You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > ڈرگز کا بےتاج بادشاہ “حنیف عباسی” اور لاہور ہائی کورٹ کے جج

ڈرگز کا بےتاج بادشاہ “حنیف عباسی” اور لاہور ہائی کورٹ کے جج

” >

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا غلغلا بلند ہونے سے پہلے امریکہ اور یورپ کے ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا تھا۔ 90ءکی دہائی میں امریکہ پاکستان پر الزام لگاتا تھاکہ یہاں سے ہیروئن اور دوسری منشیات امریکہ اور یورپ میں سمگل ہوتی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے 90 ء

کی دہائی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں منشیات کے بعض سمگلر موجود ہیں۔ اس سے قبل 80ءکی دہائی میں تو بعض اعلیٰ اور حساس عہدوں پر فائز سرکاری اہلکاروں پر بھی منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام لگائے جاتے رہے ہیں. لیکن ان الزامات کو تقویت تب ملی جب آسٹریلیا میں ممنوعہ ادویات فروخت کرنے والا ایک ریکٹ پکڑا گیا اس ریکٹ سے بھاری مقدار میں ایفی ڈرین برآمد ہوئی۔ تحقیقات ہوئیں تو پتا چلا یہ ایفی ڈرین پاکستان سے سمگل ہو کر آسٹریلیا آئی تھی۔ آسٹریلیا نے پاکستان کو تحریر طور پر مطلع کردیا۔ یہ فائل پاکستان کے دفتری نظام میں چلنا شروع ہو گئی اور چلتے چلتے اینٹی نارکوٹکس کے پاس پہنچ گئی۔ اے این ایف نے روٹین کے مطابق کارروائی شروع کردی۔ کارروائی کے دوران جب تفتیش ہوئی تو پتا چلااینٹی نارکوٹکس نے وزارت صحت کی طرف سے بڑے پیمانے پرایفی ڈرین کے کوٹے جاری کئے گئے اس ڈرگ کے استعمال کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مخدوم شہاب الدین اور مخدوم موسیٰ گیلانی نے 9,000 کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ کچھ کمپنیوں کو لے کر دیا۔ اے این ایف کی تحقیقات کے مطابق اس کوٹہ سے ادویات بہت محدود پیمانے پر بنائی گئی ہیں البتہ ہزاروں کلوگرام اس کوٹہ کو بیرون ملک سمگل کیا گیا ہے یا پھر اسے نشہ آور اشیاءاور جنسی قوت میں اضافہ کرنے کیلئے ادویات میں استعمال کے لئے دیا گیا ہے اور اس طرح اربوں روپے کمائے گئے ہیں۔

ایفی ڈرین سے ایک اور نشہ آور کیپسول Ecastacy یعنی ”لذت“ بھی تیار ہوتا ہے۔ ایفی ڈرین ایک ایسا کیمیکل ہے جو مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں ایفیڈرین مختلف پودوں سے اخذ کیا جاتا ہے۔ کیمیا دانوں کے مطابق قدیم زمانے میں ایفی ڈرین چینی جڑی بوٹی ایفی ڈرینکا سے اخذ کیا جاتا تھا۔ یہ کیمیکل عمل سے مصنوعی طور پر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ پرانے دور میں ایفی ڈرین پودوں سے حاصل کیا جاتا تھا لیکن جدید دور میں ایفیڈرین کو کیمیائی عمل Synthetic طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ ایفی ڈرین کو وزن کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ چربی کو کم کرتا ہے۔ یہ کیمیکل دمہ کے مریض بھی استعمال کرتے ہیں، اسے نشہ آور ادویات میں بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عموماً کھانسی کے شربت میں استعمال ہوتا ہے لیکن اس کیمیکل کو اگر ہیروئن میں ملا دیا جائے تو اس کے اثرات میں ۱۰ گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایفی ڈرین سے ایسی گولیاں بھی بنائی جاتی ہیں جنھیں نوجوان لڑکے لڑکیاں پارٹیوں کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ یہ گولیاں انہیں ’’ایکٹو‘‘ کر دیتی اور یہ تھکے بغیر گھنٹوں ناچتے رہتے ہیں۔ یہ گولیاں ’’موڈ ایلی ویٹر‘‘ بھی کہلاتی ہیں۔ یہ نوجوانوں کا موڈ خوشگوار بنا دیتی ہیں۔ اور یہ وقتی لحاظ سے دنیا جہاں کے دکھوں سے آزاد ہو جاتے ہیں لیکن اس خوشگوار اثر کے ساتھ ساتھ یہ گولیاں ’’لت‘‘ بھی ہیں۔ آپ اگر انہیں ایک دو مرتبہ استعمال کر لیں تو

آپ ان کے مستقل عادی ہو جاتے ہیں چنانچہ یورپ، امریکا اور مشرق بعید سمیت دنیا کے 90 فیصد ممالک میں ان گولیوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی ہے۔ ان گولیوں کا بنیادی مرکب ایفی ڈرین ہے لہٰذا پوری دنیا میں ایفی ڈرین کی کھلی تیاری اور فروخت پر پابندی ہے اور یہ صرف حکومتی لائسنس کے ذریعے محدود پیمانے پر حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں وزارتِ صحت ادویات ساز کمپنیوں کو ایفی ڈرین کا کوٹہ جاری کرتی ہے۔ اس کوٹے کی حد 500 کلوگرام ہے۔ اب اگر کوٹے کی حد 500 کلو گرام ہے تو 9 ہزار کلو گرام کا کوٹہ کیسے دیا گیا یہ راکٹ سائنس سمجھانے کے لیے میں اپ کو آٹھ سال پیچھے پیپلز پارٹی کی حکومت میں لیکر چلتی ہوں….. ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۱ء میں ملتان کی ایک فارماسوٹیکل کمپنی برلیک اور اسلام آباد کی دواساز کمپنی ڈاناس فارما نے سیکرٹری صحت سے رابطہ کیا۔ سیکرٹری کو عراق کی ایک کمپنی کا آرڈر دکھایا گیا اور اس آرڈر کی بنیاد پر وزارت صحت سے درخواست کی ’’ہم نے بھاری مقدار میں ایفی ڈرین گولیاں بنا کر عراق ایکسپورٹ کرنی ہیں۔ اس ایکسپورٹ سے ملک کو اتنے ملین ڈالر کا فائدہ ہو گا، چنانچہ ہمیں ۱۰ ہزار کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ الاٹ کیا جائے۔ اس درخواست کے ساتھ ہی توقیر علی خان نام کا ایک شخص سیکرٹری صحت (اس وقت) خوشنود لاشاری کے پاس پہنچ گیا۔ توقیر علی خان بعدازاں وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کا سیکرٹری نکلا۔ توقیر علی خان نے سیکرٹری

صحت پر دبائو ڈالا۔ خوشنود صاحب وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری بننا چاہتے تھے۔ یہ توقیر علی خان کے دبائو میں آگئے اور انہوں نے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر رشید جمعہ کو لائسنس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ رشیدجمعہ کا کنٹریکٹ ختم ہو رہا تھا، یہ کنٹریکٹ میں توسیع چاہتے تھے۔ انہیں توسیع کا لالچ دے دیا گیا۔ یہ لالچ میں آگئے اور انہوں نے دونوں کمپنیز کو 9 ہزارکلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ دے دیا۔ یہ پوری لوکل مارکیٹ کی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا۔ یہ کوٹہ ملتے ہی دونوں کمپنیوں نے وزارت سے دوبارہ رابطہ کیا اور وزارت کو اطلاع دی کہ عراق کی کمپنی نے آرڈر منسوخ کر دیے ہیں۔ ہم اب گولیاں ایکسپورٹ نہیں کر سکتے چنانچہ ہمیں یہ لوکل مارکیٹ میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ یہ قانون کی دوسری خلاف ورزی تھی لیکن کیونکہ موسیٰ گیلانی کا سیکرٹری فائل کے ساتھ ساتھ تھا چنانچہ ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہیلتھ نے دونوں کمپنیوں کو یہ کوٹہ ملک میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ کمپنیوں نے چند ہفتے بعد وزارت کو اطلاع دی ہم نے ۹؍ہزار کلوگرام ایفی ڈرین کی گولیاں بنا کر مارکیٹ میں فروخت کر دی ہیں۔ وزارت نے کمپنیوں کا یہ سرٹیفکیٹ قبول کر لیا۔ اس دوران کسی نے ان کمپنیوں سے نہیں پوچھا ملک میں ہر سال ایفی ڈرین کی صرف 10 ہزار گولیاں بنتی ہیں لیکن تم نے ڈیڑھ دو ارب گولیاں بنا کر مارکیٹ میں فروخت کر دیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ اور یہ گولیاں کہاں استعمال

ہوئیں لیکن کیونکہ فائل کے پیچھے موسیٰ گیلانی کا سیکرٹری تھا، لہذا کون ہوچھ سکتا تھا۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق ایف آئی آے نے جب ان دو کمپنیز کی تحقیقات کی تو ملتان کی برلیک کمپنی نے ستر اسی کروڑ گولیاں بنانے کا دعویٰ کیا تھا اس کا اس ماہ کا بجلی کا بل صرف 14 ہزار روپے تھا۔ اس کا مطلب تھا اس کارخانے میں سرے سے کوئی کام ہی نہیں ہوا۔ اسلام آباد کی کمپنی ڈاناس فارما کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔ اے این ایف نے تحقیقات کا دائرہ بڑھایا تو یہ بہت جلد توقیر علی خان، خوشنود لاشاری ڈاکٹر رشید جمعہ اور موسیٰ گیلانی تک پہنچ گئی۔ خوشنود لاشاری اس وقت تک وزیراعظم گیلانی کے پرنسپل سیکرٹری بن چکے تھے۔تحقیقات کے دوران وزارت کے کچھ افسروں نے تمام دستاویزات اور ثبوت اے این ایف کے حوالے کردیے اور کیس کھل گیا۔ اس دوران وزیراعظم پرنسپل سیکرٹری اور موسیٰ گیلانی کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا۔ لیکن اس اندازے سے قبل اینٹی نارکوٹکس کے سیکرٹری سہیل احمد نے اے این ایف کو موسیٰ گیلانی اور خوشنودلاشاری کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ وزیراعظم گیلانی نے فوری طور پر سہیل احمد کا تبادلہ کردیا۔ چودھری برادران اس نازک وقت میں وزیراعظم کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ ان کے کزن چودھری تجمل حسین کے داماد ظفرعباس لک 20 ویں گریڈکے افسر تھے۔ چودھری برادران نے ان کی خدمات وزیراعظم کو پیش کر دیں۔ وزیراعظم نے انہیں اینٹی نارکوٹکس کی وزارت کا قائم مقام

انچارج بنا دیا۔ وزیراعظم نے اینٹی نارکوٹکس ایکٹ میں تبدیلی کر کے اے این ایف کے تمام اختیارات سیکرٹری کو سونپ دیے۔ وزیراعظم گیلانی اور انچارج سیکرٹری نے اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل شکیل حسین اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بریگیڈیئر فہیم کی خدمات فوج کو واپس کر دیں یوں یہ معاملہ اور تمام اختیارات ظفر عباس کے پاس آگئے۔ ایف آئی اے کے افسر نے دونوں سے دو دو کروڑ روپے لیے اور ان کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن اے این ایف کی تحقیقات میں یہ کمپنیاں اور دیگر لوگ ملزم ثابت ہو گئے۔ چنانچہ اے این ایف نے ملزموں کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔ ملزم اس حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس دوبارہ وزارت کے پاس بھجوایا۔ وزارت اس وقت تک ظفرعباس لک کے ہاتھ میں آچکی تھی چنانچہ سیکرٹری نے اس کیس کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا۔ اے این ایف کے ڈی جی میجرجنرل شکیل حسین اپنے سیکرٹری کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چلے گئے اور یوں یہ کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا اور وہاں پہنچ کر ساری کہانی کھل گئی۔ حکومت نے اس دوران ڈی جی اے این ایف میجر جنرل شکیل اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بریگیڈیئر فہیم کو عہدوں سے ہٹا دیا لیکن سپریم کورٹ نے 10 اپریل کو موسیٰ گیلانی اور خوشنودلاشاری کو نوٹس جاری کرنے اور تحقیقاتی ٹیم اور بریگیڈیئر فہیم کو واپس بحال کرنے کا حکم دے دیا اور یوں ایک

بار پھر سپریم کورٹ اور وزیراعظم آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ April 21, 2017 ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسی گیلانی سمیت گیارہ ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی موسی گیلانی نے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا اس مقدمے میں کچھ ملزمان ضمانتوں پر ہیں جبکہ باقی جعلی کمپنیز کے نام پر کوٹہ لینے والے بھی اس وقت شکنجے میں ہیں موسی گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پہ ناجائز کوٹے کا کیس ہے۔ مخدوم شہاب الدین کو ایفیڈرین کیس اس وقت لے بیٹھا جب وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجے جانے کے بعد وزارت عظمیٰ کے لئے پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کے امیدوار نامزد ہو چکے تھے اور اپنے دوستوں اورعزیزوں سے مبارکبادیں بھی وصول کرچکے تھے کہ اے این ایف نے ایفی ڈرین کیس میں ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے۔ ادھر مخدوم صاحب وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے نامزد ہوئے اور ادھر ٹی وی چینلز نے یہ خبر بریک کر دی اے این ایف نے عدالت سے مخدوم شہاب الدین کے وارنٹ گرفتاری جاری کرا دیئے ہیں، جس کے بعد صدر زرداری اور ان کے ساتھیوں نے فوری طور پر مخدوم صاحب کو پیچھے کرکے راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کے لئے نامزد کر دیا تھا۔ یہ انتہائی نوعیت کا کیس ہے جس میں 7 سے 21 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ اس سے ٹنوں کے حساب سے ہیروئن بھی بنی تھی اور اربوں کی تعداد میں نشہ آور گولیاں

بھی اور یہ سارا مواد آسٹریلیا اور یورپ میں فروخت ہوا۔ اب آتے ہیں کے اس کیس میں حنیف عباسی کیسے داخل ہوا..؟؟ سیکرٹری ہیلتھ نے جب یہ کوٹہ جاری کیا تو راولپنڈی سے پاکستان مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے ایک ایم این اے سیکرٹری خوشنودلاشاری کے پاس گئے۔ انہیں لائسنس کی کاپی دکھائی اور دھمکی دی کہ میں یہ مسئلہ میڈیا میں اٹھائوں گا۔ شنودلاشاری گھبرا گئے چنانچہ انہوں نے اس ایم این اے کو بھی ایفی ڈرین کا کوٹہ دے دیا۔ اس ایم این اے یعنی حنیف عباسی کی انڈسٹریل ایریا روات میں واقع ’’گریس فارما سیوٹیکل‘‘ کمپنی تھی چنانچہ اس نے دھمکا کے ایفی ڈرین کا 500 سو کلو گرام کا کوٹہ الاٹ کروا لیا اس کا ناجائز استعمال کیا بعد ازاں مطلوبہ دوا تیار کرنے کی بجائے صرف نمونے (سیمپل) بنائے اور جعلی سیل ریکارڈ تیار کیا اور ایفی ڈرین کی باقی مقدار منشیات سمگلروں کو فروخت کر دیی اور ناجائز دولت اکھٹی کرنے کا ذریعہ بنایا جبکہ وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق کمپنی انتظامیہ ایفی ڈرین کوٹہ کے استعمال ، خریدوفروخت اور دوا سازی میں استعمال کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی پابند ہے تاہم کمپنی انتظامیہ اس حوالے سے تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ اس 32لاکھ روپے مالیت کے ایفی ڈرین کوٹہ میں حنیف عباسی کی کمپنی گریس فارما سوٹیکل کی بزنس پارٹنر و ’’ڈی واٹسن‘‘ کے مالک زاہد بختاوری کی اہلیہ مسماة رضیہ بختاوری تھی اس کی جانب سے ادا شدہ 16لاکھ روپے مالیت کے پے آرڈر، کے ثبوت عدالت کو پیش بھی کئیے گئے۔ ایفی ڈرین کیس میں گریس فارما کے مالک حنیف عباسی ،ان کے بھائی وحماس فارما کے مالک باسط عباسی ،چچا زاد بھائی وفیکٹری منیجر سراج احمد عباسی،برادر نسبتی ومارکیٹنگ منیجررانا محسن خورشید،پروڈکشن منیجرغضنفر علی، کوالٹی کنٹرول منیجر ناصر خان ،اے بی فارماسیوٹیکل کے مالک احمد بلال اور نزاکت خان اس کیس میں نامزد ملزم تھے اس کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید ہو چکی ہے۔ جبکہ ان کے بھائی سمیت ان کی کمپنی کے دوسرے افراد کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا گیا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы