You are here
Home > اسپیشل اسٹوریز > لڑکوں کا روپ دھار کر حجام کی دکان چلانے والی باہمت بہنیں

لڑکوں کا روپ دھار کر حجام کی دکان چلانے والی باہمت بہنیں

” >

دو بھارتی بہنوں جیوتی کمار اور اس کی بہن نیہا کمار گزشتہ چار برس سے اپنا حلیہ اور نام بدل کر اپنے بیمار والد کی دکان پر حجامت کا کام کرکے پورے کنبے کا پیٹ پال رہی ہیں۔ آج جیوتی کی عمر 18 اور نیہا کی عمر 16 برس ہوچکی ہیں

لیکن دونوں بہنیں گزشتہ چار برس سے بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے بنواری تولہ میں حجامت کی دکان کو کامیابی سے چلارہی ہیں۔ 2014 میں ان کے والد فالج کے شکار ہوکر بستر سے لگے تو دونوں بیٹیوں نے ہمت کرکے دکان سنبھالی اور ان کی عمر صرف 13 اور 11 برس تھی۔ بیماری کے فوراً بعد دکان بند ہوگئی لیکن جلد ہی گھر میں فاقے ہونے لگے۔ اس کے بعد دونوں بیٹیوں نے دکان جانا شروع کردیا لیکن لڑکیاں ہونے کی وجہ سے گاہک ان سے کتراتے تھے۔ اس کے بعد جیوتی اور نیہا نے پہلے اپنے بال چھوٹے کروائے، لڑکوں کا لباس پہنا اور یہاں تک کہ نام بھی لڑکوں والے رکھ لیے۔ لڑکیوں کے مطابق انہوں نے آواز بھی بھاری کرلی اور لڑکوں جیسے بال بنا کر کام شروع کیا اور اگر ایسا نہیں کرتیں تو فاقوں سے موت یقینی تھی۔ دیپک اور راجو ان لڑکیوں نے اپنے نام دیپک اور راجو رکھے ہیں اور دونوں مل کر روزانہ 400 روپے کمالیتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ اور تعلیم کے اخراجات آسانی سے ادا ہورہے ہیں جبکہ والد کا علاج بھی جاری ہے۔ گاؤں کے بعض افراد انہیں تنگ کرتے ہیں لیکن وہ لاپرواہ ہوکر اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ چار سال تک دونوں نے اپنی شناخت چھپائی لیکن اب لوگ ان کے راز سے واقف ہوتے جارہے ہیں۔ جیوتی کمار نے بتایا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتیں اور بہت اعتماد کے ساتھ اپنا کام کرتی ہیں۔ ان دونوں باہمت لڑکیوں کی کہانی سامنے آنے کے بعد بھارت اور دنیا بھر سے ان کی خدمت و بہادری کو سراہا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Top