You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > پاکستانی معیشت آئی سی یو سےجنرل وارڈ میں آ گئی ، جلد کیا ہونیوالا ہے ؟ صف اول کی خاتون کالم نگار نے پیشگوئی کردی

پاکستانی معیشت آئی سی یو سےجنرل وارڈ میں آ گئی ، جلد کیا ہونیوالا ہے ؟ صف اول کی خاتون کالم نگار نے پیشگوئی کردی

لاہور(ویب ڈیسک)حکومت نے کالا دھن سفید کرنے کا آخری موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 15 اپریل سے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی جائے گی جس کا مقصد ملک میں صنعتی شعبے کو ترقی دینا ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے کا حتمی

معروف خاتون کالم نگارطیبہ ضیاء اپنے کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔۔فیصلہ ہوگیا ہے ، اپنے تمام دوستوں کو برادرانہ مشورہ ہوگا کہ اس کو استعمال کرلیں پھر بعد میں شکوہ نہ کریں، پاکستان میں کوئی بھی ٹیکس نہیں دینا چاہتا، ہم نے آئی سی یو میں لیٹے ہوئے مریض کا علاج کیا اور اسے وارڈ میں لے کر آگئے ہیں۔ پاکستانی معیشت کا بحرانی دور ختم ہوگیا ہے لیکن استحکام ابھی بھی نہیں آیا ، اگلا ڈیڑھ سال معیشت کو مستحکم ہونے میں لگے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اثاثوں کی ڈیکلیریشن کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کرا رہی ہے جس کا مقصد اثاثے ظاہرنہ کرنے والے لوگوں کو ایک موقع فراہم کرنا ہے، جو لوگ اس سکیم سے استفادہ نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اوراپنے اثاثے ظاہر نہ کرے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔۔۔ واہ کیا منطق ہے جبکہ پرویز مشرف کے دور سے ٹیکس ایمنسٹی کی بیماری لگی ہے۔بلکہ این آر او بھی اسی کی پرفارمنس ہے جس میں امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس تک بھی ملوث پائی گئی۔اوراس کے بعد ہر حکومت اس عظیم گناہ کی مرتکب ہؤئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کو بار بار ایمنسٹی مل جاتی ہے۔اور اب تک چار دفعہ ان کو ایمنسٹی کے ایوارڈ مل چکے ہیں۔ان سے کوئی نہیں پوچھتاکہ تم نے یہ پیسے کمائے کیسے ہیں۔ عموماً’’بنک سے قرضے لیتے ہیں بلکہ اور بھی ہزار غیر قانونی طریقے ہیں جن سے یہ کماتے ہیں۔اور باہر بوگس

اکاؤنٹ سے اس طرح بھیجتے ہیں جس طرح اپوزیشن پر الزام ہے اور اس کمپنی کو دیوالیہ بتاتے ہیں جس کے نام پر قرضے لئے ہوتے ہیں۔اس سکینڈل کے سات سو سے زیادہ بوگس اکاؤنٹ بتائے جاتے ہیں۔جو پہلا مجرم ہے قانون کے مطابق وہ بنک کا منیجر ہونا چاہئے۔اس کو نہیں پکڑا جاتا بلکہ سات سو میں سے ایک سیاستدان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور باقی چھ سو ننانوے کو ایمنسٹی سے نوازا جاتا ہے۔اس طرح چار سو سے زیادہ پاناما میں ملوث پائے جاتے ہیں۔لیکن ایک کو اقامہ کے نام پر دھر لیا جاتا ہے باقی کو ایمنسٹی کا انعام ملتا ہے۔جسکا مطلب یہ ہؤا کہ لوٹنے پر جھگڑا نہیں بلکہ اس پر ہے کہ آپ کافی لوٹ چکے۔اپوزیشن اس پر عدالتی کمیشن کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتی کہ الا ماشا اللہ وہ بھی اپنی انگلیاں گھی میںڈبونا چاہتی ہیں۔عمران خان نے چھ دفعہ سے زیادہ کہا ہے کہ وہ ایمنسٹی کسی کو نہیں دیں گے اور اپوزیشن میں جب تھے تب بھی یہی ان کا سلوگن تھا۔پاکستان کی وفاقی حکومت نے ٹیکس نادہندگان کے لئے نئی ’’ٹیکس ایمنسٹی سکیم‘‘رف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے ٹیکس نادہندگان، معمولی ٹیکس کی ادائیگی سے اپنے ملکی اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کر سکیں گے۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اثاثہ جات پر ایمنسٹی سکیم سے صرف کاروباری افراد فائدہ اٹھا سکیں گے اور یہ کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو سکیم پر اعتراض نہیں ہے۔ واضح رہے کہ

تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں کی جانب سے متعارف کروائی گئی ایسی سکیموں کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس سکیم سے منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیاست دان فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔تاہم بے نامی بینک اکاؤنٹس رکھنے والے افراد اس سکیم کے ذریعے اپنے اثاثے ظاہر کر سکیں گے اور انہیں اپنے ذرائع آمدن نہ بتانے کی چھوٹ حاصل ہو گی۔خیال رہے کہ حال ہی میں حکومت نے بے نامی بینک اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کے لئے قانون سازی کے بعد قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے۔حکومت کا اس وقت ٹیکس سکیم لانے کا مقصد ٹیکس آمدن میں کمی کو پورا کرنا ہے۔ماضی میں حکمران جماعت نے نہ صرف ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت کی تھی بلکہ ان کی جانب سے اسے ناکام بنانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔جبکہ ابھی پچھلی ایمنسٹی سکیم کو ایک سال بھی پورا نہیں ہوا ہے اس لئے یہ نئی سکیم لانے کا مناسب وقت نہیں ہے۔جبکہ حکومت سمجھتی ہے کہ ایمنسٹی سکیم کے لئے یہ بہترین وقت ہے، کیونکہ اس وقت حکومت بے نامی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے خاتمے کے قانون پر عمل درآمد کرنے جا رہی ہے۔پاکستان میں حکومتیں ماضی میں بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کرتی رہی ہیں اور پچھلی حکومت کے دور میں تین ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کی گئیں تھیں۔یہ بیماری 1958 میں ایوبی دور سے شروع ہوئی اور پھر ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ایمنسٹی غلط ہے۔خواہ وہ زیادہ فیصد کیوں نہ ہو۔یہ وہ گروپ ہے۔جو سب سے زیادہ ڈاکے ڈالتے ہیں اور پھر ان ڈراموں کی وجہ سے بچ جاتے ہیں۔کبھی تو ان کو سزا ملنی چاہئے۔عمران خان نے ایمنسٹی سکیم پر کہا تھا کہ یہ چوروں اور ڈاکؤں کی چھوٹ ہے اب وہ خود چوروں اور ڈاکوئوں کو کیوں چھوٹ دے رہے ہیں ؟

Leave a Reply

Top