You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > کارل مارکس کے مکان کے سامنے ….. طیبہ ضیاء چیمہ کی ایک ایسی تحریر جو کہ ہم سب سب کو ضرور پڑھنی چاہئے

کارل مارکس کے مکان کے سامنے ….. طیبہ ضیاء چیمہ کی ایک ایسی تحریر جو کہ ہم سب سب کو ضرور پڑھنی چاہئے

کھڑی سوچ رہی تھی کہ کارل مارکس کا تو مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کارل مارکس ایک سماجی سائنسداں تھا۔ جارج اسٹیفن سن، آر کے میڈس، آئزک نیوٹن، آئن اسٹائن یا اسٹیفن ہیکس نے بہت کچھ ایجادات کیں اور ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن انسانیت کی فلاح کے لیے ایجادات اور دریافتیں کیں۔ بجلی ایجاد کرنے والے یا ریل گاڑی ایجاد کرنے والے کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا، پھر ہم ریل گاڑی پرکیوں سفر کرتے ہیں یا بجلی کیوں استعمال کرتے ہیں؟ کارل مارکس ٹرپل ایم اے اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود کرایے کے مکان میں رہے، کوئی بینک بیلنس تھا اور نہ اثاثہ۔ عدم علاج کی وجہ سے دو بچے جان سے جاتے رہے۔ ان کا سالا جرمنی کا وزیر تھا لیکن انھوں نے اس سے کوئی مدد لینے سے انکار کردیا۔ مارکس کی شریک حیات جینی کا کہنا تھا کہ میں نے مارکس سے نہیں بلکہ ان کے نظریے سے شادی کی ہے۔ جب انھوں نے طبقاتی نظام کے خلاف تھیوری پیش کی۔کارل مارکس کیمونزم کے بارے میں غلط ہو سکتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں اْس کے زیادہ تر خیالات صحیح تھے۔ مارکس کو اِس بات کی پوری سمجھ تھی کہ سرمایہ دارانہ نظام کس طرح اپنے ہی سماجی ڈھانچے، متوسط طبقے کا طرز زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔

مارکس جب یہ کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام متوسط طبقے کو ایک ایسی صورتحال کی جانب دھکیل دے گا جہاں وہ سخت دباؤ کا شکار مزدور طبقے کی طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ مارکس نے جو پیش گوئی کی تھی ہم آج کل ایسی ہی صورتحال سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔کارل مارکس مذہب کے خلاف تھا جبکہ علامہ اقبال اسلام کی نشاۃ ثانیہ چاہتے تھے۔سوویت یونین ٹوٹنے سے مارکسزم ختم نہیں ہوا یہ آئیڈیالوجی ہے اس میں ذہنوں کو مسخرکرنے کی جو قوت ہے وہ ابھی تک برقرار ہے۔ کارل مارکس کے نظریات پر جاگیردارانہ معاشرے والے ممالک میں انقلاب آیا۔کارل مارکس 1818ء میں جرمنی کے شہر ترئیر Trier میں ایک قانون دان گھرانے میں پیدا ہوئے۔مارکس نے پہلے تو بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں قانون پڑھا۔فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی حا صل کی۔ علم قانون اْس کا پسندیدہ مضمون تھا۔ لیکن اْس نے فلسفہ اور تاریخ میں بھی گہری دلچسپی لی۔ سرمایہ داری کے ترقی کر جانے سے یورپ کے بہت سے ملکوں میں جاگیرداری رشتوں کی باقیات بہت زیادہ ناقابلِ برداشت ہو گئی تھیں۔ مشینوں کے ظہور اور سرمایہ دار نہ صنعت کی بڑے پیمانے پر ترقی نے کسانوں اور دستکاروں کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ نیم جاگیردارانہ پسماندہ، معاشی اور سیاسی طور پر غیر متحدہ جرمنی میں ایک بورژوا جمہوری انقلاب پل رہا تھا جہاں مو جود جاگیرداری اور نئی پیدا شدہ سرمایہ داری، دونوں کے ہاتھوں لوگ دوہرے جبر کاشکا ر تھے۔کسانوں کے حالات کی تحقیق کرنے کا نتیجہ تھا جس نے اْسے خالص سیاسیات سے معاشی تعلقات کی طرف متوجہ کیا اور اس طرح اسے سوشلزم کی راہ دکھائی۔مارکس کی معاشی اور سماجی مسائل سے بھرپور لگن نہ صرف جرمنی کے عوام کی تکلیف دہ بد حالی اور محرومی دیکھ کر جاگی تھی بلکہ نہایت ترقی یافتہ سر مائے دار ملکوں،برطانیہ اور فرانس کے حالات و واقعات سے بھی ابھری تھی۔نئے طبقہ یعنی پرولتاریہ کی جدوجہد میں شمولیت نے مارکس کو اکسایا کہ وہ نسبتاً نئے سماجی معاشی مسائل میں گہری دلچسپی لے۔ یوں اْس کی دلچسپی سوشلسٹ ادب میں بڑھی جو ان دنوں برطانیہ اور فرانس میں شائع ہوتا تھا۔مارکس نے بیرون ملک جانے کافیصلہ کر لیا۔ مقصدیہ تھاکہ باہر سے ایک انقلابی پرچہ شائع کیا جائے جو سرحدوں کے باہر سے جرمنی کے اندر بھیجاجائے۔ مارکس کے خیال میں اس پر چے کامقصد بے رحمانہ تنقید تھا۔۔مارکس نے اپنے فلسفے کی بنیاد سائنس اور خصوصاً قدرتی سائنس کے مجموعی مواد پر رکھی۔مارکس پیرس چلا گیا۔ فرانس کے دار الحکومت کی زندگی نے اس کو نئی آگہی اور سیاسی تجربے سے مالامال کر دیا۔ وہ شہر کے نواح میں مزدوروں کی بستیوں میں اکثر جا یا کرتا۔ اس نے انجمن عدل (یہ جرمن مزدوروں اور کاریگروں کی ایک خفیہ جماعت تھی) کے لیڈروں اورفرانس کی بہت سی خفیہ تنظیموں کے رہنماؤں سے بھی رابطہ قائم کیا۔ مارکسزم نے سائنس کی شکل اختیار کر لی اور انقلابی عمل سے قریب تعلق قائم کر لیا۔

بلجیم گورنمنٹ بڑھتی ہوئی انقلابی تحریک کو دیکھ کر ڈر گئی اور مارکس کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا۔کارل مارکس سمجھتے تھے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اپنے اندر یہ خامی موجود ہے کہ یہ مسلسل بڑے پیمانے پر معاشی اتارچڑھاؤ پیدا کرتا ہے اور آخر کار اپنے آپ ہی کو ختم کر لے گا۔ اِس عظیم فلسفی، معیشت دان اور انقلابی کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام شدید طور پر ایک غیر مستحکم نظام ہے۔ غلامی کا نظام اورجاگیردارانہ معاشرے کئی صدیوں تک قائم رہے۔ اِن کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ نظام جس چیز کو چھوتا ہے اسے بدل دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں صرف برانڈ ہی تیزی سے تبدیل نہیں ہوتے بلکہ کمپنیاں اور صنعتیں بھی تخلیقی اور اچھوتے عمل کے نتیجے میں بنتی اور ختم ہوتی ہیں جب کہ انسانی رشتے بھی تحلیل اور نئی شکل میں دوبارہ بنتے ہیں۔انہیں اس بات پر اعتماد تھا کہ ایک عوامی انقلاب آ کر رہے گا اور جس کے نتیجے میں کمیونسٹ نظام آ جائے گا جو زیادہ پیداوار کرنے والا اور زیادہ انسان دوست نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے نہ صرف دنیا بلکہ پاکستان کو بھی بے حد نقصان پہنچایا ہے۔فلسفہ اشتراکیت کے بانی کارل مارکس کے مکان کو دیکھنے کے لئے دور دراز سے سیاح آتے ہیں۔ ہم جرمنی کی نامور بون یونیورسٹی دیکھنے نکلے تو قریب ٹریر نامی ٹائون میں کارل مارکس کا مکان جو بطور میوزیم مشہور ہے کیوں کر نظر اندا ز کر سکتے تھے۔ کارل مارکس ان آفاقی شخصیات میں سے ایک ہے جس نے وقت کا رخ پھیرا۔ تاریخ کا دھارا بدلا۔ خیالات کی دنیا میں ہلچل بپا کردی۔ مغربی دنیا کو امیر غریب کے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы