You are here
Home > منتخب کالم نگار > زیادہ نہیں بس اتنی سی بات تھی : وزیراعظم عمران خان اور خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان اختلافات کی حقیقت سامنے آ گئی

زیادہ نہیں بس اتنی سی بات تھی : وزیراعظم عمران خان اور خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان اختلافات کی حقیقت سامنے آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) ایک خبر کے مطابق اپنے ٹی وی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی اُن کے لیے نعمت ہیں اور جب تک زندگی ہے، دونوں ساتھ رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ

نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اُن کی ازدواجی زندگی کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔ وزیراعظم میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جن افواہوں کا حوالہ دے رہے تھے اُن کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان معاملات میں کوئی خرابی پیدا ہو چکی ہے۔ یاد رہے انسان دشمنی میں ابلیس جس کام پرسب سے زیادہ خوش ہوتا ہے اور جس کو وہ اپنا سب سے بڑا کارنامہ گردانتا ہے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا اور گھر اجاڑنا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میاں بیوی کے درمیاں اختلافات کی صورت میں قریبی عزیزوں کے ساتھ ساتھ دوسروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان معاملات طے کروائیں جس کا مقصد شادی کو بچانا ہوتا ہے۔ طلاق وہ عمل ہے جو اگرچہ جائز تو ہے لیکن ناپسندیدہ ترین جانا جاتا ہے۔ لیکن نہیں معلوم کیوں ہم دوسروں کی ذاتی زندگی کی اس حد تک ٹوہ رکھتے ہیں کہ اُن کی شادیوں پر بحث کرتے ہیں اور یہ جھوٹی سچی خبریں میڈیا تک میں چلا دیتے ہیں کہ کس کی شادی خطرے میں ہے، کہاں میاں بیوی کے مابین گڑبڑ ہے، کس کس کی لڑائی ہوئی، کہاں طلاق تک بات جا سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میڈیا میں عمومی طور پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی مشہور شخص ہے تو اُس کی ذاتی زندگی کے بارے میں سب کچھ عوام کے سامنے لانا صحافتی اصولوں کے مطابق جائز ہے اور یہ عوام کا حق ہے کہ وہ ایسے افراد کے بارے میں سب کچھ جان سکیں۔

اسی لیے دنیا بھر کا میڈیا Celebritiesکی ذاتی زندگی کے بارے میں خبریں بھی شائع کرتا ہے اور اس پر تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن میدانِ صحافت میں ایک ایسا بھی طبقہ موجود ہے جو دوسروں کی ذاتی زندگی کے معاملات کو میڈیا کی زینت بنانے کے اصول سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں اِسی اصول کا ماننے والا ہوں اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا دین بھی ہمیں ایسے کام سے روکتا بلکہ اسے گناہ تصور کرتا ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ مغربی میڈیا کی دیکھا دیکھی ہمارا میڈیا بھی مشہور افراد کی ذاتی زندگی کے اُن معاملات پر فوکس کرتا ہے جو خوشگوار نہیں ہوتے اور اس حوالے سے عمران خان وہ سیاستدان ہیں جن کے بارے میں سب سے زیادہ ایسے معاملات پر بات ہوتی ہے۔ ایسی صحافت کے نتیجے میں کئی بار جھوٹی خبریں بھی چلائی جاتی ہیں اور بعض اوقات میڈیا کے کردار کی وجہ سے رشتے نہ صرف خراب ہوتے ہیں بلکہ نوبت شادیاں ٹوٹنے تک بھی جا پہنچتی ہے۔ یعنی میڈیا دراصل رشتوں کے درمیان دڑاریں ڈالنے کا سبب بنتا ہے اور یہ وہی عمل ہے جو شیطان کا پسندیدہ ترین کام ہے۔ عمران خان سے سیاست کے معاملات پر اختلاف کیجئے، اُن کی حکومت کی نااہلی پر ضرور تنقید کریں تاکہ حکومتی معاملات درست انداز میں چل سکیں لیکن یہ خواہش کرنا یا اس ٹوہ میں رہنا کہ کب اُن کی ازدواجی زندگی میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور کب ہم اس سلسلے میں میڈیا پر بریکنگ نیوز دیتے ہیں، نہایت بُری بات ہے۔ عمران خان کیا، ایسا کسی بھی فرد کے حوالے سے نہیں کیا جانا چاہئے۔ مغربی میڈیا کی اندھی تقلید میں ہمیں اُن اسلامی تعلیمات اور اصولوں کو نہیں فراموش کرنا چاہئے جو ہماری معاشرتی زندگی، باہمی تعلق اور رشتوں کی اہمیت اور اُن کے تقدس کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы