You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو تو شادی کامیاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟

میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو تو شادی کامیاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟

” >

اکثر شادی کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھی جاتی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان عمر کا کتنا فرق ہے۔ ہمارے ہاں یہ رواج بہت تیزی سے مقبولیت پاچکا ہے کہ عورت کی عمر مرد سے کم از کم پانچ سال کم ہونی چاہیے ورنہ شادی کامیاب نہیں ہوتی.

لیکن حال ہی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر عورت اور مرد کے درمیان عمر کا فرق بڑھتا جائے تو ان کے درمیان طلاق ہونے کی شرح بھی بڑھتی جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ مرد کی عمر زیادہ ہواور عورت کی عمر کم تب ہی شادی کامیاب ہو گی بلکہ اگر دونوں کی عمر برابر یا انتہائی تھوڑا فرق ہو تب بھی شادی کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ تحقیق میں 3,000شادی شدہ اور طلاق یافتہ جوڑوں کو شامل کیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ اگر عورت اور مرد کے درمیان عمر کا فرق ایک سال(مرد عورت سے ایک سال بڑا یا چھوٹاہوسکتا ہے)ہو تو ان میں طلاق ہونے کا تین فیصد چانس موجود ہے،اگر دونوں کے درمیان عمر کا فرق پانچ سال تک ہو تو طلاق ہونے کا امکان 18فیصد ہو جاتا ہے لیکن اگر یہی فرق 10سال پر چلا جائے تو39فیصد امکان ہے کہ ایسے جوڑوں میں طلاق ہوجائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر شادی جس میں عمر کا فرق زیادہ ہو کا برا انجام ہو لیکن بہتر ہے شادی کرتے ہوئے عمر کا خیال رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ یہ فرق کم سے کم ہو۔ اگر آپ اپنی شادی سے خوش ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس کا فائدہ زندگی بھر ہوتا ہے۔ شدہ افراد جو اپنے رشتے سے بہت خوش ہوتے ہیں، ان میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے، خصوصاً ایسے لوگوں کے مقابلے میں، جو اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش نہ ہو۔ شادی کے متعدد طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں یعنی صحت مند دل سے لے کر جسمانی وزن میں کمی تک۔اس تحقیق کے دوران 19 ہزار سے زائد شادی شدہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جن سے 1978 اور 2010 کے دوران شادی سے خوشی اور معیار کے بارے میں مختلف سوالات پوچھے گئے تھے۔جن لوگوں نے شادی کو انتہائی خوش باش قرار دیا ہے یا اس سے کافی حد تک خوش ہیں، تو ان میں کسی بھی وجہ سے جلد موت کا خطرہ 20 فیصد کم پایا گیا۔کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ شادی کے بعد اچھا تعلق متعدد طریقوں سے صحت میں بہتری کا باعث بنتا ہے، خصوصاً شریک حیات ایک دوسرے میں صحت مند عادات کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اسی طرح خوش باش شادی کا تعلق نفسیاتی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے جو کہ جسم کے لیے فائدہ پہنچاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور شادی کے بعد شریک حیات سے مضبوط تعلق سے ذہنی صحت کے ساتھ جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شدہ افراد جو اپنے رشتے سے بہت خوش ہوتے ہیں اورشریک حیات سے ملنے والا سماجی تعاون بھی صحت کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے اور زندگی میں تناﺅ مسئلہ نہیں بن پاتا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы