You are here
Home > خبریں > پاکستان > اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔ اسد عمر کے استعفی کے پیچھے دراصل کیا وجہ نکلی؟ نامور صحافی نے اندر کی خبر بریک کردی

اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔ اسد عمر کے استعفی کے پیچھے دراصل کیا وجہ نکلی؟ نامور صحافی نے اندر کی خبر بریک کردی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی و تجزیہ کار خاور گھمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے علاوہ پارٹی میں اس سیکشن کی حمایت بھی اسد عمر کی تبدیل کی ایک وجہ ہے جو جہانگیر ترین کے خلاف ہے جبکہ یہ تبدیلی صرف اسد عمر تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ ناصرف

کابینہ بلکہ پنجاب میں بھی مزید تبدیلیاں ہوں گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خاور گھمن نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ موجودہ حکومت کی مایوس کن کارکردگی سب کے سامنے عیاں ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور افراط زر دوہرا ہندسہ چھونے تک پہنچ گیا تھا، گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کے باثع غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی 40 سے 50 فیصد آبادی کیلئے شدید مشکلات پیدا ہوتی جا رہی تھیں اور اس سب کی ذمہ داری وفاق کو ہی لینا پڑتی ہے کیونکہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کا عمل اسے ہی کرنا ہوتا ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا عمر ایوب کو وزارت خزانہ کا قلمدان دیا رہا ہے کیونکہ وہ مشرف دور میں اس بات کا تجریہ بھی رکھتے ہیں اور وزارت خزانہ میں کام بھی کر چکے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی دو دن پہلے عمر ایوب نے دنیا نیوز کے پروگرام میں صحافی کامران شاہد کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ناصرف ان کی خبروں کی تردید کی تھی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ میں اس میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا لیکن سیاست میں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی چیز ممکن ہوتی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ وزارت توانائی بھی مایوس کن ہے تو خاور گھمن نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ وزیر توانائی غلام سرور خان کے حوالے سے کافی خبریں کئی ہفتوں سے چل رہی ہیں کہ ان سے وزارت نہیں سنبھل پا رہی اسی جو اصلاحاتی ایجنڈا موجودہ حکومت نے لانا تھا اس کی کوئی سمت نظر نہیں آ رہی تھی، میری اطلاع کے مطابق صرف اسد عمر نہیں بلکہ وفاقی کابینہ کے اندر مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس پر نیوز

اینکر نے سوال کیا کہ کیا یہ تبدیلیاں وفاقی کابینہ تک رہیں گی یا پنجاب تک بھی آئیں گی؟ تو خاور گھمن نے کہا کہ میرے خیال میں تبدیلیاں ناصرف پنجاب بلکہ خیبرپختونخواہ میں بھی تبدیلی ہو گی کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں گورننس نظر آ رہی ہے اور نا ہی خیبرپختونخواہ میں جبکہ خیبرپختونخواہ کے چند سینئر وزراءنے کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ان کو اپنے وزیراعلیٰ کیخلاف تحفظات سے آگاہ کیا ۔ خاور گھمن سے سوال کیا گیا کہ اسد عمر کی تبدیلی کی بنیادی وجہ معیشت کی صورتحال ہے لیکن پارٹی میں تقسیم بھی ہے اور ہم نے دیکھا کہ گورنر ہاﺅس پنجاب میں پریس کانفرنس ہوئی جس میں جہانگیر ترین کو نشانہ بنایا گیا، اسد عمر بھی اس گروپ کی حمایت کرتے ہیں، کہیں اس معاملے کا تعلق تو نہیں تبدیلی کیساتھ؟ خاور گھمن نے کہا کہ ’بالکل، ایک سیکشن پارٹی میں واضح طو رر یہ بات کر رہا ہے اور واضح عندیہ دے رہا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پچھلے ہفتے دس دن سے جہانگیر خان ترین پارٹی میٹنگز میں بھی شریک ہو رہے ہیں اور حکومتی مختلف ملاقاتوں میں بھی بیٹھتے ہیں، تین چار دن پہلے بھی یہ خبر آئی تھی کہ عمران خان کیساتھ جہانگیر ترین کی میٹنگ ہوئی اور اس کی تصاویر بھی شائع کی گئیں، میٹنگ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ وہ ملک میں زراعت اور معاشی ایجنڈے کے حوالے سے بات کرتے رہے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ماضی میں وزراءجو کچھ بھی کرتے تھے، وزیراعظم ان کی وزارتیں تبدیل نہیں کرتے تھے، اسد عمر وزیراعظم کے سب سے اہم کھلاڑی تصور کئے جاتے تھے، آج کے فیصلے کے بعد یہ تمام لوگ جان لیں کہ جو کہتے تھے عمران خان فیصلہ سازی میں روائتی کام کر رہے ہیں اور بس حکومت کو چلاتے رہیں گے، وہ غلط ہیں اور انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہرگز طور پر روائتی کام نہیں کریں گے بلکہ جو کارکردگی نہیں دکھائے گا اسے نکال دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы