You are here
Home > کالمز > دیس پردیس > “گو گو ” جمہوریت کا حسن(08 مارچ 2017)

“گو گو ” جمہوریت کا حسن(08 مارچ 2017)

پاکستان سپر لیگ 2 کے فائنل کی اختتامی تقریب لاہورپی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی جب خطاب کیلئے اسٹیج پر آئے تو اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین نے گو نواز گو کے نعرے لگادیئے، نجم سیٹھی کو اپنی بات مکمل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا پیش آیا تاہم وہ کچھ دیر خطاب کے بعد واپس چلے گئے۔ لیکن ان کی وجہ سے میاں نواز شریف کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔اور نجم سیٹھی کے دل کی آرزو پوری ہوئی۔ گوگو کا نعرہ مختلف جگہوں پر مختلف معنی دیتا ہے۔ کچھ ممالک میں حوصلہ افزائی کیلیے گوگو کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ جیسے ریس کے کھلاڑی کو تیز دوڑنے پر ابھارنے کے لیے گو گو کہا جاتا ہے۔جبکہ بعض جگہوں پر گوگو کا نعرہ مخالفت میں لگایا جاتا ہے۔گو نواز گو کے رد عمل میں رو عمران رو کا نعرہ سامنے آیا، جو نواز شریف کے حامی عمران خان کے خلاف لگاتے ہیں۔وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے نعرے ہر دور حکومت میں لگتے چلے آرہے ہیں ، ، موجودہ وزیر اعظم بھی اس کے عادی ہو چکے ہیں لہذا دوران میچ سیاسی نعرے جمہوریت کا حسن تصور کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے نظر انداز کر دئیے البتہ نعروں کے سبب نجم سیٹھی کو اپنے مقام کا کھل کر ادراک ہو جانا چاہئیے۔ نجم سیٹھی کو مائیک دینے ضرورت کیا تھی ؟ نجم سیٹھی ایک صحافی ہیں ، ان کا ماضی حال صحافت اور سیاست کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکومت نے اپنے وقت ٹپانے کے لئیے ہر ایسے لوگوں کو بھی اپنا رہبر مشیر اور باڈی گارڈ بنا رکھا ہے جن کی نظریہ پاکستان اور مسلم لیگی سوچ سے کبھی کوئی وابستگی رہی نہ ہمدردی اور تعلق رہا۔ لیکن نواز حکومت بھی نظریاتی اور مسلم لیگی نہیں رہی لہذا نجم سیٹھی جیسوں کو اپنا پیشوا بنا رکھا ہے۔ نجم سیٹھی نہ مایئک پکڑتے اور نہ وزیر اعظم کے خلاف نعروں کی ابتدا ہوتی۔ نجم سیٹھی سب حکومتوں کے ہیں لیکن کسی کے بھی نہیں۔ لاہور میچ کی کامیابی کا تمام کریڈٹ عوام کوجاتا ہے۔ عوام کے جوش و جذبہ نے دہشت گردوں کے عزائم کو منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان جیت گیا۔ نجم سیٹھی حکومت کی چاپلوسی مایئک پر کرنے کی بجائے گھر جا کر کر کرتے ۔ وفاق بھی چاہلوسی کو نواز نے کی عادی ہے سو بایئں بازو والے مفاد پرست بھی عیش کر رہے ہیں۔ عمران خان تنہائی کا شکار ہیں۔ میچ کی کامیابی کے بعد مزید سڑے سڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اللہ صبر دے۔ ریحام بیگم بھی میرا کی طرح کیمرہ میں جلوہ افروز ہونے کے لئیے پہنچی ہوئی تھی۔ سستی شہرت بھی بڑی ظالم شے ہے ،۔ میرا کا بھائی شیخ رشید بھی سستی شہرت کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ لیکن موقع شناس ہے۔ لیڈر کے بر خلاف میچ دیکھنے پہنچ گئے۔ عوام کا درجہ حرارت محسوس کر لیتے ہیں۔ پر امن میچ پر لاہور سمیت پوراپاکستان مبارکباد کا مستحق ہے۔ سیاستدان بھی ڈھیٹ ہو چکے ہیں۔ گو گو کو سیاسی جوش و ولولہ کا حصہ تصور کرنے لگے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سیہون دھماکے پر شدید احتجاج کیا گیا، گو پی پی گو کے نعرے لگائے، اپوزیشن کے مائیک بند اور بات کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی تقریر کے بعد اپوزیشن کو بات کرنے کا موقع نہ ملا تو ارکان نے ایوان کو مچھلی بازار بنادیا، لیکن حکومت نے حزب اختلاف کو سیریس نہ لیا اور شور شرابے میں ہی لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرلیا۔پاکستان کے مقبول نعرے “پاکستان زندہ باد “روٹی کپڑا اور مکان “گو زرداری گو “گو مشرف گو “گو نواز گو ” رو عمران رو ہیں “۔۔۔۔مایئْس ون فارمولہ پر ہل چل محسوس کی جا سکتی ہے البتہ سیاسی اور ملکی حکمتوں کے پیش نظر گو نواز گو کا نعرہ مزید تعطل کا شکار بھی دکھائی دے رہا ہے۔

Leave a Reply

Top
Игровые автоматы