You are here
Home > شوبز > پاکستان کے پڑھے لکھے متوسط طبقے کی لڑکیاں زندگی کے مزے لینے اور انجوائے کرنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ۔۔۔۔ لندن میں مقیم پاکستانی خاتون کی انکشافات پر مبنی تحریر

پاکستان کے پڑھے لکھے متوسط طبقے کی لڑکیاں زندگی کے مزے لینے اور انجوائے کرنے کے لیے جسم فروشی پر مجبور ۔۔۔۔ لندن میں مقیم پاکستانی خاتون کی انکشافات پر مبنی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ازل سے ابد تک انسانوں کے رہنےکی جگہ چار دیواری اور اس پر چھت ڈال کر، دروازے لگا کر محفوظ پناہ گاہ کا تصور انسانوں کیلئے ایک گو نا سکون و اطمینان کا احساس دلاتا ہے۔ اسی سکون کی جگہ کو گھر، سویٹ ہوم ،نشیمن، مسکن، آشیانہ، آرام گاہ اور گھونسلہ و جھونپڑی بھی کہا جاتا ہے۔

لندن میں مقیم نامور خاتون صحافی رخسانہ رخشی اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں گھرانوں میں سکون کی جگہ بد سکونی ہو جائے تو گھر کاہر فرد تڑپ اٹھتا ہے پورے کا پورا گھر بے سکونی کا شکارہو جاتا ہے اور تو اور گھر کے درو دیوار سےدرد و رنج چھلکنے لگتا ہے۔ گھر جیسی جگہ پر گھر کے کسی فرد کی وجہ سے بے سکونی ہو جائے تو یہ ہی نشیمن پھر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں بے سکونی کی آگ انہیں جلا کر خاک کردیتی ہے۔ دعا ہے کہ کبھی کسی کا سکون تباہ نہ ہو۔خدا نے انسانوں کو اشرف المخلوقات اسی لئے پیدا کیا کہ وہ واقعی عظیم مرتبے پر فائز رہے مگر انسان خود اپنی عظمت کی پہچان نہیں رکھتا اوربعض مقام ایسے آتے ہیں جب وہ اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔ انسان ہونے کے مدارج سے وہ نہ صرف گرتا ہے بلکہ ذلت کی پستیوں میں ایساگرتا ہے کہ اسے خود احساس نہیں ہوتا کہ وہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے۔ ’’نشہ‘‘ ایک لفظ ہے کہ جو کہنے سننے میں برا نہیں لگتا۔ مگر ہر دور میں اس نشے نے ماحول و معاشرے میں خرابیاں ہی پیدا کی ہیں۔ معاشرتی و گھریلو تباہی کا ذمہ دار نشے کو قرار دیا جاسکتا ہے۔’’نشہ‘‘ مستی، خمار اور سرور کا دوسرا نام ہے۔ یہ نشہ ، خمار، سرور ظاہر ہے نشے والی اشیا استعمال کرنے سے آتا ہے۔ نشہ اگر اپنی کامیابی کا ہو تو انسان کو مسرور رکھتا ہے یا پھرنیک مقاصد ہوں، خدمت خلق ہو اور اس سے متعلق دیگر اہم کام ہوں

تو سرور اچھا لگتا ہے مگر اب ان جذبہ خلق خدمت کا صرف تصور ہی رہ گیا انسانوں میں ان سب کا فقدان ہے۔ نہایت افسوس ہے اس بات کا کہ ہر طرف اسی قسم کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ پہلے تو کسی سے سنا کرتے تھے اب تو جس طرف بھی دیکھو تو آنکھوں دیکھا حال ہے کہ جس کودیکھو وہ نشے کا عادی ہے۔ اپنا نشیمن اپنے ہاتھوں تباہ کرنے والے کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتے کہ ہماری ان حرکات سے پورے کا پورا نشیمن جل جائے گا۔ پچھلے اور حالیہ دنوں میں دو خبریں مشہور ہوئیں اور دونوں ہی خواتین سے متعلق تھیں کہ دونوں آئس کا نشہ کرتی تھیں۔ حال ہی کی خبر یہ کہ ایک ماڈلنگ کا شوق رکھنے والی بچی اقراء کراچی سے لاہور آئی جہاں اس کے رابطے تین افراد سے تھے جب وہ لاہور آئی تو انہی افراد کے ساتھ آئس کا نشہ کررہی تھی کہ طبیعت بگڑ گئی اور یہی تینوں افراد اقراء سعید کو ہسپتال چھوڑ کر فرارہوگئے اور نتیجہ یہ کہ بچی کی موت ہوگئی۔دوسری خبر بھی پچھلے ہی دنوں گردش کرتی رہی کہ شوہر نے بیوی کو خوب مارا اس کے سرکے بال مونڈھ کر گنجا کرنے کےعلاوہ اس کے منہ اور جسم پر جگہ جگہ اذیت کے نشان تھے اور اس کی بھی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ دونوں خواتین کے حالات کا انداز بھلے ہی مختلف تھا مگر نشے سے متعلق یہی خبر تھی کہ دونوں آئس کا نشہ کرتی تھیں میں ذاتی طور پر عورت کی اتنی ذلت اور ڈوبتی زندگی پر بہت دکھی ہو جاتی ہوں کہ

عورت اس کائنات کی اہم ضرورت ہے ہر رشتے میں مگر جب وہ معاشرے کے افراد کے ہاتھوں میں آکرذلت اٹھاتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بھی توڑ دیا جاتا ہے ماڈلنگ کا شوق رکھنے والی بچی اقراء سعید اپنے شوق میں مختلف نشوں سےگزرتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ اس فیلڈ میں آنے کیلئے کیسے کیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ غلط ہاتھوں میں بچیاں پہنچ جاتی ہیں۔ پھر وہ بچیاں جن کے خاندان کا اتہ پتہ نا ہو تو وحشی لوگ اسے بے یارو مدد گار جان کر اس سے درندگی کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ان نشو ں نے ملک و قوم معاشرہ و نشیمن جلاکر خاک کردیئے کیسے کیسے اچھے گھرانے کے چشم و چراغ معصومیت میں، شوق میں غم میں ، ناکامی میں یا پھر ڈپریشن کی وجہ سے اس کے عادی ہو جاتے ہیں ان کی اپنی ایک الگ سی دنیا بن جاتی ہے۔ ایک سروے کے مطاق دنیا بھر میں بیس کروڑ جبکہ پاکستان میں 80لاکھ سے زائد افراد ان نشوں کے عادی ہیں۔ نشے کی وجہ سے ہر سال دنیا میں پچاس لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے کونے کونے میں یہ زہر پھیلتا جارہا ہے ملک کی25فیصد آبادی دیہات سے اس کا شکار ہے اور تقریباً38سے 40فیصد تک شہری آبادی منشیات کاشکار ہے۔ دکھ کی بات یہ کہ 14سال سے 18سال تک کی نوجوان نسل اس کا شکار ہے۔ حیرت یہ بھی ہے کہ گھر کی زینت

اور گھر کی رونقیں یعنی خواتین اس کا زیادہ شکار ہو رہی ہیں۔ امراء نے اپنے جینے کے لوازمات میں نشے کو اپنے لئے لازم کرلیا ہے۔ مختلف قسم کے نشے معاشرے میں ناسور بن کر پھیل رہے ہیں۔ انہی میں ایک نیا قسم کا نشہ ’’آئس‘‘ بھی ہے جسے مختصر طور پر ’’میتھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ نوجوان نسل ہیروئن کے بعد اس نشے کی عادی ہوتی جارہی ہے۔ مختلف کیمیکلز سے تیار ہوئے نشے نہایت مہنگے ہوچکے ہیں کراچی، اسلام آباد ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، ملتان وغیرہ میں یہ نشے نہایت مہنگےہیں اور تعلیمی اداروں میں پھیلائے جارہے ہیں۔ آئس کے نشے کا شکار بھی50 فیصد نوجوان لڑکیاں ہیں جو خصوصی طور پر پارٹی میں شریک ہو تی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں نشے کیلئے جسم فروشی تک آمادہ ہو جاتی ہیں۔ ملک کے پڑھے لکھے لوگوں کی بچیاں کس تباہی کی طرف جارہی ہیں۔ نشے کی لت میں پڑی حوا کی یہ بیٹیاں کیسے اپنی نسل چلاپائیں گی۔ انہیں صرف نشے کی ضرورت ہے وہ گھر بار سے بے گانہ ہو جائیں گی۔ انہیں خوشی اور غم کا کوئی احساس نہ رہے گا۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے یہ سوچ کرکہ اسلام سے خاص رغبت رکھنے والی قوم کی بیٹیوں کی یہ حالت ہو۔ ہمارے ملک میں آج کل دکھائی تو کوئی بہتری نہیں دے رہی مگر اس قدر تباہی بھی خدا نہ کرے کہ بیٹیاں اس کا شکار ہو کر خاندان ہی تباہ کردیں۔ خود کو تباہ کرنا اپنے شوق کی وجہ سے کہاں کی دانش مندی ہے۔ اپنا نشیمن اپنے ہی ہاتھوں تباہ۔

Leave a Reply

Top