شامل ہیں‘‘۔ وہ کالم نگار کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے بولے ۔’’اب ہماری شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم اپنا حق لے کے رہیں گے‘‘۔ کالم کو یہیں تمام کرتے ہیں۔اسلامی نظام کے داعی میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے ایک مرتبہ کالم نگار کو بتایا تھا ۔ اگر میری مارشل لاء لگانے کی کوشش کامیاب رہتی تو میں نے اپنے پہلے حکم میں آنوں ٹکوں کے عوض تمام سرکاری زمینوں اور دکانوں کے قابضین کو بیدخل کر دینا تھا۔ کالم نگار سوچ رہا ہے ۔ معاشرے میں عام لوگوں کی بے شمار محرومیوں کا باعث معاشرے کے یہ مراعات یافتہ لوگ ہیں۔ لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ چھوٹو ڈاکو پر بھی سول کی بجائے فوجی ہی غالب آئے تھے۔(ش س م)

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы