You are here
Home > منتخب کالم نگار > ہارون الرشید > مصدقہ بریکنگ نیوز : الیکشن سے قبل الیکشن جیسی صورتحال ۔۔۔۔۔پنجاب (ن) لیگ کے ہاتھ سے نکل گیا ، ایک دو نہیں چار نامور سیاسی گھرانوں کی شریف برادران کو الوداع کہنے کی خبر آگئی

مصدقہ بریکنگ نیوز : الیکشن سے قبل الیکشن جیسی صورتحال ۔۔۔۔۔پنجاب (ن) لیگ کے ہاتھ سے نکل گیا ، ایک دو نہیں چار نامور سیاسی گھرانوں کی شریف برادران کو الوداع کہنے کی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) فی الحال اتنی سی بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ نون لیگ کا شیرازہ بکھرنے کا وقت آ پہنچا۔ اقتدار کی چھائوں میں‘ ادنیٰ مفادات سے جڑے‘ ”قابل انتخاب‘‘ امیدواروں کو 2013ء میں شریف خاندان کی چھتری تلے سمیٹا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت نے

نامور کالم نگار ہارون رشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔‘ ایک گہری مایوسی پیدا کر دی تھی۔ تحریک انصاف میں نظم نام کی اگر کوئی چیز ہوتی‘ اس کی قیادت سیاسی حرکیات سے اگر آشنا ہوتی تو صورتِ حال مختلف بھی ہو سکتی تھی۔ زرداری صاحب اور ان کے ساتھیوں کو دھن دولت ہی سے فرصت نہ تھی۔ کاروبارِ حکومت کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہ تھا۔ پے در پے عمران خان نے غلطیاں کیں اور شریف خاندان کے لیے راہ ہموار کر دی۔ آج حالات مختلف ہیں۔ ذہنی طور پر 1990ء کی دہائی میں بسر کرنے والی نون لیگی قیادت نے دو تین بڑی غلطیاں کیں۔ بدلے ہوئے ماحول کا وہ ادراک نہ کر سکے۔ شعبدہ بازی کی اسی راہ پہ گامزن رہے‘ ملک میں جس کی گنجائش اب کم ہے۔ میڈیا کی آزادی نے عام آدمی کو اتنا شعور اور احساس ضرور بخش دیا ہے کہ عمل اور دعوئوں میں کچھ نہ کچھ تمیز کر سکے۔ موسم گرما کی آمد کے ساتھ بجلی کے بحران میں اضافے نے امیدیں بکھیر کے رکھ دیں۔ عام طور پر ادراک نہیں کیا جاتا کہ پختون خوا میں پٹوار کے ظلم سے نجات‘ پولیس اور سول سروس کے علاوہ سکولوں اور ہسپتالوں کی بہتری نے‘ عوامی نفسیات پہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ نوازشریف چیختے رہے کہ ایک ارب درخت نہیں لگائے گئے۔

عالمی اداروں نے مگر اس دعوے کی توثیق کی۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ ڈیڑھ لاکھ بچے نجی اداروں سے سرکاری سکولوں میں منتقل ہوئے۔ کسی نہ کسی حد تک عام لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ سول اداروں کی اہمیت کیا ہے۔ اب وہ جانتے ہیں کہ ایک آزاد پولیس اور سول سروس کیونکر ان کی مدد کر سکتی‘ ان کے زخموں کا مرہم بن سکتی ہے۔ نون لیگ کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ عسکری قیادت اور عدلیہ کے ساتھ اس نے غیر ضروری محاذ آرائی کی۔ نواز شریف کی برہمی یہاں تک پہنچی کہ: جو ہماری راہ میں حائل ہو گا‘ نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ پاناما کیس سے نمٹنے میں خاندان کا اندازِ فکر بدترین تھا۔ اندھیرے میں وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ لندن میں اربوں روپے کی جائیدادوں کا انکشاف ججوں یا جنرلوں نے نہیں کیا تھا۔ عام لوگ عملیت پسند ہوتے ہیں۔ 2013ء میں عمران خان کو اس لیے بھی عام ووٹر نے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا کہ موزوں امیدوار پیش نہ کر کے انہوں نے ایک خیالی جنت آباد کرنے کی کوشش کی۔ ”قابل انتخاب‘‘ لیڈر اور بھی سیانے ہوتے ہیں۔ وہ فتح یاب ہونے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب وہ شریف خاندان سے بیزار ہیں۔

نون لیگ سے الگ ہونے والے یہ آخری لوگ نہیں جو پیر کے دن منظرِ عام پہ آئے۔ ملتان کے باخبر اخبار نویس یہ کہتے ہیں کہ جہانیاں کے افتخار نذیر‘ اوچ شریف کے علی حسن گیلانی‘ خان پور کے شیخ فیاض الحسن‘ دائرہ دین پناہ کے ملک سلطان ہنجرا‘ ملتان کے سکندر حیات بوسن اور جھنگ کے نجم سیال بھی جلد ہی اپنا راستہ الگ کر دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں‘ جنوبی پنجاب سے نون لیگ کا تقریباً مکمل طور پہ صفایا ہو جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا۔ عمران خان اگر کسی بڑی حماقت کے مرتکب نہ ہوئے تو نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب میں حکومت بنا سکیں گے۔ انہیں پنجاب میں برپا تبدیلی کا فائدہ پختون خوا میں بھی ہو گا اور ظاہر ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں بھی۔ بلوچستان کی کئی اہم شخصیات آئندہ چند دنوں کے اندر پی ٹی آئی سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ خاموشی کے ساتھ‘ ایک بڑے گروپ سے عمران خان کے مذاکرات جاری ہیں۔ شہری سندھ میں مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار اور ان کے حریف گروپ کی بساط الٹ دی ہے۔ سندھ اسمبلی میں ان کے حامی ارکان کی تعداد 15 اور قومی اسمبلی میں پانچ ہو چکی۔

مصطفیٰ کمال کے بارے میں اخبار نویسوں کے اندازے یکسر غلط ثابت ہوئے۔ وہ غیر معمولی جرأت اور قوتِ عمل کے آدمی ہیں۔ الطاف حسین نے اپنا کوئی جانشین ابھرنے نہ دیا۔ دوسری پارٹیوں میں بھی جمہوریت نہیں مگر مشاورت کا عمل‘ کسی نہ کسی حد تک جاری رہتا ہے۔ موصوف نے ایک سفاک آمر کی طرح اپنی پارٹی کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ مصطفیٰ کمال اپنی افتادِ طبع کی وجہ سے بچ نکلے۔ اس وقت وہ ان سے الگ ہوئے جب یہ بہت مشکل تھا۔ مارچ 2016ء میں زندگی خطرے میں ڈال کر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت انیس قائم خانی کے سوا کوئی ان کے ساتھ نہ تھا۔ سیاسی پنڈت اس اقدام کو ان کا پاگل پن قرار دیتے تھے۔ اس ”پاگل پن‘‘ کے ساتھ کراچی میں الطاف حسین کے خوف کا سحر انہوں نے توڑ دیا ہے۔ملک بدل رہا ہے؛ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اپنی تاریخ سے کوئی سبق ہم نے سیکھا ہے یا نہیں۔ اب بھی محض یہ اقتدار کی کشمکش ہے یا قومی ادارے تعمیر کرنے کی طرف بالآخر ہم مائل ہیں؟(ش س م)

Leave a Reply

Top