You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > ناکام محبتوں کے بوجھ تلے دبے نوجوان، انا کے گھوڑے پر بیٹھے کس منزل کی جانب گامزان ہے؟ نسل انسانی کی حقیقت پر مبنی معاشرے کی عکاسی کرتی رواداد

ناکام محبتوں کے بوجھ تلے دبے نوجوان، انا کے گھوڑے پر بیٹھے کس منزل کی جانب گامزان ہے؟ نسل انسانی کی حقیقت پر مبنی معاشرے کی عکاسی کرتی رواداد

” >

نسل انسانی نے بالآخر بلیک ہول یا اس کی ابدی ذات میں دائمی طور پر ڈوبتی روشنی کی آخری جھلک تصویری پردے پر محفوظ کر لی ہے۔ کائنات کی تسخیر سے پہلے اس کی تفہیم ضروری ہے اور یہ اس سمت ایک بہت بڑا قدم ہے۔ سائنسدان ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں

کے تحت ہمیں سمجھاتے رہتے ہیں کہ بلیک ہول کے اندر ایک دوام کی سی سرد کیفیت پائی جاتی ہے جہاں وقت خود زنجیروں میں جکڑا قیدی بن جاتا ہے اور روشنی جیسا سبک رفتار غزال بھی اپنی چوکڑیاں بھول جاتا ہے۔ البتہ اگر انسان کسی طور اس تاریک غار کے دہانے پر پہنچ جائے تو وہ کائنات کے دوسرے سرے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جہاں ایک نیا جہان حیرت اس کا منتظر ہو گا۔ انسان اپنی انفرادی اور عمرانی فطرت سے تو ازل سے شناسا رہا ہے تاہم کائناتی فطرت کی جانب اس کا باضابطہ سفر جدید سائنسی ترقی سے شروع ہوا ہے۔ اس نئے سفر میں کہیں اس کے اعلی دماغ کائنات کی بنیادی اکائی تلاش کرنے میں الجھے ہوئے ہیں تو کہیں وہ خلا کی تاریکیوں میں جھانک کر اس کی ہیبت ناک سچائیوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ سفر جاری ہے اور روز بروز اس کی رفتار میں تیزی آ رہی ہے۔ اس سے قبل انسان ہمیشہ اپنی داخلی کائنات کی بے کراں وسعتوں میں بھٹکتا رہا ہے۔ آباد بستیوں سے دور، کسی سنسان گپھا میں بیٹھے صوفی پر بیتنے والی واردات قلبی ہو یا لفظ کے کاسے میں ڈالی کسی شاعر کے بلند آہنگ نالوں کی خیرات ہو یا پھر محبتوں کے دشت و صحرا میں وصل کے نخلستان تلاشتا عاشق خستہ حال ہو، ازل سے ہی انسان محبت کے بلیک ہول سے گزرتا آیا ہے۔ اس پرپیچ سفر کے دوران اس کی ذات کے پرزے ضرور اڑتے ہیں، اس بےجہت غار

میں اس کے وجود کا ایک ایک ریشہ الگ ہو جاتا ہے۔ اس کی آہ و زاری بھی تاریک دیواروں سے ٹکرا کر کسی چڑیل کی ہذیانی چیخوں میں بدل جاتی ہے۔ اس تاریک غار سے امید کی کوئی بھی کرن باہر نہیں نکل پاتی اور نہ ہی اس کی فریاد کسی کان تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ باریک ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا یہ بے بس اور لاچار عاشق جب بلیک ہول کے دوسرے سرے تک پہنچتا ہے تو ایک نئی کائنات اس کی منتظر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کربناک سفر کے دوران اس کے انگ انگ میں دکھوں کے انگارے دہک رہے ہوتے ہیں لیکن اس کی فطرت کے سب اتار چڑھاؤ ہموار ہو جاتے ہیں۔ اس کے سوچنے کا انداز، دیکھنے کا زاویہ اور محسوس کرنے کی جبلت، سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ اسے یہ عرفان بھی حاصل ہو جاتا ہے کہ محبت کے نصیب میں ازل سے ناکامی لکھ دی گئی ہے۔ گوہر مقصود تک رسائی سے محرومی تو خیر ناکامی محبت کا ابدی عنصر ہے لیکن محبوب کے حصول میں کامیابی اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ وصل کے سحر انگیز لمحات سے گزرتے ہوئے اسے یہ معرفت حاصل ہوتی ہے کہ محبوب کی جس پرفسوں شبیہ کی جستجو میں اس نے ایک عمر بتا دی وہ تو اس کے اندر جگمگا رہی تھی۔ خارج میں موجود جس فرد کی چاہت میں وہ چاک گریباں پھرتا رہا وہ فقط انسانی شکل میں ایک سراب ناتمام تھا۔ اس کے تخیل نے جو

تصویر قلب کے قرطاس پر سجائی تھی اس کا حقیقی دنیا میں وجود ممکن ہی نہیں۔ یہ ادراک نہ صرف ناکامی کے احساس پر منتج ہوتا ہے بلکہ یہ خیال بھی ہستی کی تہوں میں سرایت کر جاتا ہے کہ فطرت نے ایک فریب دکھا کر اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیا ہے۔ لیکن اس تمام تر واردات کے دوران محبت کرنے والے فرد کی ماہیٔت قلب واقع ہو جاتی ہے۔ اب یہ اس کا نصیب کہ کائناتی سطح کے اس تجربے کے بعد وہ غم جاناں سے غم جہان کی طرف رخ کرتا ہے یا اپنی ہی ذات کی محدودیت میں فنا ہو جاتا ہے۔ قدرت اسے محدودیت سے لامحدودیت کی طرف سفر کرنے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے۔ ایک فرد کے بجائے پوری نسل انسانی کی محبت میں غرق ہو جانا بھی اس کے اختیار میں آ جاتا ہے اور عشق حقیقی کی منزل بھی اسے آوازیں دینے لگتی ہے۔ کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں جنہیں اس تمام تجربے سے جڑی اذیتیں عزیز ہو جاتی ہیں اور وہ اس تجربے کی بازیافت کے لیے بیقرار ہو جاتا ہے۔ عین اس وقت جبکہ ایک نئی کائنات اپنے تمام تر جمال کے ساتھ اسے اپنی جانب بلا رہی ہوتی ہے، وہ اس سے منہ پھیر لیتا ہے اور ایک بار پھر محبت کے بلیک ہول میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ یہاں سے ان کی زندگی ایک سفر ناتمام اور جستجوئے لاحاصل کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور وہ اذیتوں کے ایک دائمی چکر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ناکامی محبت سے سمجھوتہ نہیں کرتے اور بار بار اس امید پر بلیک ہول کا سفر کرتے ہیں کہ شاید اس بار اندر جگمگاتی شبیہ مجسم شکل میں مل جائے۔ وہ شکست تسلیم کرنے کے بجائے ایک دائروی سفر میں عمر بتا دیتے ہیں۔ انا کے گھوڑے پر بیٹھ کر وہ بلیک ہول کی دیواروں سے ٹکرا تے اور چور چور ہوتے رہتے ہیں لیکن ہار نہیں مانتے اور منزل کی لاحاصل تلاش میں اپنی ہستی کو جذبوں کی صلیب پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ جستجو اور جذبوں کے دو رنگوں میں گندھی فطرت انسان کو کہاں تک لے جاتی ہے، اسے جاننے کے لیے تو عمر خضر چاہیئے لیکن تھکن سے چور چور ہونے کے باوجود اس کا تاریخ کی سیڑھیاں پھلانگتے رہنے کا عزم بھی قابل دید ہے۔ ذات کے اندر موجود کائنات ہو یا خارج میں پھیلی وسعتیں، نسل انسانی حقیقت کی جستجو میں مگن ہے۔ لاکھوں سالوں کے دوران اربوں ناکام محبتیں بھی سد راہ نہیں بن پائیں۔ یہی عزم اور استقلال ہے جو انسان کو دیگر مخلوق سے ممیز کرتا ہے۔

Leave a Reply

Top