You are here
Home > کالمز > مکتوب امریکہ > لسے دا کی زور محمد نس جانا یا رونا:پاکستان کے ساتھ ’’ہینڈ ‘‘ ہو گیا ہے اور یہ ‘‘ہینڈ’’ دورہ واشنگٹن سے پہلے طے پا چکا تھا۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر پر امریکہ میں مقیم خاتون کالم نگا ر کی چبھتی ہوئی تحریر

لسے دا کی زور محمد نس جانا یا رونا:پاکستان کے ساتھ ’’ہینڈ ‘‘ ہو گیا ہے اور یہ ‘‘ہینڈ’’ دورہ واشنگٹن سے پہلے طے پا چکا تھا۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر پر امریکہ میں مقیم خاتون کالم نگا ر کی چبھتی ہوئی تحریر

اینٹ کا جواب پتھر سے تب دو گے جب گھروں میں قید کشمیری سب ایک ایک کر کے بھوکے پیاسے مر جائیں گے؟ لفظوں کی شطرنج سے کھیلتے 72برس بیت گئے لیکن کشمیر آزاد ہونے کی بجائے مزید پھنس گیا ہے۔کشمیریوں کو گھروں میں قید ہوئے تیرہ روز گزر گئے ہیں۔ نسل کشی کا

خاموش راستہ کرفیو ہے۔ مودی نے ظلم کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔ نت خیر منگاں کشمیر میں تیری دعا نہ کوئی ہور منگدی۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور ہم ہیں کہ ابھی تک ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔ میاں محمد بخش نے ہمارے حال پر ہی کہا تھا شاید ‘‘ لسے دا کی زور محمد نس جانا یا رونا‘‘۔۔۔ لیکن اب رونے والے بھی نہیں رہے۔ رونے والے کو جذباتی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ غیر جذباتی حکومتوں کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ایک عام شہری کشمیر کے لئے جذباتی ہو تو اس سے بھی کہا جاتا ہے کہ کیا جنگ کریں؟ اگر یہ کام ایک عام شہری نے ہی کرنا ہے تو فوجی کمانڈ اور وزارت عظمیٰ بھی ساتھ دیدیں پھر عوام سے سوال کریں۔ پاکستان 72 برس کا ہو چکا لیکن عوام کا کام رونا اور حکمرانوں کا کام رولنا ہی رہا۔ مودی ٹرمپ ملی بھگت کا اندازہ واشنگٹن دورہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باڈی لینگوئج سے ظاہر ہو چکا تھا جب پاکستانی قیادتوں کی تعریف و توصیف اور اکیس توپوں کی سلامی دی جا رہی تھی۔ انڈین حکومت کی جانب سے ان کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے کشمیر میں گذشتہ ایک ہفتے سے غیر

معمولی لاک ڈاؤن جاری ہے۔کرفیو کے باعث مظلوم کشمیری بھوک پیاس بیماری کا شکار ہیں۔ دنیا کشمیر کو غیر سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھے۔ انسانی جانوں کے ساتھ ظلم کی سیاہ رات کو ہیومن رائٹس کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر جنوبی ایشیا نے کہا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے جانا ہو گا اور بھارتی فوج کو سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں نقل وحمل، ذرائع ابلاغ پر پابندی ہے، مقبوضہ وادی میں لوگوں کو علاج کی سہولتیں بھی میسر نہیں، بھارتی فورسز 80 کی دہائی سے لوگوں کو قتل ، لاپتہ کرنے میں ملوث ہیں ، عالمی قوانین بنیادی حقوق کی معطلی کی اجازت نہیں دیتے، بھارتی فوج کو سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لگائے گئے کرفیو کو آج تیرہ روز مکمل ہو گئے ہیں جس کے باعث کشمیریوں کے پاس گھر میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت ادویات کی بھی قلت ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔کشمیریوں کے خون میں شہادت رچی بسی ہے۔ کرفیو توڑنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ نو لاکھ قابض بھارتی افواج کے

کرفیو کے باوجود کشمیری عوام کا سڑ کوں پر نکل کر احتجاج کرنا مودی کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے، کشمیروں کی جرأت کو سلام پیش کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ 72 برس سے جہاد کرنے والو مجاہد و غا زیو آزادی کی لڑائی تم نے خود ہی لڑنی ہے۔ نصرت و فتح تمہارا مقدر ہو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ظلم کی یہ سیاہ رات بھی ختم ہونے کو ہے۔ پاکستان دعائوں اور محبتوں کے سوا دے بھی کیا سکتا ہے۔ دل جب پھٹنے لگے تو ایوانوں سے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے کہ ‘‘ کیا جنگ کریں ؟پاکستان کو جنگ کا خوف ہی تو تھا جس کو مودی ملعون نے پاکستان کی کمزوری سمجھ لیا اور کشمیر پر مکمل قابض ہو بیٹھا۔ جنگ کی دھمکی اور اینٹ پتھر کی کہانیاں سناتے نہیں کہ جب کچھ کرنے کا عزم کر لیا جائے تو دشمن پر رعب و دبدبہ طاری ہو جاتا ہے۔ ابھی تک دشمن ڈٹا ہوا ہے کہ وہ جان چکا تھاکہ جنگ نام ہے تباہی کا اور یہ تباہی پاکستان افورڈ نہیں کر سکتا بلکہ اس خطہ کے ساتھ منسلک کوئی ملک بھی پاکستان کو یہ راستہ اختیار نہیں کرنے دے گا۔ چین سے اُمید تھی وہ بھی سی پیک منصوبے کے ٹھپ ہونے سے ناراض بیٹھا ہے۔ مسلم دنیا الا ماشا اللہ بھارت اور امریکہ کو اپنا مائی باپ سمجھتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ’’ہینڈ ‘‘ ہو گیا ہے اور یہ ‘‘ہینڈ’’ دورہ واشنگٹن سے پہلے طے پا چکا تھا۔ جہاں تک پاکستانیوں کا تعلق ہے تو ‘‘ لسے داکی زور محمد نس جانا یا رونا۔۔۔ سو رو رہے ہیں۔۔۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы