You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > سنا ہے کہ آپ لوگوں پر بڑی رحمت و شفاعت کی خوشخبریاں بانٹ رہے ہیں، باز آ جائیں ورنہ سخت سزا دونگا ۔۔۔ ایک نامور عالم دین کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟ اسلامی تاریخ کا ایک ورق ملاحظہ کیجیے

سنا ہے کہ آپ لوگوں پر بڑی رحمت و شفاعت کی خوشخبریاں بانٹ رہے ہیں، باز آ جائیں ورنہ سخت سزا دونگا ۔۔۔ ایک نامور عالم دین کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟ اسلامی تاریخ کا ایک ورق ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈسک)ابن تیمیہ ایک مجاہد فطرت سخت مزاج تصور کئے جاتے تھے،مذہب میں ذرا برابر رعایت کے قائل نہ تھے، اگر کوئی عمل میں ذرا برابر نرمی برت جاتا ابن تیمیہ اس کے لئے ننگی تلوار بن جاتے۔اپنے وقت کے فقیہہ اور قاضی تھے لہذا بہت سے لوگوں کو سزائیں بھی دلوائیں۔ان کے دور میں

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔ ہی عالم دین امام مغرب خواجہ ابوالحسن شازلی ہوئے ہیں۔آپ انتہائی نرم مزاج اور در گذر کی فطرت کے مالک تھے۔ایک بار ابن تیمیہ نے خواجہ شازلی کو لکھ بھیجا کہ سنا ہے کہ آپ لوگوں پر بڑی رحمت و شفاعت کی خوشخبریاں بانٹ رہے ہیں،معافی اور در گذر کا سبق پڑھا رہے ہیں،باز آجائیںورنہ میں آپ کا محاسبہ کروں گا اور آپ کو سخت سزا دوں گا۔امام شازلی چونکہ بڑے خوش مزاج تھے ،امام ابن تیمیہ کا پیغام سن کر مسکرا دیئے اور جواب میں لکھ بھیجا ،اے امام محدثین،میں تو اپنے سے کچھ بھی نہیں کہتا البتہ آپ کو ایک حدیث لکھ بھیجتا ہوں ،اس کی صحت و سند کے ساتھ مجھے بتایئے کہ یہ حدیث ٹھیک ہے اور اگریہ ٹھیک ہے تو پھر آپ اپنا اعتراض واپس لیجئے گا اور مجھے امن میں رہنے دیجئے گا۔یہ ایک متفق علیہ،صحیح،مستند،مشہور اور حسن حدیث تھی جس کے مطابق ایک صحابی حضورؐ کے پاس تشریف لائے اور کہا یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے بڑی محبت ہے ،میں نے نہ پوری نماز پڑھی ہے ،روزے بھی بس پورے پورے ہیں،فالتو کوئی کام نہیں کیا ہوا،زیادہ عبادت نہیں کی ہوئی مگر ایک بات کا دعویٰ ہے کہ مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہے۔آپ نے فرمایا ،اچھا ! پھر تو قیامت کے روز لوگ انہی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن کے ساتھ انہیں بہت محبت ہے ‘‘۔ یہ حدیث ابن تیمیہ کے پاس گئی ، ابن تیمیہ دور حاضر کے عالموں کی طرح ضدی عالم نہیں تھے ،

انہوں نے حدیث کی صحت پرکھ لی کہ صحیح اور شاندار ہے توانہوں نے خواجہ حسن شازلی سے معذرت کر لی ایک اور اسلامی سال شروع ہو چکا۔ ہر سال مسائل میں اضافہ ہوا اور اس برس کا اسلامی سال کشمیریوں کی کربلا لے کر آیا ہے۔ لیکن پاکستانی کیا کریں ان کے اپنے مسائل کیا کم ہیں ؟ دنیاداری کے جھنجٹ سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے ؟کربلا والوں سے محبت کا دعویٰ بہت بڑا دعویٰ ہے ، کشمیری دعویداروں کی مدد کے منتظر ہیں۔ پاکستانی اپنے دین اور روایات سے دور نکل آئے ہیں۔پاکستان میں الا ما شا اللہ لوگ حسد جلن اور مقابلہ کی دوڑ کے سبب ڈیپریشن اور احساس کمتری و برتری کے امراض کا شدید شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ پیسے والوں کے نفسیاتی مسائل کی جھلک امیر خواتین کی کمیٹی اور پارٹیوں کی تقریبات سے مل جائے گی۔ صاحب لوگوں کے امراض ان کے تعلقات سے پتہ لگ جاتے ہیں۔پاور اور دولت والے کا کتا بھی بیمار ہو جائے تو عیادت کو پہنچ جاتے ہیں اور پاور دولت زوال پذیر ہو جائے تو اس کی بھلے ماں مر جائے پھر کوئی مفاد پرست اس کی دہلیز پر قدم نہیں رکھے گا۔ خود فرضی اور مفاد پرستی کی بد ترین مثالیں پاکستان میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں۔نیچے رہ گیا متوسط طبقہ تو الا ماشا اللہ وہ دوسروں کا منہ لال دیکھ کر اپنے منہ پر طمانچہ مار رہا ہے۔کم کوئی بھی نہیں کسی سے۔پاکستان میں اب ہر چیز ہر رشتہ ہر تعلق ہرمسئلہ سیاسی ہو گیا ہے۔ لوگوں کی سوچ اور ذہنیت سیاسی ہو چکی ہے۔

یقین مانیں بیرون ملک تارکین وطن میں تبدیلی نہیں آئی لیکن پاکستان بہت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ مثبت نہیں منفی تبدیلی آئی ہے۔ مروت‘ رواداری‘ شرم حیا‘ اخلاص اخلاق‘ اعمال‘ رسوم و رواج و روایات‘ ادب لحاظ‘ برداشت‘ صبر‘ شکر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ نہ رشتوں میں وہ اداسی رہی نہ جدائی کا وہ احساس پہلے جیسا رہا۔ نہ کسی کے پاس فرصت رہی نہ وقت نہ محبت میں وہ چاہت رہی۔ پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والی اس منفی تبدیلی کو تارکین وطن زیادہ شدت سے محسوس کر سکتے ہیں۔ سال دو یا برسوں بعد وطن لوٹنے والے حیران پریشان ہوجاتے ہیں اور پرانے ماحول تلاش کرتے ہیں۔ پہلے دیار غیر سے پلٹنے والے کو ملنے کے لئے رشتے دار احباب دور دراز سے پہنچ جاتے تھے۔ اب قریب بسنے والے بھی چاہتے ہیں کہ انہیں جا کر ملا جائے وہ بھی اگر وہ گھر میں موجود ہوں۔ جس کو دیکھو کہتا ہے مصروف ہوں۔لیکن مصروفیت کیا ہے وضاحت نہیں کر پاتے۔ بچوں میں اپنے ماں باپ کے لئے وہ چاہت نہیں رہی جو گیمز اور ٹی وی میں ہے اور بڑے اپنی دنیاداری کے حسد و جلن کے سیاپے میں وقت و پیسہ کمانے اور لگانے میں غرق ہیں۔ پاکستان سیاسی اعتبار سے ہی نہیں سماجی و اخلاقی اعتبار سے بھی سیاسی ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادات و صدقات کے باوجود لوگ بے سکونی کا شکار ہیں۔ یہ وہ امراض ہیں جن کوحکومتیں بھی تبدیل نہیں کر سکتیں۔گورے امریکہ جیسے ملک میں فیملی سسٹم کی طرف لوٹ رہے ہیں اور دیسی معاشرہ میں فرنگی کلچر رائج ہو رہا ہے۔ اوپر سے حوروں کے نقشے کھینچنے والے الا ما شا اللہ مولوی حضرات نوجوان نسل کو والدین کے قریب کرنے کی بجائے دور کر رہے ہیں۔

فرائض و واجبات کا شعور نہیں لیکن بہو کو یہ سبق مولوی پڑھا دیتا ہے کہ ساس سسر سے الگ رہو۔ شوہر کا خیال رکھنا بھی تمہاری ذمہ داری نہیں وغیرہ۔یہ ان لڑکیوں کو سبق پڑھائے جا رہے ہیں جو اپنے بچوں کو پالنے سے بھی بیزار ہیں۔ سمارٹ فون ، ٹی وی ڈرامے ، فیشن بازی اور بازار کے پکوان ان کے شوق ہیں ۔سماجی اسلامی و اخلاقی اعتبار سے پاکستان بگڑ رہا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں کے حالات بھی ناگفتہ بہ ہیں۔ بہت سے سماجی و اسلامی ایشوز ہیں جو شائع نہیں ہو پاتے میں اپنے فیس بک اور ویب سائٹ پر ویڈیوز آپ لوڈ کر دیتی ہوں۔ اب تو گھر وں سے بھاگنے والیاں بھی اپنی عمر نہیں دیکھتیں۔ پہلے شوہر پردیس اور بال بچہ وطن میں ہوتا تھا۔ اب بال بچہ مغرب کی شہریت لینے کے لئے بھیج دیا جاتا ہے اور گھر والا کسی دوسرے ملک میں بیٹھا ہوتاہے۔ پاکستان میں سرکاری ملازم دو سال پانچ سال کی چھٹی لے کر مغربی شہریت لینے پہنچے ہوتے ہیں اور ساتھ پاکستان سے سرکاری تنخواہ بھی مسلسل وصول کرتے ہیں۔ اس تمام ایکسر سائز میں بھی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شوہر ادھر ادھر منہ مار لیتے ہیں اور بیوی پردیس میں بچوں کے جھنجٹ میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔جوان اولاد کی نافرمانی کے پس پشت متعدد اسباب ہوتے ہیں۔ طلاق اور منشیات میں اضافہ بھی تشویشناک صورت اختیار کر رہا ہے۔نوجوان نسل ملک وملت کے مستقبل کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے، جس پر ملک وملت کی ترقی وتنزلی موقوف ہے، یہی اپنی قوم اور اپنے دین وملت کے لیے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دے سکتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوان کی تباہی، قوم کی تباہی ہے، اگر نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوجائے تو قوم سے راہِ راست پر رہنے کی توقع بے سود ہے اور نوجوان نسل کی تنزلی کا سبب اس کے اپنے گھر والے ہیں۔ علماء ، والدین، سرپرست اور اساتذہ کے ساتھ حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی بربادی کو روکنے اور ان کے اخلاق وکردارکو بہتر بنانے کے لئے مواقع فراہم کریں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس کے صدر نے شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” ہمارے نوجوان کردار سے عاری ہوچکے ہیں اس لئے ہمیں جنگ سے دوچار ہونا پڑا ”۔ اخلاق و کردار ہی ہیں جو انسانی نسل کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، جب کوئی قوم اخلاق سے محروم ہوجاتی ہے تو کوئی طاقت اسے ترقی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔آج کے پاکستان میں نہ وہ چاہت رہی نہ وہ راحت باقی رہی ، سب کچھ بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے۔اوپر سے نیچے تک بس اک دوڑ لگی ہوئی ہے جس کا نہ کوئی اینڈ ہے نہ سرا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы