You are here
Home > خبریں > پاکستان > اگر عمران خان ناکام ہو گیا تو کیا ہو گا ۔۔۔۔ کپتان کی راہ میں روڑے اٹکانے والے سرکاری و غیر سرکاری اور اسد عمر سمیت سیاسی و غیر سیاسی لوگ یہ خبر ضرور پڑھیں

اگر عمران خان ناکام ہو گیا تو کیا ہو گا ۔۔۔۔ کپتان کی راہ میں روڑے اٹکانے والے سرکاری و غیر سرکاری اور اسد عمر سمیت سیاسی و غیر سیاسی لوگ یہ خبر ضرور پڑھیں

لاہور (ویب ڈیسک) ضد اور خوش گمانی کا معاملہ الگ ہے ورنہ دیوار پہ لکھا نظر آ رہا ہے کہ کارِ حکومت احباب کے بس کی بات نہیں۔ ہاں، کوہ ہمالیہ سونا بن جائے اور سمندر کا پانی پٹرول میں تبدیل ہو جائے تو الگ بات ہے۔ سوال اب سیاست کا نہیں، بقاء کا ہے۔

نامور کالم نگار آصف محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ اس حکومت کی ناکامی سماج کی نفسیات پر کیا اثر ڈالے گی؟ حکومت کی ناکامی اب مزید کسی دلیل کی محتاج نہیں۔ لوگ اب تک زندہ ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ رازق اور مالک اللہ کی ذات ہے ورنہ ا س حکومت نے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ مسائل اور بحران کوئی نئی بات نہیں، قوموں کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت کا مسئلہ بھی اس کو درپیش بحران نہیں، بصیرت اور صلاحیت ہو تو بحرانوں پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ حکومت کا اصل بحران اس کا رویہ ہے۔ اس غیر سنجیدگی، اس کھلنڈرے پن، اس غیر ذمہ داری، اس لا ابالی اور اس بے حسی کے ساتھ تو گھر نہیں چلتے، ملک کیسے چل سکتے ہیں۔ بعض دوستوں کا اصرار ہے محض سات ماہ میں کسی حکومت کے بارے میں رائے قائم کرلینا مناسب نہیں ہے۔ہمیں کچھ انتظار کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کس بات کا انتظار؟ کیا کوئی ایک پالیسی ایسی بتائی جا سکتی ہے جس کے بارے یہ گمان کیا جا سکے کہ دو تین یا چار سالوں کی بعد اس کے نتیجے میں حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے؟ کوئی سمت ہے نہ کوئی پالیسی۔ اقوال زریں تھے جو اب دھیرے دھیرے مجموعہ لطائف بنتے جا رہے ہیں۔ حکمران کے پاس ویژن ہو تو قوم اس کے بروئے کار آنے تک انتظار کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسد عمر کے پاس کون سی ایسی چیز ہے جس پر ویژن کی تہمت دھری جا سکے۔

یہی کہ رمضان آتا ہے تو لوگ کیلے اور امرود لے لیتے ہیں تا کہ فروٹ چاٹ بنا سکیں اور یوں مہنگائی ہو جاتی ہے؟ اقتدار میں آئے تو مہنگائی کا طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیا گیا۔ اس وقت ارشاد ہوا ہم چونکہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جا رہے اس لیے مہنگائی ہو رہی ہے۔ اور اب جب مہنگائی لوگوں کی جان کو آ چکی ہے تو بارگاہ اقتدار سے منادی ہوتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جاناناگزیر ہو چکا ہے۔ دوست ممالک سے کچھ رقم ملی تو دو مرتبہ اسد عمر اور ایک بار خود عمران خان نے کہا اب پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہی۔اپنی کہی کسی بات کا تو پاس رکھا ہوتا؟ اب تو یہ گمان بھی شاید گناہ کے دائرے میں آئے گا کہ اس حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی ہے۔ سرمائے کی اپنی نفسیات ہوتی۔ خوف اور سرمایہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس حکومت کے بانکوں نے پکڑ لیں گے اور چھوڑیں گے نہیں کی قوالی یوں گائی کہ سرمایہ دار ڈر کر بھاگ گیا، اب صرف ہمنوا باقی ہیں اور قوال۔ قوال حیران ہے اور ہمنوا پریشان۔ سامعین کی جان پر بنی ہے، کسی کا اب نچنے نوں دل نہیں کردا۔پہلے احتساب کا غلغلہ بلند کر کے سرمائے کو یہاں سے بھگا دیا، اب ہوش آئی ہے تو اسی سرمائے کو واپس لانے کے لیے ایمنسٹی سکیم لائی جا رہی ہے۔ وہی ایمنسٹی جو ماضی میں دوسرے دیتے تھے تو گناہ ہوا کرتا تھا۔ سوال وہی ہے : معاشی پالیسی کہاں ہے؟ کس بات کا انتظار کیا جائے؟

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы