You are here
Home > پا کستا ن > اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دیا ہے مگر عورت اس سے محروم کیوں ؟ ایک خصوصی تحریر

اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دیا ہے مگر عورت اس سے محروم کیوں ؟ ایک خصوصی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک)مولوی صاحب: یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں ۔؟؟کیا عورت انسان نہیں، کیا اسکے حقوق نہیں؟تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں، مگر پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ ۔؟؟جی مولوی صاحب ۔!!یہ بتاؤ کہ تم ایک بس میں کہیں جانے کے لئے سوار ہوئے،

بس والے کو کرایہ دیا، ٹکٹ لی، سیٹ پر بیٹھے، سفر شروع ہوا۔کیا بس والا تمہیں منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں، کسی جنگل، کسی ویرانے میں اتارنے کا حق رکھتا ہے ۔؟؟ بالکل نہیں۔ ٹھیک ! اب یہ بتاؤ کہ اگر تم رستے میں کہیں اترنا چاہو تو کیا تمہیں اس کا حق حاصل ہے؟بالکل ہے، میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں۔کیوں؟ وجہ ۔؟؟وجہ یہ مولوی صاحب کہ وہ مجھ سے کرایہ لے چکا ہے، لہذا منزل سے پہلے کہیں نہیں اتار سکتا، اور میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں وہ مجھے نہیں روک سکتا اس لئے کہ اس کا کام کرائے کے ساتھ تھا جو وہ مجھ سے لے چکا ہے۔ بالکل ٹھیک ۔!! اب ایک اور بات بتاؤ ۔؟؟تم ایک مزدور کو لے کر آئے ایک دن کے کام کے لئے، اس نے کام شروع کیا، اینٹیں بھگوئیں، سیمنٹ بنایا، دیوار شروع کی، اور آٹھ دس اینٹیں لگا کر کام چھوڑ کر گھر کو چل دیا، تمہارا رد عمل کیا ہوگا ۔؟؟میں اسے نہیں جانے دوں گا، کام پورا کرے گا تو ہی اسے چھٹی ملے گی ۔!!اچھا اور اگر تم اسے کام کے درمیان میں فارغ کرنا چاہو تو ۔؟؟مجھے اس کی اجرت دینی ہوگی، اجرت دینے کے بعد میں اسے کسی بھی وقت فارغ کرسکتا ہوں۔بالکل ٹھیک ۔! اب اپنے سوال کا جواب سنو۔ دنیا میں جس قدر بھی معاملات ہوتے ہیں ان میں ایک فریق رقم خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دوسرا اس رقم کے بدلے میں خدمت کرنے والا۔ دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے والے کا اختیار دوسرے سے زیادہ ہوتا ہے۔

کوئی معاملہ طے ہونے کے وقت تو دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہے، لیکن معاملہ طے ہوجانے کے بعد رقم خرچ کرنے والا فرد تو واجبات کی ادائیگی کے بعد خدمت کرنے والے کو فارغ کرسکتا ہے، مگر خدمت فراہم کرنے والا فریق درمیان میں کام چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔اگر رقم کے بدلے خدمت فراہم کرنے والے فریق کو اسطرح کا اختیار دے دیا جائے تو مزدور دوپہر کو ہی کام چھوڑ کر گھر چلے جائیں، ملازم عین ڈیوٹی کے درمیان غائب ہوجائیں، مالک مکان مہینے کے درمیان ہی کرائے دار کو گھر سے نکال دیں، درزی آپ کا سوٹ آدھا سلا اور آدھا کٹا ہوا آپ کے حوالے کرکے باقی کام کرنے سے انکار کردے، نائی آپ کے آدھے سر کی ٹنڈ کرکے آپ کو دوکان سے باہر نکال دے، دنیا کا سب نظام تتر بتر ہوجائے گا۔ کچھ سمجھے مسٹر ۔؟؟ہاں ہاں مولوی صاحب سمجھ رہا ہوں مگر میں تو وہ طلاق والی بات ۔!!وہی سمجھا رہا ہوں، سنو ۔!!ایک مرد اور ایک عورت میں جب نکاح کا پاکیزہ، محبت اور اعتماد والا رشتہ ہوتا ہے تو یہ کوئی کاروباری یا وقتی معاملہ نہیں ہوتا، یہ دلوں کا سودا، اور ساری زندگی کا سودا ہے، مگر اس میں بھی اسلام ہمیں کچھ اصول اور ضوابط دیتا ہے۔اس معاملے اور معاہدے میں ایک فریق مرد ہے، اسلام اس کے اوپر اس کی بیوی کا سارا خرچ، کھانا پینا، رہن سہن، علاج معالجہ، کپڑا زیور، لین دین، اور زندگی کی ہر ضرورت کا بوجھ ڈالتا ہے،اب اس عورت کی ساری زندگی کی ہر ذمہ داری اس مرد پر ہے،یہی اس کی حفاظت اور عزت کا ذمہ دار ہے،

یہی اس کی ہر ضرورت کا مسئول ہے،یہاں تک کہ اس عورت کے مرنے کے بعد اس کے کفن دفن کا بندوبست بھی اسی مرد کو کرنا ہے اور مرد کے مرنے کی صورت میں اس مرد کی بہت سی وراثت بھی اسی عورت کو ملنی ہے۔ان دونوں میاں بیوی سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ یوں تو دونوں ہی کے ہیں، مگر اسلام ان بچوں کی مکمل مالی ذمہ داری بھی صرف اور صرف مرد پر ڈالتا ہے، ان بچوں کی رہائش، کھانا پینا، کپڑے، علاج معالجہ، تعلیم اور کھیل کے تمام مالی اخراجات بھی مرد اور صرف مرد کے ذمہ ہیں۔اسلام عورت کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد رکھتا ہے۔ان سب ذمہ داریوں سے پہلے، عقد نکاح کے وقت ہی مرد نے حق مہر کے عنوان سے ایک بھاری رقم بھی عورت کو ادا کرنی ہے۔ اس سب کے علاوہ اسلام مرد کو اس کی بیوی کے بارے میں حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، وہ اسے “من قتل دون عرضه فهو شهيد” کی خوش خبری سنا کر اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کے لئے جان تک دے دینے کی ترغیب دیتا ہے،اور “حتي اللقمة ترفعها الي في امرأتك” کہہ کر اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے پر بھی ثواب کی نوید سناتا ہے۔وہ اسے “اتقوا الله في النساء” کہہ کر بیوی کو تنگ کرنے، ستانے، بلا وجہ مارنے، دھمکانے اور پریشان کرنے پر اللہ کی ناراضگی اور عذاب کی وعید سناتا ہے تو “خيركم خيركم لاهله وانا خيركم لاهلي” کہہ کر گھر والوں کو محبت، پیار، سکون دینے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے

اور انہیں جائز حد میں رہ کر خوش رکھنے پر اللہ کی رضا کی نوید سناتا اور ایسے لوگوں کو بہترین انسان قرار دیتا ہے۔مرد پر اس قدر ذمہ داریاں عائد کرنے کے بعد اسلام بیوی پر صرف اپنے شوہر کی خدمت، اطاعت، اس کے ساتھ وفا داری، اس کے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔مرد اور عورت کے اس معاہدے میں عورت کی ساری زندگی کی ہر مالی ذمہ داری مرد پر ہے، تو تم خود بتاؤ کہ طلاقکا حق ان دونوں میں سے کس کے پاس ہونا چاہئے؟ویسے ہونا تو مرد کے پاس ہی چاہیئے لیکن،،،ویسے اگر عورت کو بھی یہ حق دے دیا جائے تو آخر اس میں حرج کیا ہے؟حرج کیا ہے ۔؟؟ سنو پھر ۔۔۔ فرض کرو تم نے کسی خوبصورت لڑکی کا رشتہ پسند کیا، رشتہ بھیجا، بات چلی، رشتہ طے ہوگیا، انہوں نے ایک لاکھ مہر کا مطالبہ کیا، تم نے منظور کیا، نکاح ہوگیا، تم نے جونہی مہر اس کے حوالے کیا،اس نے کہا “میں تمہیں طلاق دیتی ہوں”طلاق، طلاق، طلاق ۔۔۔ پھر شام کو وہ کسی اور سے نکاح کرتی ہے،اس سے مہر وصول کرکے تیسرے، پھر چوتھے، تو تمہارے دل پر کیا بیتے گی مسٹر ۔؟؟ اوہ بس کریں مولوی صاحب، آپ نے تو میرے ہوش اڑا دئیے، یہ تو بہت خوفناک بات ہے۔صرف یہی نہیں مسٹر، اس سے آگے چلو، اب جو مرد کھلے دل سے بیوی پر اپنا مال جان دل سب کچھ لٹاتا ہے، اس کے نخرے اٹھاتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنی سمجھتا ہے، اگر اسکے دل میں یہ خوف پیدا ہوجائے کہ یہ کسی بھی وقت اسے لات مار کر کسی دوسرے آشیانے کو روانہ ہوسکتی ہے تو وہ اسے گندم کا ایک دانہ بھی دیتے وقت سو مرتبہ سوچے گا، اور صرف اس مرد کی نہیں بلکہ اس عورت کی زندگی بھی ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گی ۔!!سمجھ گیا سمجھ گیا، انتہائی خوفناکبہت ہی خطرناک سچویشن ۔!!

مگر ایک بات اور مولوی صاحب، کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے اور اب تو بہت سے گھرانوں میں ہورہا ہے کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ نہ تو انصاف کرتا ہے اور نہ اس کی جان چھوڑتا ہے،اس صورت میں کیا کیا جائے ۔؟دیکھو مسٹر ۔! ان تمام مسائل کا حل اور مکمل حل اسلامی نطام ہے، وہی اسلامی نظام جس کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے تم جیسے لوگ چوبیس گھنٹے پھرتیاں دکھاتے رہتے ہو ۔ اگر مکمل طور پر اسلامی نظام قائم ہو ہر طرف اللّٰہﷻ اور اسکے رسولﷺ کے فرامین کی عزت، اہمیت اور بالادستی ہو تو سب لوگوں میں اللّٰہﷻ کا خوف، تقوی، نیکی کا شوق اور برائی سے دوری کا احساس پیدا ہوگا اور یہی وہ چیزیں ہیں جو ہر سطح پر ظلم، زیادتی اور گناہ کو روکنے کے لئے وہ کردار ادا کرتی ہیں جو پولیس، فوج اور عدالت بھی نہیں کرسکتی، مگر افسوس کہ تم لوگ پوری توانائی اسی خوف خدا اور دینداری کو ملیامیٹ کرنے پر صرف کرتے ہو، اپنے آشیانے کو خود آگ لگاتے ہو اور پھر اسے بجھانے کے لئے دوڑے دوڑے ہمارے پاس آتے ہو، اپنے بچوں کو اللّٰہﷻ، رسولﷺ، قرآن، دین اسلام کا سبق دینے کی بجائے فلموں اور ڈراموں کا سبق دیتے ہو اور جب وہ اس سبق پر عمل کرتے ہوئے تمہیں جوتے لگاتے ہیں تو روتے روتے ہمارے پاس آکر تعویذوں کی درخواست کرتے ہو۔سن میرے مسٹر بھائی، اگر مکمل طور پر صحیح معنوں میں اسلامی نظام نافذ ہو تو اول تو ایسے واقعات پیش آئیں گے ہی نہیں، اگر اکا دکا ایسا ہو بھی جائے تو بیوی فورا اسلامی عدالت میں جاکر قاضی کو شوہر کی زیادتی کی شکایت کرے گی اور قاضی سالوں تک اس مقدمے کو لٹکانے یا وکیلوں کے ہاتھوں اس کی کھال اتروانے کے بجائے دونوں کا مؤقف سن کر فوری طور پر عورت کو اس کے شوہر سے اسکا حق دلوائے گا،اگر شوہر کسی صورت اس کا حق نہیں دیتا یا دینے پر قادر ہی نہیں ہے، تو اس سے عورت کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر وہ طلاق بھی نہیں دیتا، تو قاضی اسے جیل بھجوا دےگا، پولیس والوں کے چھتر کھائے گا، تنہائی اور بے بسی کا مزہ چکھے گا تو خود ہی دوسرے کی بے بسی کا احساس پیدا ہوگا، ورنہ عذاب میں مبتلا رہے گا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы